🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
223. باب في اتخاذ المنبر
باب: منبر بنانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1081
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَدَّنَ، قَالَ لَهُ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ: أَلَا أَتَّخِذُ لَكَ مِنْبَرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَجْمَعُ، أَوْ يَحْمِلُ عِظَامَكَ؟ قَالَ:" بَلَى" فَاتَّخَذَ لَهُ مِنْبَرًا مِرْقَاتَيْنِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم (بڑھاپے کی وجہ سے) جب بھاری ہو گیا تو تمیم داری رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے لیے ایک منبر نہ تیار کر دوں جو آپ کی ہڈیوں کو مجتمع رکھے یا اٹھائے رکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، کیوں نہیں!، چنانچہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دو زینوں والا ایک منبر بنا دیا۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7765) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبد العزيز بن أبي رواد المكي
Newعبد العزيز بن أبي رواد المكي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق ربما وهم، ورمي بالإرجاء
👤←👥الضحاك بن مخلد النبيل، أبو عاصم
Newالضحاك بن مخلد النبيل ← عبد العزيز بن أبي رواد المكي
ثقة ثبت
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← الضحاك بن مخلد النبيل
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3583
حن الجذع فأتاه فمسح يده عليه
جامع الترمذي
505
حن الجذع حتى أتاه فالتزمه فسكن
سنن أبي داود
1081
ألا أتخذ لك منبرا يا رسول الله يجمع أو يحمل عظامك قال بلى فاتخذ له منبرا مرقاتين
سنن الدارمي
31
حن الجذع حتى أتاه فمسحه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1081 کے فوائد و مسائل
الشيخ غلام مصطفٰے ظهير امن پوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 1081
فوائد و مسائل:
اس حدیث میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک کے لئے مجازاً «عظام» کا لفظ استعمال کیا ہے۔
اسی لیے محدث البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
«فعلمت منه أنهم كانوا يطلقون العظام، ويريدون البدن كله، من باب إطلاق ‏‏‏‏الجزء وإرادة الكل، كقوله تعالى * (وقرآن الفجر) * أي: صلاة الفجر. ‏‏‏‏فزال الإشكال والحمد لله»
مجھے اس حدیث سے یہ معلوم ہوا ہے کہ عرب لوگ لفظ «عظام» بول کر پورا جسم مراد لیتے ہیں۔ یہ جز سے کُل کو مراد لینے کے قبیل سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» [17-الإسراء:78] یہاں فجر کے قرآن سے مراد نماز فجر ہے۔ الحمد اللہ اشکال زائل ہو گیا ہے۔ [سلسلة الاحاديث الصحيحة للالباني: 313]
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 21]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1081
1081۔ اردو حاشیہ:
اس سے پہلے گزرا کے لکڑی کا یہ منبر ایک غلام نے بنایا تھا اور اس روایت میں ہے کہ تمیم داری نے اسے بنایا، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ان احادیث کی وضاحت کرتے ہوئے پہلی روایت کو زیادہ قوی قرار دیا ہے۔ اور دوسرا احتمال یہ بیان کیا ہے کہ اس کے بنانے میں یہ سارے ہی کسی نہ کسی طریقے سے شریک رہے ہوں۔ علاوہ ازیں اس روایت میں ہے کہ یہ منبر دو سیڑھیوں پر مشتمل تھا جبکہ دوسری روایت میں تین سیڑھیوں کا ذکر ہے، تو بات یہ ہے کہ دو سیڑھیوں کے ذکر کرنے والے راوی نے وہ تیسری سیڑھی شما ر نہیں کی۔ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: [فتح الباري والعون]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1081]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3583
3583. حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنے کے سہارے خطبہ دیا کرتے تھے۔ جب منبر بنایا گیا توآپ اس پر تشریف لے گئے اور تنے نے رونا شروع کردیا۔ آپ اس کے پاس آئے اور اس پر دست شفقت پھیرا۔ عبدالحمید نے کہا: ہمیں عثمان بن عمر نے خبر دی، انھوں نے کہا کہ ہمیں معاذ بن علاء نے نافع سے یہ بیان کیا اور ابو عاصم نے ابن ابورواد کے ذریعے سے، انھوں نے نافع سے، انھوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3583]
حدیث حاشیہ:
حافظ ابن حجر ؒ نے کہا کہ معلوم نہیں یہ عبدالحمید نامی راوی کون ہیں؟ مزی نے کہا کہ یہ عبدبن حمید حافظ مشہور ہیں، مگر میں نے ان کی تفسیر اور مسنددونوں میں یہ حدیث تلاش کی تو مجھ کو نہیں ملی۔
البتہ دارمی نے اس کو نکالا ہے، عثمان بن عمر سے آخر تک اسی اسناد سے۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3583]