سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب من قال هي من الطول
باب: سورۃ فاتحہ لمبی سورتوں میں سے ہے اس کے قائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1459
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي الطُّوَلِ، وَأُوتِيَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام سِتًّا، فَلَمَّا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ رُفِعَتْ ثِنْتَانِ وَبَقِيَ أَرْبَعٌ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 26 (916، 917)، (تحفة الأشراف:5617) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: معنی کے اعتبار سے لمبی ہیں ورنہ ان کے الفاظ مختصر ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (916)
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
إسناده ضعيف
نسائي (916)
الأ عمش عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1459
| أوتي رسول الله صلى الله عليه سلم سبعا من المثاني الطول أوتي موسى ستا فلما ألقى الألواح رفعت ثنتان وبقي أربع |
سنن النسائى الصغرى |
916
| أوتي النبي سبعا من المثاني السبع الطول |
مسندالحميدي |
857
| قد ظننت أن بعضكم خالجنيها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1459 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1459
1459. اردو حاشیہ: بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں فاتحہ کی ہیں۔ جو بااعتبار الفاظ اگرچہ مختصر ہیں۔ مگر بااعتبار معنی بڑی لمبی لمبی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1459]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 916
تفسیر آیت کریمہ: ”یقیناً ہم آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہے اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے“۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 916]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 916]
916 ۔ اردو حاشیہ:
➊ ”سبع مثانی“ کی ایک یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ قرآن کی ابتدائی سات لمبی سورتیں مراد ہیں، یعنی 1۔ البقرہ، 2۔ آل عمران، 3۔ النساء، 4۔ المائدۃ، 5۔ الانعام، 6۔ الاعراف، 7۔ یونس۔ اور ایک روایت کے مطابق سورۂ کہف ہے۔
➋ محققِ کتاب نے اسے سنداً ضعیف کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے قوی الاسناد کہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 5؍200، وفتح الباري: 8؍485، تحت حدیث: 4703]
➊ ”سبع مثانی“ کی ایک یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ قرآن کی ابتدائی سات لمبی سورتیں مراد ہیں، یعنی 1۔ البقرہ، 2۔ آل عمران، 3۔ النساء، 4۔ المائدۃ، 5۔ الانعام، 6۔ الاعراف، 7۔ یونس۔ اور ایک روایت کے مطابق سورۂ کہف ہے۔
➋ محققِ کتاب نے اسے سنداً ضعیف کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے قوی الاسناد کہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 5؍200، وفتح الباري: 8؍485، تحت حدیث: 4703]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 916]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:857
857- سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم میں سے کسی نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت ہے“، تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں! میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یہ انداز ہ ہوگیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میر امقابلہ کررہا ہے۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:857]
فائدہ:
جب امام جہری قرأت کرے تو مقتدیوں کو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔
جب امام جہری قرأت کرے تو مقتدیوں کو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 856]
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي