🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
(صبح صادق کے قریب سونے کی روایت)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " مَا أَلْفَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرَ الآخِرَ قَطُّ عِنْدِي إِلا نَائِمًا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں اپنے ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صبح صادق کے قریب سوتے ہوئے ہی پایا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري: 1133، ومسلم: 742، وابن حبان فى ”صحيحه“: 2637، وأبو يعلى الموصلي فى ”مسنده“:4662، 4835»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام مكثر
👤←👥سعد بن إبراهيم القرشي، أبو إسحاق، أبو إبراهيم
Newسعد بن إبراهيم القرشي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة
👤←👥مسعر بن كدام العامري، أبو سلمة
Newمسعر بن كدام العامري ← سعد بن إبراهيم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← مسعر بن كدام العامري
ثقة حافظ حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1133
ما ألفاه السحر عندي إلا نائما
صحيح مسلم
1731
ما ألفى رسول الله السحر الأعلى في بيتي أو عندي إلا نائما
سنن أبي داود
1318
ما ألفاه السحر عندي إلا نائما
سنن ابن ماجه
1197
ما كنت ألفي النبي من آخر الليل إلا وهو نائم عندي
مسندالحميدي
189
ما ألفى النبي صلى الله عليه وسلم السحر الآخر قط عندي إلا نائما
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 189 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:189
فائدہ:
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے آخری معمول کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد اور وتر سے فارغ ہوکر سحری کے آخری وقت میں تھوڑی دیر کے لیے سو جاتے تھے، اور یہ اکثریت پر محمول ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 189]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1318
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1318]
1318. اردو حاشیہ: توضیح: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سونا قیام اللیل کے بعد راحت کے لیے ہوتا تھا۔ بعض اوقات محض لیٹنا ہوتا اور بعض اوقات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو فرماتے۔ اور ممکن ہے کہ یہ لمبی راتوں کی بات ہو نہ کہ چھوٹی راتوں کی۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں کہ قیام اللیل کے بعد آرام کرنا، بدن کو راحت دیتا اور جاگنے کی مشقت دورکرتا ہے علاوہ ازیں جس کو نحیف بھی نہیں ہونے دیتا۔ بخلاف صبح تک جاگتے رہنے کے، اس سے کمزوری ہو جاتی ہے۔ (عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1318]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1197
وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ۱؎۔ وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1197]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول نصف رات کے بعد تہجد شروع کرکے فجر سےگھنٹہ دو گھنٹہ پہلے فارغ ہوجانے کا تھا۔
اس لئے صبح صادق کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہوتے تھے۔
لیکن بہت دفعہ رات کے آخر تک بھی نماز میں مشغول رہتے تھے جیسے کہ دوسری روایات میں مذکور ہے۔

(2)
ہرشخص اپنی سہولت کے مطابق رات کے کسی حصے میں تہجد ادا کرسکتا ہے۔
اور اس کا وقت بھی کم وبیش ہوسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1197]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1731
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے آخری حصہ میں اپنے گھر میں یا اپنے پاس سوئے ہوئے پایا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے آخری حصہ میں، میرے گھر میں یا میرے پاس سوئے ہوئے پایا۔) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1731]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مَااَلْفٰي:
نہیں پایا۔
(2)
اَلسَّحَرُ الْأَعْليٰ:
رات کا آخری حصہ،
صبح کے قریب کا وقت۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی نماز سے صبح سے پہلے فارغ ہو جاتے تو لیٹ جاتے تھے اور بعض دفعہ سو بھی جاتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1731]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1133
1133. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر شب، یعنی بوقت سحر سوئے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1133]
حدیث حاشیہ:
عادت مبارکہ تھی کہ تہجد سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبل فجر سحرکے وقت تھوڑی دیر آرام فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ یہی بیان فرما رہی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1133]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1133
1133. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر شب، یعنی بوقت سحر سوئے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1133]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے قبل ازیں حضرت داود ؑ کی شب بیداری کو بیان فرمایا تھا۔
ان احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو اس کے مطابق ثابت کیا ہے کہ مرغ عام طور پر آدھی رات کو آواز دیتا ہے۔
یہ اس کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔
اس سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات تک محو استراحت رہتے، اس کے بعد مرغ کی آواز سن کر اٹھ کھڑے ہوتے اور نماز میں مصروف رہتے، پھر سحری کے وقت تک سوئے رہتے۔
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت داود ؑ کے عمل میں یکسانیت ثابت ہوئی اور بوقت سحر سونا بھی ثابت ہوا، لیکن رمضان المبارک میں آپ کا یہ معمول نہیں ہوتا تھا، کیونکہ آپ رات کے آخری حصے میں سحری تناول فرمانے میں مصروف ہو جاتے۔
اس سے فراغت کے بعد صبح کی نماز ادا فرماتے، جیسا کہ آئندہ عنوان میں اس کی وضاحت ہو گی۔
(فتح الباري: 25/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1133]