🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب صفة وضوء النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ وَقَدْ أَهْرَاقَ الْمَاءَ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَوْرٍ فِيهِ مَاءٌ حَتَّى وَضَعْنَاهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، أَلَا أُرِيكَ كَيْفَ كَانَ يَتَوَضَّأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَأَصْغَى الْإِنَاءَ عَلَى يَدِهِ فَغَسَلَهَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ بِهَا عَلَى الْأُخْرَى، ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي الْإِنَاءِ جَمِيعًا فَأَخَذَ بِهِمَا حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ أَلْقَمَ إِبْهَامَيْهِ مَا أَقْبَلَ مِنْ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفِّهِ الْيُمْنَى قَبْضَةً مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهَا عَلَى نَاصِيَتِهِ فَتَرَكَهَا تَسْتَنُّ عَلَى وَجْهِهِ، ثُمَّ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ وَظُهُورَ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ جَمِيعًا فَأَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَضَرَبَ بِهَا عَلَى رِجْلِهِ وَفِيهَا النَّعْلُ فَفَتَلَهَا بِهَا، ثُمَّ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: وَفِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: وَفِي النَّعْلَيْنِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ شَيْبَةَ، يُشْبِهُ حَدِيثَ عَلِيٍّ لِأَنَّهُ قَالَ فِيهِ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُرَيْجٍ: وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرَّةً وَاحِدَةً، وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ فِيهِ: عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلَاثًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ (برتن میں) داخل کیا (اور پانی لے کر) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ (ملا کر) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار (بھی) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے (دائیں) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے (عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے، آپ استنجاء کر چکے تھے، آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، ہم ایک چھوٹے برتن میں پانی لائے اور آپ کے سامنے رکھ دیا تو آپ نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا تمہیں دکھلاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے وضو کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ انہوں نے برتن کو اپنے ہاتھ پر ٹیڑھا کیا اور ہاتھ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ اس میں ڈالا اور دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھ دھوئے، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے ہی برتن میں ڈالے اور دونوں ہاتھوں سے ایک لپ پانی لیا اور اپنے چہرے پر ڈالا، پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں میں ڈالا یعنی جو حصہ چہرے کی جانب تھا، (اسے بھی دھویا) پھر دوسری بار، پھر تیسری بار ایسے ہی کیا۔ پھر دائیں ہاتھ سے ایک چلو پانی لیا اور اسے پیشانی پر ڈالا اور اسے اپنے چہرے پر بہنے دیا، پھر اپنی دونوں کلائیاں کہنیوں تک دھوئیں تین تین بار، پھر اپنے سر کا مسح کیا اور کانوں کے باہر کا (بھی) پھر اپنے دونوں ہاتھ برتن میں ڈالے اور پانی کی ایک لپ لے کر اپنے پاؤں پر ڈالی اور اس میں (چپل کا سا) جوتا تھا، اپنے پاؤں کو اس پانی کے ساتھ ملا، پھر دوسرے پاؤں کو بھی ایسے ہی۔ عبداللہ خولانی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے کہا: جوتوں سمیت؟! سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جوتوں سمیت! میں نے پھر کہا: جوتے پہنے پہنے ہی؟ میں نے پھر کہا: جوتوں سمیت؟ انہوں نے کہا: (ہاں) جوتوں سمیت۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی شیبہ (شیبہ بن نصاح) سے روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے۔ اس روایت میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے نقل کیا ہے: اور اپنے سر کا ایک بار مسح کیا۔ اور ابن وہب نے یہی روایت ابن جریج سے نقل کی تو کہا: سر کا مسح تین بار کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، تحفة الأشراف (10198)، وحدیث ابن جریج عن شیبة أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 78 (95)، تحفة الأشراف (10075)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/82) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (بتصریح امام ترمذی: امام بخاری نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے)
وضاحت: ۱؎: متن حدیث میں «ففتلها» کا لفظ وارد ہوا ہے جس کے معنی بہت تھوڑی چیز کے ہیں یعنی بہت ہلکا دھویا شیعہ اس حدیث سے ننگے اور کھلے پاؤں پر مسح کی دلیل پکڑتے ہیں، حالانکہ ایک نسخہ میں «ففتلها» کی جگہ «فغسلها» وارد ہوا ہے، نیز یہ حدیث بتصریح امام بخاری ضعيف ہے اس میں کوئی علت خفیہ ہے، بفرض صحت امام خطابی اور ابن القیم نے چند تاویلات کی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
ابن اسحاق صرح بالسماع عند احمد: 1/ 82

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن الأسود الخولاني
Newعبيد الله بن الأسود الخولاني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن طلحة المطلبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن طلحة المطلبي ← عبيد الله بن الأسود الخولاني
ثقة
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن طلحة المطلبي
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن يحيى البكائي، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن يحيى البكائي ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
140
توضأ فغسل وجهه أخذ غرفة من ماء فمضمض بها واستنشق ثم أخذ غرفة من ماء فجعل بها هكذا أضافها إلى يده الأخرى فغسل بهما وجهه ثم أخذ غرفة من ماء فغسل بها يده اليمنى ثم أخذ غرفة من ماء فغسل بها يده اليسرى ثم مسح برأسه ثم أخذ غرفة من ماء فرش على رجله اليمنى
صحيح البخاري
157
توضأ النبي مرة مرة
جامع الترمذي
39
إذا توضأت فخلل بين أصابع يديك ورجليك
جامع الترمذي
42
توضأ مرة مرة
جامع الترمذي
36
مسح برأسه وأذنيه ظاهرهما وباطنهما
سنن أبي داود
141
استنثروا مرتين بالغتين أو ثلاثا
سنن أبي داود
133
يتوضأ فذكر الحديث كله ثلاثا ثلاثا قال ومسح برأسه وأذنيه مسحة واحدة
سنن أبي داود
117
أصغى الإناء على يده فغسلها ثم أدخل يده اليمنى فأفرغ بها على الأخرى ثم غسل كفيه ثم تمضمض واستنثر ثم أدخل يديه في الإناء جميعا فأخذ بهما حفنة من ماء فضرب بها على وجهه ثم ألقم إبهاميه ما أقبل من أذنيه ثم الثانية ثم الثالثة مثل ذلك
سنن أبي داود
138
توضأ مرة مرة
سنن أبي داود
137
اغترف غرفة بيده اليمنى فتمضمض واستنشق ثم أخذ أخرى فجمع بها يديه ثم غسل وجهه ثم أخذ أخرى فغسل بها يده اليمنى ثم أخذ أخرى فغسل بها يده اليسرى ثم قبض قبضة من الماء ثم نفض يده ثم مسح بها رأسه وأذنيه ثم قبض قبضة أخرى من الماء فرش على رجله
سنن النسائى الصغرى
80
توضأ مرة مرة
سنن النسائى الصغرى
102
توضأ رسول الله فغرف غرفة فمضمض واستنشق ثم غرف غرفة فغسل وجهه ثم غرف غرفة فغسل يده اليمنى ثم غرف غرفة فغسل يده اليسرى ثم مسح برأسه وأذنيه باطنهما بالسباحتين وظاهرهما بإبهاميه ثم غرف غرفة فغسل رجله اليمنى ثم غرف غرفة فغسل رجله اليسرى
سنن النسائى الصغرى
101
توضأ فغسل يديه ثم تمضمض واستنشق من غرفة واحدة وغسل وجهه وغسل يديه مرة مرة ومسح برأسه وأذنيه مرة
سنن ابن ماجه
447
إذا قمت إلى الصلاة فأسبغ الوضوء واجعل الماء بين أصابع يديك ورجليك
سنن ابن ماجه
439
مسح أذنيه داخلهما بالسبابتين وخالف إبهاميه إلى ظاهر أذنيه فمسح ظاهرهما وباطنهما
سنن ابن ماجه
403
مضمض واستنشق من غرفة واحدة
سنن ابن ماجه
408
استنثروا مرتين بالغتين أو ثلاثا
سنن ابن ماجه
411
رأيت رسول الله توضأ غرفة غرفة
سنن الدارمي
719
توضأ مرة مرة أو قال مرة مرة
سنن الدارمي
720
توضأ مرة مرة وجمع بين المضمضة والاستنشاق
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 117 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 117
فوائد و مسائل:
➊ یہ وضو ہے جو ہمارے ائمہ اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے اور خود اس کے قائل و فاعل تھے اور ہم بھی اسی پر کاربند ہیں۔ «الحمد لله على ذلك»
➋ اس روایت میں تین بار چہرہ دھو کر مزید ایک بار پانی بہانے کا ذکر آیا ہے۔ یہ بیان جواز کے لیے ہے جو شاید کبھی کبھی کیا گیا۔ راجح اور افضل صرف تین بار ہی ہے۔ نیز چہرے کے ساتھ کانوں کو بھی اندر کی جانب سے صاف کیا جا سکتا ہے۔
➌ جب جوتا کھلی چپل کی مانند ہو تو اسے اتارے بغیر پانی میں ویسے ہی مل لیا جائے تو پاؤں دھل جاتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 117]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 137
پیروں پر پانی چھڑک کر ان پر ہاتھوں سے مسح
«. . . ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُحِبُّونَ أَنْ أُرِيَكُمْ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟" فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَاغْتَرَفَ غَرْفَةً بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَجَمَعَ بِهَا يَدَيْهِ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُمْنَى ثُمَّ أَخَذَ أُخْرَى فَغَسَلَ بِهَا يَدَهُ الْيُسْرَى، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ نَفَضَ يَدَهُ ثُمَّ مَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً أُخْرَى مِنَ الْمَاءِ فَرَشَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى وَفِيهَا النَّعْلُ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدَيْهِ يَدٍ فَوْقَ الْقَدَمِ وَيَدٍ تَحْتَ النَّعْلِ ثُمَّ صَنَعَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ . . .»
. . . ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہم سے کہا: کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ پھر انہوں نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا اور داہنے ہاتھ سے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لے کر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ دھویا، پھر ایک چلو اور پانی لیا اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا، پھر ایک چلو اور لے کر بایاں ہاتھ دھویا، پھر تھوڑا سا پانی لے کر اپنا ہاتھ جھاڑا، اور اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا، پھر ایک مٹھی پانی لے کر داہنے پاؤں پر ڈالا جس میں جوتا پہنے ہوئے تھے، پھر اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو اس طرح سے پھیرا کہ ایک ہاتھ پاؤں کے اوپر اور ایک ہاتھ نعل (جوتا) کے نیچے تھا، پھر بائیں پاؤں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا . . . [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 137]
فوائد و مسائل:
اس روایت میں پیروں پر پانی چھڑک کر ان پر ہاتھوں سے مسح کرنے کا ذکر ہے، تو یہ دوسری روایات کے مخالف نہیں، کیونکہ پھر آپ نے ہاتھوں سے انہیں اس طرح ملا، جیسے دھونے میں کیا جاتا ہے، اس طرح اس میں «غَسل» (دھونے) کا مفہوم آ جاتا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت سے اس کی وضاحت ہو جاتی ہے، اس میں ہے آپ نے ایک چلو پانی لیا اور اسے دائیں پاؤں پر چھڑکا، یہاں تک کہ اسے دھویا۔ [صحيح بخاري، حديث: 140، عون المعبود]
البتہ اس میں آخری حصہ، جس میں پاؤں کے اوپر نیچے مسح کرنے کا ذکر ہے، شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک شاذ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 137]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 140
ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا
«. . . عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ، أَخَذَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَمَضْمَضَ بِهَا وَاسْتَنْشَقَ . . . .»
. . . انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ (ایک مرتبہ) انہوں نے (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) وضو کیا تو اپنا چہرہ دھویا (اس طرح کہ پہلے) پانی کے ایک چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی دیا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ غَسْلِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ:: 140]
تشریح:
«وفي هذاالحديث دليل الجمع بين المضمضة والاستنشاق بغرفة واحدة» یعنی اس حدیث میں ایک ہی چلو سے کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا ثابت ہوا۔ (قسطلانی رحمہ اللہ)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 140]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري 157
وضو میں ہر عضو کو ایک ایک دفعہ دھونا بھی ثابت ہے
«. . . عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً مَرَّةً . . . .»
. . . وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا . . . [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/بَابُ الْوُضُوءِ مَرَّةً مَرَّةً:: 157]
تشریح:
معلوم ہوا کہ اگر ایک ایک بار اعضاءکو دھو لیا جائے تو وضو ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وہ ثواب نہیں ملتا جو تین تین دفعہ دھونے سے ملتا ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 157]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 101
کان کے مسح کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی ڈالا ۱؎، اور اپنا چہرہ دھویا، اور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے، اور اپنے سر اور اپنے دونوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 101]
101۔ اردو حاشیہ:
«مِنْ غَرْفَةٍ وَاحِدَةٍ» ایک چلو سے۔ اس سے وصل ثابت ہوتا ہے جو کہ مسنون ہے، اگرچہ احناف اسے سنت نہیں سمجھتے۔ جس کی تفصیل حدیث: 93 کے فوائد میں گزر چکی ہے۔
➋ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر اعضائے وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا جائے تو بھی وضو مکمل ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 101]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث403
ایک چلو سے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی چلو سے کلی کی، اور ناک میں پانی چڑھایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 403]
اردو حاشہ:
(1)
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہاتھ میں پانی لیکر کچھ پانی سے کلی کرلی جائےاور باقی پانی ناک میں ڈال کر ناک صاف کی جائے۔
ناک کے لیے الگ سے پانی نہ لیا جائے۔
امام ترمذی ؒ نے فرمایا ہے کہ بعض علماء نے اس طریقے کو بہتر قرار دیا ہے بعض نے دوسرے کو۔
امام شافعی ؒ نے فرمایا اگر دونوں کام ایک ہی چلو سے کرلے تو جائز ہے۔
لیکن ہمیں الگ الگ پانی لینا زیادہ پسند ہے۔ (جامع الترمذي، الطهارة، باب المضمضة والاستنشاق من كف واحد، حديث: 28)
حديث کی رو سے زیادہ بہتر یہی ہے کہ ایک ہی چلو سے کلی کی جائےاور ناک میں پانی ڈالا جائے کیونکہ ایک چلو سے کلی اور ناک صاف کرنے والی روایات سند کے لحاظ سے زیادہ قوی اور مستند ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 403]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث408
ناک میں پانی چڑھانے اور ناک جھاڑنے میں مبالغہ کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بار یا تین بار اچھی طرح ناک میں پانی چڑھا کر جھاڑو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 408]
اردو حاشہ:
(إِسْتِنْثَار)
کا مطلب ہے کہ ناک سے پانی وغیرہ اس طرح نکالا جائے جس طرح سانس کے دوران میں ہوا ناک سے نکالی جاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 408]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث439
کانوں کے مسح کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں کان کے اندرونی حصے کا مسح شہادت کی انگلیوں سے کیا، اور ان کے مقابل اپنے دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اوپری حصے پر پھیرا، اس طرح کان کے اندرونی اور اوپری دونوں حصوں کا مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 439]
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہواکہ سر کے مسح کے ساتھ کانوں کا مسح بھی کرنا ہے۔

(2)
کانوں کی اندرونی طرف سے وہ حصہ مراد ہےجو چہرے سے متصل ہونے کی وجہ سے دیکھنے والے کو نظر آتاہے۔
اور بیرونی طرف سے وہ حصہ مراد ہے جو سر سے متصل ہونے کی وجہ سے سامنے سے دیکھنے پر نظر نہیں آتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 439]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 36
دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کے مسح کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 36]
اردو حاشہ:
1؎:
اس باب اور حدیث سے مؤلف کا مقصد اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ کانوں کے اندرونی حصے کو چہرہ کے ساتھ دھونے اور بیرونی حصے کو سر کے ساتھ مسح کرنے کے قائلین کا رد کریں،
اس قول کے قائلین کی دلیل والی حدیث ضعیف ہے،
اور نص کے مقابلہ میں قیاس جائز نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 36]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 39
انگلیوں کے (درمیان) خلال کا بیان​۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم وضو کرو تو اپنے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کے بیچ خلال کرو۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 39]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں صالح مولی التوامہ مختلط راوی ہیں،
لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 39]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 42
اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان​۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار دھوئے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 42]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ فرض تعداد ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی بیان جواز کے لیے ایسا کرتے تھے،
ورنہ سنت دو مرتبہ اور تین مرتبہ دھونا ہے۔

2؎:
یعنی اعضائے وضو کو دھونے کے بارے میں زید بن اسلم کے طریق سے جو روایت آتی ہے،
اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ وہ مذکورہ سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی مسند سے ہے،
نہ کہ عمر رضی اللہ عنہ کی مسند سے،
رشدین بن سعد ضعیف راوی ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 42]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:140
140. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے وضو کیا اور اپنا منہ دھویا۔ اس طرح کہ پانی کا ایک چلو لے کر اس سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر ایک اور چلو پانی لیا، ہاتھ ملا کر اس سے منہ دھویا، پھر ایک چلو پانی سے اپنا دایاں ہاتھ دھویا، پھر ایک اور چلو پانی لیا اور اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا۔ بعد ازں ایک چلو پانی اپنے دائیں پاؤں پر ڈالا اور اسے دھویا، پھر دوسرا چلو پانی لے کر اپنا بایاں پاؤں دھویا۔ اس کے بعد کہنے لگے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:140]
حدیث حاشیہ:

ا س سے معلوم ہوا کہ وضو کے لیے دونوں ہاتھوں سے چلو بھرنا ضروری نہیں، نیز ان روایات کے ضعف کی طرف اشارہ ہے جن میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی ہاتھ سے اپنے چہرے کو دھوتے تھے۔
اگرچہ بعض حضرات نے ان احادیث کو جمع کرنے کی ایک صورت پیدا کی ہے لیکن سیاق وسباق سے اس جمع کی تائید نہیں ہوتی، اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پانی کا ایک چلو لے کرآدھے پانی سے کلی کی جائے اور آدھا چلو ناک صاف کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
(فتح الباري: 317/1)
دراصل وضو کرنے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں، ان تمام میں وضو کی ایک شکل نہیں ہو گی، مثلاً:
بعض اوقات حوض یا ندی کے کنارے بیٹھ کر وضو کرنا ہوتا ہے اور بعض اوقات کسی برتن سے پانی لے کر وضو کیا جاتا ہے اور کبھی مسجد میں ٹونٹی وغیرہ سے وضو کرنے کی نوبت آ سکتی ہے، بہرحال پانی کے استعمال میں اسراف نہیں ہونا چاہیے۔

عربی زبان میں ایک ہاتھ سے پانی لینے کو (غُرفَة)
اور دونوں ہاتھوں سے پانی لینے کو (حَفنَه)
کہا جاتا ہے۔
اردو میں ان د ونوں کے لیے علی الترتیب چلو اور لَپ کے الفاظ مستعمل ہیں۔
اس وضاحت کے بعد معلوم ہونا چاہیے کہ عنوان کے دو جز ہیں:
(الف)
۔
منہ دھوتے وقت دونوں ہاتھوں کا استعمال۔
(ب)
۔
پانی ایک چلو سے لیا جائے۔
اس سے مسنون طریقے کی طرف اشارہ ہے کہ منہ دھونے کے لیے چلو بھر پانی کو دونوں ہاتھوں سے استعمال کرنا چاہیے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 140]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:157
157. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضاء کو ایک ایک بار دھویا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:157]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے وضو کے آغاز میں اللہ کا نام لینے کے لیے بطور ثبوت جماع کے وقت دعا پڑھنے کا ذکر کیا تھا۔
چونکہ جماع کے بعد استنجاء کیا جاتا ہے، اس لیے استطراد کے طور پر قضائے حاجت کے آداب شروع کر دیے۔
ان سے فراغت کے بعد دوبارہ اصل مقصود یعنی آداب وضو کی طرف رجوع فرمایا:
وضو کے متعلق یہ مضمون کہ اعضائے وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا جائے آغاز میں سند کے بغیر بیان ہوچکا ہے یعنی ایک ایک مرتبہ اعضاء دھونے سے فرض کی ادائیگی ہو جاتی ہے چونکہ ایک مسلمان کے لیے ہر وقت باوضو رہنا مطلوب اور پسندیدہ عمل ہے اس لیے استنجا کرنے کے بعد وضو کرتے وقت اعضائے وضو کے ایک ایک مرتبہ دھونے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
عام حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے وضو کرتے وقت اعضاء کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے۔
ایک ایک مرتبہ دھونے کی تین صورتیں ممکن ہیں۔

بیان جواز کے لیے۔

پانی کم ہونے کے پیش نظر۔

ہنگامی حالات کے وقت، بہرحال یہ بات ثابت شدہ ہے کہ نماز کی ادائیگی کے لیے وضو کرتے وقت اعضائے وضو کو کم ازکم ایک ایک مرتبہ دھونا ضروری ہے نیز یہ روایت مجمل ہے۔
تفصیلی روایت پہلے بیان ہو چکی ہے۔
(صحیح البخاري، الطهارة، حدیث: 140)
اس وضاحت کے بعد امام تدبرکی بھی سنیے جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔
گویا امام صاحب کی مخالفت پر ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔
قضائے حاجت کے مضمون کو طہارت اور وضو کے تحت بیان مناسب نہیں تھا۔
امام صاحب کو چاہیے تھا کہ اس مقصد کے لیے الگ عنوان قائم کرتے۔
(تدبر حدیث: 259/1)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام تدبرکے نزدیک آداب قضائے حاجت کا طہارت اور وضو سے کوئی تعلق نہیں۔
دراصل مزعومہ تدبر کی آڑ میں حدیث اور اصحاب الحدیث کا استخفاف مقصود ہے جو ان حضرات کی تالیفات میں بکثرت موجود ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 157]

حافظ زبير على زئي رحمه الله، رد حدیث اشکال، صحیح بخاری 157
«حدثنا محمد بن يوسف، قال: حدثنا سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس، قال:" توضا النبي صلى الله عليه وسلم مرة مرة".»
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے زید بن اسلم کے واسطے سے بیان کیا، وہ عطاء بن یسار سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں ہر عضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا۔ [صحيح بخاري 157]
سفیان ثوری رحمہ اللہ صحیح بخاری کی یہ حدیث «عن» سے روایت کر رہے ہیں۔
بعض لوگ عن والی روایت پر اعتراض کرتے ہیں کہتے ہیں، سماع کی تصریح یا متابعت ثابت کریں۔
(3) صحیح بخاری باب الوضوء مرۃ مرۃ ج1 ص27 (ح 157) سفیان ثوری نے سنن ابی داود میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ (ح 138)
حوالہ: فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) جلد 2، ص 315
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 315]

Sunan Abi Dawud Hadith 117 in Urdu