یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في زكاة السائمة
باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ، بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ فِيهِ: وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا الْوَلَدُ.
اس طریق سے بھی زکریا بن اسحاق سے یہی حدیث اسی سند سے مروی ہے اس میں مسلم بن شعبہ ہے اور اس میں ہے کہ «شافع» وہ بکری ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ ۱۵۸۲/م- ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے عمرو بن حارث حمصی کی اولاد کے پاس حمص میں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا کہ زبیدی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن جابر نے خبر دی ہے، انہوں نے جبیر بن نفیر سے جبیر نے عبداللہ بن معاویہ غاضری سے جو غاضرہ قیس سے ہیں، روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین باتیں ہیں جو کوئی ان کو کرے گا ایمان کا مزا چکھے گا: جو صرف اللہ کی عبادت کرے، «لا إله إلا الله» کا اقرار کرے، اپنے مال کی زکاۃ خوشی سے ہر سال ادا کیا کرے، اور زکاۃ میں بوڑھا، خارشتی، بیمار اور گھٹیا قسم کا جانور نہ دے بلکہ اوسط درجے کا مال دے، اس لیے کہ اللہ نے نہ تو تم سے سب سے بہتر کا مطالبہ کیا اور نہ ہی تمہیں گھٹیا مال دینے کا حکم دیا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1582]
زکریا بن اسحاق نے اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی اور راوی کا نام «مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ» ”مسلم بن شعبہ“ ذکر کیا (نہ کہ «مُسْلِمُ بْنُ ثَفْنَةَ» ”مسلم بن ثفنہ“)، اس میں ذکر کیا «شَافِعٌ» ”شافع“ وہ ہوتی ہے جس کے پیٹ میں بچہ ہو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں نے حمص میں آل عمرو بن حارث حمصی کے ہاں عبداللہ بن سالم کی کتاب میں پڑھا، جسے انہوں نے زبیدی سے روایت کیا تھا، کہا «عَبْدُ اللهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيُّ» ”عبداللہ بن معاویہ غاضری“ جو غاضرہ قیس سے ہیں، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تین کام کیے اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ جس نے ایک اللہ کی عبادت کی اور اقرار کیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، اور خوشی خوشی ہر سال اپنے مال کی زکوٰۃ دی، کوئی بوڑھا، خارش زدہ، بیمار یا ردی قسم کا جانور نہ دیا بلکہ متوسط مال سے دیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم سے عمدہ مال کا مطالبہ نہیں کیا ہے اور نہ تمہیں برا مال دینے کا حکم دیا ہے۔““ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1582]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:9645) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
[1582/ا ] إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
[1582/ا ] إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1581)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥زكريا بن إسحاق المكي | ثقة | |
👤←👥روح بن عبادة القيسي، أبو محمد روح بن عبادة القيسي ← زكريا بن إسحاق المكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن يونس النسائي محمد بن يونس النسائي ← روح بن عبادة القيسي | ثقة |
Sunan Abi Dawud Hadith 1582 in Urdu
روح بن عبادة القيسي ← زكريا بن إسحاق المكي