علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب التسبيح بالحصى
باب: کنکریوں سے تسبیح گننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1500
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ خُزَيْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهَا، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ وَبَيْنَ يَدَيْهَا نَوًى أَوْ حَصًى تُسَبِّحُ بِهِ، فَقَالَ:" أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ أَيْسَرُ عَلَيْكِ مِنْ هَذَا، أَوْ أَفْضَلُ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذَلِكَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ مِثْلُ ذَلِكَ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت ۱؎ کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس طرح کہا کرو: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك . ولا إله إلا الله مثل ذلك . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1500]
عائشہ بنت سعد بن ابی وقاص اپنے والد (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت کے پاس آئے جب کہ اس عورت کے سامنے گٹھلیاں تھیں یا کنکریاں، وہ ان کے ساتھ تسبیح پڑھ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے آسان تر یا افضل ہو؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي السَّمَاءِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ فِي الْأَرْضِ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ بَيْنَ ذٰلِكَ وَسُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ مَا هُوَ خَالِقٌ» ”اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو اس نے آسمان میں پیدا کی، اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو اس نے زمین میں پیدا کی، اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو اس نے ان دونوں کے مابین پیدا کی، اللہ کی تسبیح ہے اس مخلوق کی تعداد میں جو وہ پیدا کرے گا۔“ اور «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ اسی کے مثل، اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے“ اسی کے مثل، اور «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ اسی کے مثل، اور «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» ”اللہ کی مدد کے بغیر نہ گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت“ اسی کے مثل۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 114 (3568)، (تحفة الأشراف:3954) (ضعیف)» (اس کے راوی خزیمہ مجہول ہیں)
وضاحت: ۱؎: وہ ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا، یا ام المومنین جویریہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ۲؎: مروجہ تسبیح جس میں سو دانے ہوتے ہیں، اور ان میں ایک امام ہوتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، انگلیوں پر تسبیح مسنون ہے، ملاحظہ ہو اگلی حدیث نمبر (۱۵۰۱)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2311)
أخرجه الترمذي (3568 وسنده حسن) خزيمة: حسن الحديث
مشكوة المصابيح (2311)
أخرجه الترمذي (3568 وسنده حسن) خزيمة: حسن الحديث
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1500
| سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك ولا إله إلا الله مثل ذلك ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1500 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1500
1500. اردو حاشیہ: اللہ کا ذکر معروف تسبیح کے دانوں پر شمار کرکے پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل کے خلاف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انگلیوں پر پڑھا کرتے تھے۔ اور یہی تعلیم فرمایا کرتے تھے۔ جیسے کہ آئندہ احادیث میں آرہا ہے۔ محب صادق کو انہی امور پر قانع رہنا چاہیے۔ جو آپ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ تاہم اگر کسی کو حساب میں مشکل پیش آتی ہو اور آسانی کی غرض سے تسبیح پڑھتا ہو تو مباح ہے۔ مگر استحباب وفضیلت کے خلاف ہے۔ اگر ریاکاری مقصد ہو توسراسر حرام ہے۔ مزید دیکھئے۔ [فتاویٰ ابن تیمیة: 506/22]
یہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ چیزیں اس دور میں ناپید تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار ٹوٹنے کا واقعہ معروف ہے۔ گلے کا ہار اور تسبیح ملتی جلتی چیزیں ہیں۔
یہ خیال نہ کیا جائے کہ یہ چیزیں اس دور میں ناپید تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہار ٹوٹنے کا واقعہ معروف ہے۔ گلے کا ہار اور تسبیح ملتی جلتی چیزیں ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1500]
Sunan Abi Dawud Hadith 1500 in Urdu
عائشة بنت سعد القرشية ← سعد بن أبي وقاص الزهري