یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
126. . باب : ما جاء في الضجعة بعد الوتر وبعد ركعتي الفجر
باب: وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1197
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" مَا كُنْتُ أُلْفِي أَوْ أَلْقَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَّا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي"، قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي: بَعْدَ الْوِتْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی ۱؎۔ وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1197]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رات کے آخری حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنے ہاں سوئے ہوئے پاتی تھی۔“ وکیع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”یعنی وتر کے بعد۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1197]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17715)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التہجد 7 (1133)، صحیح مسلم/المسافرین 17 (742)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1318)، مسند احمد (6/137، 161، 205، 270) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1133
| ما ألفاه السحر عندي إلا نائما |
صحيح مسلم |
1731
| ما ألفى رسول الله السحر الأعلى في بيتي أو عندي إلا نائما |
سنن أبي داود |
1318
| ما ألفاه السحر عندي إلا نائما |
سنن ابن ماجه |
1197
| ما كنت ألفي النبي من آخر الليل إلا وهو نائم عندي |
مسندالحميدي |
189
| ما ألفى النبي صلى الله عليه وسلم السحر الآخر قط عندي إلا نائما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1197 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1197
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول نصف رات کے بعد تہجد شروع کرکے فجر سےگھنٹہ دو گھنٹہ پہلے فارغ ہوجانے کا تھا۔
اس لئے صبح صادق کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہوتے تھے۔
لیکن بہت دفعہ رات کے آخر تک بھی نماز میں مشغول رہتے تھے جیسے کہ دوسری روایات میں مذکور ہے۔
(2)
ہرشخص اپنی سہولت کے مطابق رات کے کسی حصے میں تہجد ادا کرسکتا ہے۔
اور اس کا وقت بھی کم وبیش ہوسکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول نصف رات کے بعد تہجد شروع کرکے فجر سےگھنٹہ دو گھنٹہ پہلے فارغ ہوجانے کا تھا۔
اس لئے صبح صادق کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہوتے تھے۔
لیکن بہت دفعہ رات کے آخر تک بھی نماز میں مشغول رہتے تھے جیسے کہ دوسری روایات میں مذکور ہے۔
(2)
ہرشخص اپنی سہولت کے مطابق رات کے کسی حصے میں تہجد ادا کرسکتا ہے۔
اور اس کا وقت بھی کم وبیش ہوسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1197]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1318
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تہجد پڑھنے کے وقت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1318]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1318]
1318. اردو حاشیہ: توضیح: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سونا قیام اللیل کے بعد راحت کے لیے ہوتا تھا۔ بعض اوقات محض لیٹنا ہوتا اور بعض اوقات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گفتگو فرماتے۔ اور ممکن ہے کہ یہ لمبی راتوں کی بات ہو نہ کہ چھوٹی راتوں کی۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں کہ قیام اللیل کے بعد آرام کرنا، بدن کو راحت دیتا اور جاگنے کی مشقت دورکرتا ہے علاوہ ازیں جس کو نحیف بھی نہیں ہونے دیتا۔ بخلاف صبح تک جاگتے رہنے کے، اس سے کمزوری ہو جاتی ہے۔ (عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1318]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:189
فائدہ:
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے آخری معمول کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد اور وتر سے فارغ ہوکر سحری کے آخری وقت میں تھوڑی دیر کے لیے سو جاتے تھے، اور یہ اکثریت پر محمول ہے۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رات کے آخری معمول کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد اور وتر سے فارغ ہوکر سحری کے آخری وقت میں تھوڑی دیر کے لیے سو جاتے تھے، اور یہ اکثریت پر محمول ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 189]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1731
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے آخری حصہ میں اپنے گھر میں یا اپنے پاس سوئے ہوئے پایا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے آخری حصہ میں، میرے گھر میں یا میرے پاس سوئے ہوئے پایا۔) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1731]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مَااَلْفٰي:
نہیں پایا۔
(2)
اَلسَّحَرُ الْأَعْليٰ:
رات کا آخری حصہ،
صبح کے قریب کا وقت۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی نماز سے صبح سے پہلے فارغ ہو جاتے تو لیٹ جاتے تھے اور بعض دفعہ سو بھی جاتے تھے۔
مفردات الحدیث:
(1)
مَااَلْفٰي:
نہیں پایا۔
(2)
اَلسَّحَرُ الْأَعْليٰ:
رات کا آخری حصہ،
صبح کے قریب کا وقت۔
فوائد ومسائل:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی نماز سے صبح سے پہلے فارغ ہو جاتے تو لیٹ جاتے تھے اور بعض دفعہ سو بھی جاتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1731]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1133
1133. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر شب، یعنی بوقت سحر سوئے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1133]
حدیث حاشیہ:
عادت مبارکہ تھی کہ تہجد سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبل فجر سحرکے وقت تھوڑی دیر آرام فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ یہی بیان فرما رہی ہیں۔
عادت مبارکہ تھی کہ تہجد سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبل فجر سحرکے وقت تھوڑی دیر آرام فرمایا کرتے تھے حضرت عائشہ ؓ یہی بیان فرما رہی ہیں۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1133]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1133
1133. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر شب، یعنی بوقت سحر سوئے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1133]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ نے قبل ازیں حضرت داود ؑ کی شب بیداری کو بیان فرمایا تھا۔
ان احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو اس کے مطابق ثابت کیا ہے کہ مرغ عام طور پر آدھی رات کو آواز دیتا ہے۔
یہ اس کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔
اس سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات تک محو استراحت رہتے، اس کے بعد مرغ کی آواز سن کر اٹھ کھڑے ہوتے اور نماز میں مصروف رہتے، پھر سحری کے وقت تک سوئے رہتے۔
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت داود ؑ کے عمل میں یکسانیت ثابت ہوئی اور بوقت سحر سونا بھی ثابت ہوا، لیکن رمضان المبارک میں آپ کا یہ معمول نہیں ہوتا تھا، کیونکہ آپ رات کے آخری حصے میں سحری تناول فرمانے میں مصروف ہو جاتے۔
اس سے فراغت کے بعد صبح کی نماز ادا فرماتے، جیسا کہ آئندہ عنوان میں اس کی وضاحت ہو گی۔
(فتح الباري: 25/3)
امام بخاری ؒ نے قبل ازیں حضرت داود ؑ کی شب بیداری کو بیان فرمایا تھا۔
ان احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو اس کے مطابق ثابت کیا ہے کہ مرغ عام طور پر آدھی رات کو آواز دیتا ہے۔
یہ اس کی فطرت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔
اس سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصف رات تک محو استراحت رہتے، اس کے بعد مرغ کی آواز سن کر اٹھ کھڑے ہوتے اور نماز میں مصروف رہتے، پھر سحری کے وقت تک سوئے رہتے۔
اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور حضرت داود ؑ کے عمل میں یکسانیت ثابت ہوئی اور بوقت سحر سونا بھی ثابت ہوا، لیکن رمضان المبارک میں آپ کا یہ معمول نہیں ہوتا تھا، کیونکہ آپ رات کے آخری حصے میں سحری تناول فرمانے میں مصروف ہو جاتے۔
اس سے فراغت کے بعد صبح کی نماز ادا فرماتے، جیسا کہ آئندہ عنوان میں اس کی وضاحت ہو گی۔
(فتح الباري: 25/3)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1133]
Sunan Ibn Majah Hadith 1197 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق