علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 387
حدیث نمبر: 387
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مزدلفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه: وأخرجه البخاري فى «الحج» برقم: 1674، 4414، ومسلم فى «الحج» برقم: 1287، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 1501 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3858، والنسائي فى «المجتبى» ، برقم: 606، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 1589، 4009،4010، وابن ماجه في «سننه» برقم: 3020، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 1920، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 24032، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 14239»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو أيوب الأنصاري، أبو أيوب | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن يزيد الأوسي، أبو موسى، أبو أمية عبد الله بن يزيد الأوسي ← أبو أيوب الأنصاري | صحابي صغير | |
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري عدي بن ثابت الأنصاري ← عبد الله بن يزيد الأوسي | ثقة رمي بالتشيع | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد يحيى بن سعيد الأنصاري ← عدي بن ثابت الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن سعيد الأنصاري | ثقة حافظ حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4414
| صلى مع رسول الله في حجة الوداع المغرب والعشاء جميعا |
صحيح البخاري |
1674
| جمع في حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة |
صحيح مسلم |
3108
| صلى مع رسول الله في حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة |
سنن النسائى الصغرى |
3029
| جمع بين المغرب والعشاء بجمع |
سنن النسائى الصغرى |
606
| صلى مع رسول الله في حجة الوداع المغرب والعشاء بالمزدلفة جميعا |
سنن ابن ماجه |
3020
| صليت مع رسول الله المغرب والعشاء في حجة الوداع بالمزدلفة |
مسندالحميدي |
387
| صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم المغرب والعشاء بجمع جميعا |
مسند الحمیدی کی حدیث نمبر 387 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:387
فائدہ:
حدیث سے ثابت ہوا کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھنا چاہیے۔
حدیث سے ثابت ہوا کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 387]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 606
مزدلفہ میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے کا بیان۔
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 606]
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 606]
606 ۔ اردو حاشیہ: مغرب کا وقت عرفات میں ہو جاتا ہے مگر شریعت کا حکم ہے کہ مغرب کی نماز مزدلفہ میں پڑھی جائے نہ کہ عرفات میں، اور مزدلفہ پہنچتے پہنچتے لامحالہ عشاء کا وقت ہو جاتا ہے، اس لیے یہ دونوں نمازیں عشاء کے وقت میں اکٹھی پڑھی جاتی ہیں۔ یہ مسئلہ متفق علیہ ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 606]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3029
مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ساتھ پڑھنے کا بیان۔
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3029]
ابوایوب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء دونوں ایک ساتھ پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3029]
اردو حاشہ:
یہ مسئلہ بھی متفقہ ہے کہ مغرب کی نماز عرفات یا راستے میں نہیں پڑھی جائے گی بلکہ مزدلفہ میں پڑھی جائے گی، خواہ رات نصف ہو جائے، البتہ عرفات سے واپسی سورج غروب ہونے کے بعد ہوگی۔
یہ مسئلہ بھی متفقہ ہے کہ مغرب کی نماز عرفات یا راستے میں نہیں پڑھی جائے گی بلکہ مزدلفہ میں پڑھی جائے گی، خواہ رات نصف ہو جائے، البتہ عرفات سے واپسی سورج غروب ہونے کے بعد ہوگی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3029]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1674
1674. حضرت ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃالوداع کے موقع پر مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1674]
حدیث حاشیہ:
مزدلفہ کو جمع کہتے ہیں کیوں کہ وہاں آدم اور حواءجمع ہوئے تھے۔
بعض نے کہا کہ وہاں دو نمازیں جمع کی جاتی ہیں، ابن منذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ مزدلفہ میں دونوں نمازوں کے بیچ میں نفل و سنت نہ پڑھے۔
ابن منذر نے کہا جو کوئی بیچ میں سنت یا نفل پڑھے گا تو اس کا جمع صحیح نہ ہوگا۔
(وحیدی)
حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں:
وَإِنَّمَا جمع بَين الظّهْر وَالْعصر وَبَين الْمغرب وَالْعشَاء لِأَن للنَّاس يَوْمئِذٍ اجتماعا لم يعْهَد فِي غير هَذَا الموطن، وَالْجَمَاعَة الْوَاحِدَة الْمَطْلُوبَة، وَلَا بُد من إِقَامَتهَا فِي مثل هَذَا الْجمع ليراه جَمِيع من هُنَالك وَلَا يَتَيَسَّر اجْتِمَاعهم فِي وَقْتَيْنِ، وَأَيْضًا فَلِأَن للنَّاس اشتغالا بِالذكر وَالدُّعَاء وهما وَظِيفَة هَذَا الْيَوْم ورعاية الْأَوْقَات وَظِيفَة جَمِيع السّنة، وَإِنَّمَا يرجح فِي مثل هَذَا الشَّيْء البديع النَّادِر.ثمَّ ركب حَتَّى أَتَى الْموقف، واستقبل الْقبْلَة، فَلم يزل وَاقِفًا حَتَّى غربت الشَّمْس، وَذَهَبت الصُّفْرَة قَلِيلا، ثمَّ دفع. (حجة اللہ البالغة)
یوم عرفات میں ظہراور عصر کو ملا کر پڑھا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو، اس لیے کہ اس روز ان مقامات مقدسہ میں لوگوں کا ایسا اجتماع ہوتا ہے جو بجز اس مقام کے اور کہیں نہیں ہوتا اور شارع ؑ کو ایک جماعت کا ہونا مطلوب ہے اور ایسے اجتماع میں ایک جماعت کا قائم کرنا ضروری ہے تاکہ سب لوگ اس کو دیکھیں اور دو وقتوں میں سب کا مجتمع ہونا مشکل تھا، نیز اس روز لوگ ذکر اور دعا میں مشغول ہوتے ہیں اور وہ اس روز کا وظیفہ ہیں اور اوقات کی پابندی تمام سال کا وظیفہ ہے اور ایسے وقت میں بدیع اور نادر چیز کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے (نمرہ سے نماز ظہر و عصر سے فارغ ہو کر)
عرفات میں موقف میں تشریف لائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے رہے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوا اور زردی کم ہو گئی پھر وہاں سے مزدلفہ کو لوٹے۔
خلاصہ یہ کہ یہاں ان مقامات پر ان نمازوں کو ملا کر پڑھنا شارع علیہ السلام کو عین محبوب ہے۔
پس جس کام سے محبوب راضی ہوں وہی کام دعویداران محبت کو بھی بذوق و شوق انجام دینا چاہئے۔
مزدلفہ کو جمع کہتے ہیں کیوں کہ وہاں آدم اور حواءجمع ہوئے تھے۔
بعض نے کہا کہ وہاں دو نمازیں جمع کی جاتی ہیں، ابن منذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ مزدلفہ میں دونوں نمازوں کے بیچ میں نفل و سنت نہ پڑھے۔
ابن منذر نے کہا جو کوئی بیچ میں سنت یا نفل پڑھے گا تو اس کا جمع صحیح نہ ہوگا۔
(وحیدی)
حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ فرماتے ہیں:
وَإِنَّمَا جمع بَين الظّهْر وَالْعصر وَبَين الْمغرب وَالْعشَاء لِأَن للنَّاس يَوْمئِذٍ اجتماعا لم يعْهَد فِي غير هَذَا الموطن، وَالْجَمَاعَة الْوَاحِدَة الْمَطْلُوبَة، وَلَا بُد من إِقَامَتهَا فِي مثل هَذَا الْجمع ليراه جَمِيع من هُنَالك وَلَا يَتَيَسَّر اجْتِمَاعهم فِي وَقْتَيْنِ، وَأَيْضًا فَلِأَن للنَّاس اشتغالا بِالذكر وَالدُّعَاء وهما وَظِيفَة هَذَا الْيَوْم ورعاية الْأَوْقَات وَظِيفَة جَمِيع السّنة، وَإِنَّمَا يرجح فِي مثل هَذَا الشَّيْء البديع النَّادِر.ثمَّ ركب حَتَّى أَتَى الْموقف، واستقبل الْقبْلَة، فَلم يزل وَاقِفًا حَتَّى غربت الشَّمْس، وَذَهَبت الصُّفْرَة قَلِيلا، ثمَّ دفع. (حجة اللہ البالغة)
یوم عرفات میں ظہراور عصر کو ملا کر پڑھا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو، اس لیے کہ اس روز ان مقامات مقدسہ میں لوگوں کا ایسا اجتماع ہوتا ہے جو بجز اس مقام کے اور کہیں نہیں ہوتا اور شارع ؑ کو ایک جماعت کا ہونا مطلوب ہے اور ایسے اجتماع میں ایک جماعت کا قائم کرنا ضروری ہے تاکہ سب لوگ اس کو دیکھیں اور دو وقتوں میں سب کا مجتمع ہونا مشکل تھا، نیز اس روز لوگ ذکر اور دعا میں مشغول ہوتے ہیں اور وہ اس روز کا وظیفہ ہیں اور اوقات کی پابندی تمام سال کا وظیفہ ہے اور ایسے وقت میں بدیع اور نادر چیز کو ترجیح دی جاتی ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے (نمرہ سے نماز ظہر و عصر سے فارغ ہو کر)
عرفات میں موقف میں تشریف لائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہیں کھڑے رہے یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوا اور زردی کم ہو گئی پھر وہاں سے مزدلفہ کو لوٹے۔
خلاصہ یہ کہ یہاں ان مقامات پر ان نمازوں کو ملا کر پڑھنا شارع علیہ السلام کو عین محبوب ہے۔
پس جس کام سے محبوب راضی ہوں وہی کام دعویداران محبت کو بھی بذوق و شوق انجام دینا چاہئے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1674]
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 4414
4414. حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں، یعنی ان دونوں کو جمع کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4414]
حدیث حاشیہ:
جملہ احادیث مذکورہ میں کسی نہ کسی طرح سے حجۃ الوداع کا ذکر آیا ہے۔
اس لیے حضرت امام ؒ نے ان احادیث کو یہاں نقل فرمایا جو ان کے کمال اجتہاد کی دلیل ہے۔
ویسے ہرہر حدیث سے بہت سے مسائل کا اثبات ہوتا ہے۔
اسی لیے ان میں اکثر احادیث کئی بابوں کے تحت مذکور ہوئی ہیں جیسا کہ بغور مطالعہ کرنے والے حضرات پر خود روشن ہو سکے گا۔
جملہ احادیث مذکورہ میں کسی نہ کسی طرح سے حجۃ الوداع کا ذکر آیا ہے۔
اس لیے حضرت امام ؒ نے ان احادیث کو یہاں نقل فرمایا جو ان کے کمال اجتہاد کی دلیل ہے۔
ویسے ہرہر حدیث سے بہت سے مسائل کا اثبات ہوتا ہے۔
اسی لیے ان میں اکثر احادیث کئی بابوں کے تحت مذکور ہوئی ہیں جیسا کہ بغور مطالعہ کرنے والے حضرات پر خود روشن ہو سکے گا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4414]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4414
4414. حضرت ابو ایوب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مغرب و عشاء کی نمازیں اکٹھی پڑھی تھیں، یعنی ان دونوں کو جمع کیا تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:4414]
حدیث حاشیہ:
ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو میدان عرفات میں ظہر وعصر جمع تقدیم سے ادا کی جاتی ہیں، یعنی ظہر کے وقت عصر پڑھ لی جاتی ہے اور مزدلفہ میں مغرب اورعشاء جمع تاخیر سے پڑھی جاتی ہیں، یعنی عشاء کے وقت مغرب ادا کی جاتی ہے۔
ایسا کرنا سفر کی وجہ سے نہیں بلکہ مناسک حج سے ہے۔
واضح رہے کہ ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی طرح حجۃ الوداع کا ذکر آیا ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے ان احادیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
ویسے حضرت امام نے ان احادیث سے متعدد مسائل کا استنباط کیا ہے جو امام صاحب کے مجتہد ہونے کی روشن اور واضح دلیل ہے۔
ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو میدان عرفات میں ظہر وعصر جمع تقدیم سے ادا کی جاتی ہیں، یعنی ظہر کے وقت عصر پڑھ لی جاتی ہے اور مزدلفہ میں مغرب اورعشاء جمع تاخیر سے پڑھی جاتی ہیں، یعنی عشاء کے وقت مغرب ادا کی جاتی ہے۔
ایسا کرنا سفر کی وجہ سے نہیں بلکہ مناسک حج سے ہے۔
واضح رہے کہ ان تمام احادیث میں کسی نہ کسی طرح حجۃ الوداع کا ذکر آیا ہے، اس لیے امام بخاری ؒ نے ان احادیث کو یہاں بیان کیا ہے۔
ویسے حضرت امام نے ان احادیث سے متعدد مسائل کا استنباط کیا ہے جو امام صاحب کے مجتہد ہونے کی روشن اور واضح دلیل ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4414]
Musnad al-Humaydi Hadith 387 in Urdu
عبد الله بن يزيد الأوسي ← أبو أيوب الأنصاري