🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب القنوت في الصلوات
باب: فرض نماز میں دعائے قنوت پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1440
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ" يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ، وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے قریب ترین نماز پڑھوں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 126 (797)، صحیح مسلم/المساجد 54 (276)، سنن النسائی/التطبیق 28 (1076)، (تحفة الأشراف: 15421)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 4(19)، مسند احمد (2/255، 337، 470) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (797) صحيح مسلم (676)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكر
Newهشام بن أبي عبد الله الدستوائي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥معاذ بن هشام الدستوائي، أبو عبد الله
Newمعاذ بن هشام الدستوائي ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥داود بن أمية الأزدي
Newداود بن أمية الأزدي ← معاذ بن هشام الدستوائي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3504
قريش الأنصار جهينة مزينة أسلم أشجع غفار موالي ليس لهم مولى دون الله ورسوله
صحيح البخاري
797
يقنت في الركعة الآخرة من صلاة الظهر وصلاة العشاء وصلاة الصبح بعد ما يقول سمع الله لمن حمده يدعو للمؤمنين يلعن الكفار
صحيح البخاري
3512
قريش الأنصار جهينة مزينة أسلم غفار أشجع موالي ليس لهم مولى دون الله ورسوله
صحيح البخاري
3514
أسلم سالمها الله غفار غفر الله لها
صحيح مسلم
1544
يقنت في الظهر والعشاء الآخرة وصلاة الصبح ويدعو للمؤمنين يلعن الكفار
صحيح مسلم
6443
أسلم غفار شيء من مزينة جهينة خير عند الله
صحيح مسلم
6442
لغفار أسلم مزينة من كان من جهينة من كان من مزينة خير عند الله يوم القيامة من أسد طيئ غطفان
صحيح مسلم
6439
قريش الأنصار مزينة جهينة أسلم غفار أشجع موالي ليس لهم مولى دون الله ورسوله
صحيح مسلم
6434
أسلم سالمها الله غفار غفر الله لها
صحيح مسلم
6441
أسلم غفار مزينة من كان من جهينة خير من بني تميم
جامع الترمذي
3950
غفار أسلم مزينة من كان من جهينة من كان من مزينة خير عند الله يوم القيامة من أسد طيئ غطفان
سنن أبي داود
1440
يقنت في الركعة الآخرة من صلاة الظهر وصلاة العشاء الآخرة وصلاة الصبح يدعو للمؤمنين يلعن الكافرين
مسندالحميدي
968
اللهم أنج الوليد بن الوليد، وسلمة بن هشام، وعياش بن أبي ربيعة، والمستضعفين بمكة، اللهم اشدد وطأتك على مضر، واجعلها عليهم سنين كسني يوسف
مسندالحميدي
1079
والله لأسلم، وغفار، وجهينة، ومزينة، خير من الحليفين أسد، وغطفان، ومن بني تميم، ومن بني عامر بن صعصعة، يمد بها صوته
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1440 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1440
1440. اردو حاشیہ: اس سے مراد ایسی دعا ہے جو مسلمانوں اور امت سے متعلق ہو مثلا اسلام اور مسلمانوں کے لئے نصرت مجاہدین کے لئے ثابت قدمی اور کامیابی یا کسی وبا اور مصیبت عامہ سے نجات کی دعا یا کفار کے لئے بد دعا اسے اصطلاحاً دعائے قنوت نازلہ کہتے ہیں۔ اسے پانچوں فرض نمازوں میں حسب ضرورت آخری رکعت میں رکوع کے بعد پڑھا جا سکتا ہے۔ امام جہری (بلند) آوا ز میں دُعا پڑھے۔ اور مقتدی آمین کہیں۔ امام حسب احوال دعا کرائے۔ جہاں نام لینے کی ضرورت ہو نام بھی لے سکتا ہے۔ اس دعائے قنوت نازلہ میں دوام نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1440]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:968
968- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں دوسری رکعت سے سراٹھایا تو یہ پڑھا۔ اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابوربیعہ اور مکہ میں موجود کمزور افراد کو نجات عطا کر۔ اے اللہ مضر قبیلے کے افراد پر اپنی سختی نازل کردے اور ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی نازل کر دے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:968]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے لیے بالخصوص ضعیفوں کے لیے نجات کی دعا کرتے رہنا چاہیے، اور اسلام کے دشمنوں کے خلاف قحط سالی کی بد دعا کرنی چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 967]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1079
1079- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ کی قسم! اسلم، غفار، جہینہ اور مزینہ قبیلے، دوحلیف بنو اسد اور بنو غطفان اور بنوتمیم اور بنو عامر بن شعثاء سے زیادہ بہتر ہیں۔‏‏‏‏ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آواز کو کھینچ کر یہ بات ارشاد فرمائی۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1079]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جو قبیلے اور خاندان مجموعی لحاظ سے اچھے ہوں، ان کی مجموعی طور پر تعریف کرنا درست ہے، جس انسان میں جتنی خوبی ہو، وہ بیان کر دینی چاہیے، تعریف میں غلو کرنا حرام ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1077]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6434
حضرت خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں دعاکی،"اے اللہ!بنولحیان رعل،ذکوان اور عصیہ پر جنھوں نے اللہ اور اس کےرسول(صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نافرمانی کی،لعنت بھیج،غفار کی اللہ مغفرت فرمائے اور اسلم کو اللہ سلامت رکھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6434]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بنو لحیان،
رعل،
ذکوان اور عصیۃ،
چار قبائل نے بئر معونہ کے واقعہ میں ستر (70)
قراء،
صحابہ کرام کے ساتھ بدعہدی کرتے ہوئے ان کو شہید کر دیا تھا،
اس لیے آپ نے ان کے خلاف ایک ماہ تک دعاء قنوت کی۔
"
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6434]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 797
797. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یقینا میں ایسی نماز پڑھتا ہوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہو، چنانچہ ابوہریرہ ؓ ظہر، عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں سمع الله لمن حمده کے بعد قنوت پڑھا کرتے تھے جس میں اہل ایمان کے لیے دعا فرماتے اور کفار پر لعنت کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:797]
حدیث حاشیہ:
کچھ غداروں نے چند مسلمانوں کو دھوکا سے بئر معونہ پر شہید کر دیا تھا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثہ سے سخت صدمہ ہوا اور آپ نے ایک ماہ تک ان پر بددعا کی اور ان پر مسلمان کی رہائی کے لیے بھی دعا فرمائی جو کفار کے ہاں مقید تھے۔
یہاں اسی قنوت کا ذکر ہے۔
جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو ہر نماز میں آخر رکعت میں رکوع کے بعد قنوت پڑھنا مستحب ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 797]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3504
3504. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار کے لوگ میرے دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کاکوئی دوست نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3504]
حدیث حاشیہ:
دوسری سند مذکورہ سے یہ حدیث نہیں ملی البتہ مسلم نے اس کو روایت کیا ہے یعقوب سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے صالح سے، انہوں نے اعرج سے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3504]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3512
3512. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے حمایتی اور دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کاکوئی دوست نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3512]
حدیث حاشیہ:
یہاں بہ سلسلہ تذکرہ قبیلہ آپ نے قریش کا ذکر مقدم فرمایا، اس سے بھی قریش کی برتری ثابت ہوتی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3512]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:797
797. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: یقینا میں ایسی نماز پڑھتا ہوں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہو، چنانچہ ابوہریرہ ؓ ظہر، عشاء اور فجر کی آخری رکعت میں سمع الله لمن حمده کے بعد قنوت پڑھا کرتے تھے جس میں اہل ایمان کے لیے دعا فرماتے اور کفار پر لعنت کرتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:797]
حدیث حاشیہ:
:
(1)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کے انداز سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پوری حدیث مرفوع کے حکم میں ہے کیونکہ آپ کے یہ الفاظ ہیں:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی طرح نماز پڑھتا ہوں۔
(عمدة القاري: 532/4) (2)
امام بخاری ؒ اس حدیث کے بعد حضرت انس ؓ کی حدیث لائے ہیں تاکہ اس بات کی طرف اشارہ ہو جائے کہ قنوت نازلہ کسی ایک نماز کے ساتھ خاص نہیں، نیز اس حدیث میں قنوت کے آخری رکعت میں ہونے کا ذکر ہے لیکن آگے ایک حدیث میں وضاحت ہے کہ قنوت بعد از رکوع قومہ میں ہوا کرتی تھی۔
(فتح الباري: 369/2)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 797]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3504
3504. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار کے لوگ میرے دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کاکوئی دوست نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3504]
حدیث حاشیہ:

حدیث میں مذکورہ قبائل دوسرے عرب قبائل کی طرح جنگ و قتال کے بعد مسلمان نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے جلدی اسلام قبول کرلیا۔
انصار سے مراد اوس اورخزرج کے قبائل ہیں۔

ایک حدیث میں ہے:
بنو عصیہ نے تو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، غفار کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور اسلم قبیلے کو بھی اللہ تعالیٰ نے صلح کی توفیق عطافرمائی۔
اس مقام پر صرف قبیلہ قریش کی تعریف مقصود ہے دیگرقبائل کا ذکر آگے ایک مستقل عنوان کے تحت آئے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3504]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3512
3512. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع میرے حمایتی اور دوست ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے سوا ان کاکوئی دوست نہیں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3512]
حدیث حاشیہ:

عربی زبان میں مولیٰ کے کئی معنی ہیں، اس مقام پر مددگار اورحمایت کرنے والا مراد ہے، یعنی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کرنے والے ہیں اور اللہ اور اس کا رسول ان کا مددگار ہے اور اس کے مقابلے میں کافروں کا کوئی مددگار نہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یہ اس لیے کہ ایمان لانے والے کا اللہ تعالیٰ حامی ہے اور کافروں کا کوئی بھی حامی نہیں۔
(محمد: 11/47)

چونکہ یہ قبائل سب سے پہلے ایمان لائے تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کی ہے۔
(عمدة القاري: 254/11)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3512]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3514
3514. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ سالم رکھے اور قبیلہ غفار کو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3514]
حدیث حاشیہ:

مذکورہ دونوں حدیثوں کا سیاق انتہائی عمدہ ہے جس کے سننے سے کانوں کو لذت پہنچتی ہے اور دلوں میں کشش پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہر قبیلے کے پہلے حرف کے مطابق اس کی جنس کے حروف سے دعا فرمائی۔
بھلا ایسا کیوں نہ ہوتا جبکہ یہ اس ذات ستودہ صفات کا کلام ہے جو وحی کے بغیر گفتگو نہیں کرتے۔
بلاشبہ آپ کا کلام فصاحت وبلاغت کے آخری درجے کو پہنچتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے مجھے جوامع الکلم سے نوازا ہے۔
(صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ، حدیث: 1167 (523)
اس کی زندہ مثال مذکورہ دعائیہ جمل ہیں۔
(فتح الباري: 665/6)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3514]