🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب : تأويل قول الله عز وجل { ولقد آتيناك سبعا من المثاني والقرآن العظيم }
باب: تفسیر آیت کریمہ: ”یقیناً ہم آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہے اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 916
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال:" أُوتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي السَّبْعَ الطُّوَلَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «سبع المثاني» یعنی سات لمبی سورتیں ۱؎ عطا کی گئی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 351 (1459)، (تحفة الأشراف: 5617) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور وہ یہ ہیں: بقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، اعراف، ہود اور یونس، یہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کا قول سند میں شریک ضعیف ہیں، نیز ابواسحاق بیہقی مدلس و مختلط لیکن سابقہ سند سے تقویت پا کر یہ حسن ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1459) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥مسلم بن أبي عبد الله البطين، أبو عبد الله
Newمسلم بن أبي عبد الله البطين ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← مسلم بن أبي عبد الله البطين
ثقة حافظ
👤←👥جرير بن عبد الحميد الضبي، أبو عبد الله
Newجرير بن عبد الحميد الضبي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥محمد بن قدامة المصيصي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن قدامة المصيصي ← جرير بن عبد الحميد الضبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1459
أوتي رسول الله صلى الله عليه سلم سبعا من المثاني الطول أوتي موسى ستا فلما ألقى الألواح رفعت ثنتان وبقي أربع
سنن النسائى الصغرى
916
أوتي النبي سبعا من المثاني السبع الطول
مسندالحميدي
857
قد ظننت أن بعضكم خالجنيها
سنن نسائی کی حدیث نمبر 916 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 916
916 ۔ اردو حاشیہ:
سبع مثانی کی ایک یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ قرآن کی ابتدائی سات لمبی سورتیں مراد ہیں، یعنی 1۔ البقرہ، 2۔ آل عمران، 3۔ النساء، 4۔ المائدۃ، 5۔ الانعام، 6۔ الاعراف، 7۔ یونس۔ اور ایک روایت کے مطابق سورۂ کہف ہے۔
➋ محققِ کتاب نے اسے سنداً ضعیف کہا ہے لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے قوی الاسناد کہا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن أبي داود (مفصل) للألباني: 5؍200، وفتح الباري: 8؍485، تحت حدیث: 4703]

[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 916]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1459
سورۃ فاتحہ لمبی سورتوں میں سے ہے اس کے قائل کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں (جن پر تورات لکھی ہوئی تھی) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1459]
1459. اردو حاشیہ: بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں فاتحہ کی ہیں۔ جو بااعتبار الفاظ اگرچہ مختصر ہیں۔ مگر بااعتبار معنی بڑی لمبی لمبی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1459]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:857
857- سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کسی نے سورہ الاعلیٰ کی تلاوت ہے، تو ایک صاحب نے عرض کی: جی ہاں! میں نے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ انداز ہ ہوگیا تھا کہ تم میں سے کوئی ایک شخص میر امقابلہ کررہا ہے۔‏‏‏‏ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:857]
فائدہ:
جب امام جہری قرأت کرے تو مقتدیوں کو سوائے سورۃ فاتحہ کے کچھ نہیں پڑھنا چاہیے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 856]