مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. مسند عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنهما
حدیث نمبر: 6434
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: إِنَّا نُكْرِي، فَهَلْ لَنَا مِنْ حَجٍّ؟! قَالَ: أَلَيْسَ تَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ، وَتَأْتُونَ الْمُعَرَّفَ، وَتَرْمُونَ الْجِمَارَ، وَتَحْلِقُونَ رُءُوسَكُمْ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلَى , فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الَّذِي سَأَلْتَنِي، فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِهَذِهِ الْآيَةِ: لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ سورة البقرة آية 198، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَنْتُمْ حُجَّاجٌ".
ابوامامہ تیمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم لوگ کر ایہ پر چیزیں لیتے دیتے ہیں کیا ہمارا حج ہو جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم بیت اللہ کا طواف نہیں کرتے؟ کیا تم میدان عرفات نہیں جاتے؟ کیا تم جمرات کی رمی اور حلق نہیں کرتے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں؟ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی ایک آدمی نے آ کر یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اس بات میں کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر جواب دیا کہ تم حاجی ہو۔ [مسند احمد/مسند المكثرين من الصحابة/حدیث: 6434]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو أمامة التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي