یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في زكاة السائمة
باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1581
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: رَوْحٌ يَقُولُ: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ نَافِعُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُصَدِّقَهُمْ، قَالَ: فَبَعَثَنِي أَبِي فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ، فَأَتَيْتُ شَيْخًا كَبِيرًا يُقَالُ لَهُ: سِعْرُ بْنُ دَيْسَمٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ، يَعْنِي لِأُصَدِّقَكَ، قَالَ ابْنَ أَخِي: وَأَيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ، قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا نَتَبَيَّنَ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ ابْنَ أَخِي: فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي، فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ، فَقَالَا لِي: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ، فَقُلْتُ: مَا عَلَيَّ فِيهَا، فَقَالَا: شَاةٌ، فَأَعْمَدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةٍ مَحْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَاةُ الشَّافِعِ، وَقَدْ" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا"، قُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟، قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ: فَأَعْمَدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا، فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا، ثُمَّ انْطَلَقَا. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ، قَالَ أَيْضًا: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، كَمَا قَالَ: رَوْحٌ.
مسلم بن ثفنہ یشکری ۱؎ کہتے ہیں نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے کاموں پر عامل مقرر کیا اور انہیں ان سے زکاۃ وصول کرنے کا حکم دیا، میرے والد نے مجھے ان کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، چنانچہ میں ایک بوڑھے آدمی کے پاس آیا، جس کا نام سعر بن دیسم تھا، میں نے کہا: مجھے میرے والد نے آپ کے پاس زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے، وہ بولے: بھتیجے! تم کس قسم کے جانور لو گے؟ میں نے کہا: ہم تھنوں کو دیکھ کر عمدہ جانور چنیں گے، انہوں نے کہا: بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں: میں اپنی بکریوں کے ساتھ یہیں گھاٹی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رہا کرتا تھا، ایک بار دو آدمی ایک اونٹ پر سوار ہو کر آئے اور مجھ سے کہنے لگے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں، تاکہ تم اپنی بکریوں کی زکاۃ ادا کرو، میں نے کہا: مجھے کیا دینا ہو گا؟ انہوں نے کہا: ایک بکری، میں نے ایک بکری کی طرف قصد کیا، جس کی جگہ مجھے معلوم تھی، وہ بکری دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، میں اسے نکال کر ان کے پاس لایا، انہوں نے کہا: یہ بکری پیٹ والی (حاملہ) ہے، ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بکری لینے سے منع کیا ہے، پھر میں نے کہا: تم کیا لو گے؟ انہوں نے کہا: ایک برس کی بکری جو دوسرے برس میں داخل ہو گئی ہو یا دو برس کی جو تیسرے میں داخل ہو گئی ہو، میں نے ایک موٹی بکری جس نے بچہ نہیں دیا تھا مگر بچہ دینے کے لائق ہونے والی تھی کا قصد کیا، اسے نکال کر ان کے پاس لایا تو انہوں نے کہا: اسے ہم نے لے لیا، پھر وہ دونوں اسے اپنے اونٹ پر لاد کر لیے چلے گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے زکریا سے روایت کیا ہے، انہوں نے بھی مسلم بن شعبہ کہا ہے جیسا کہ روح نے کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1581]
مسلم بن شعبہ بیان کرتے ہیں کہ جناب نافع بن علقمہ نے میرے والد کو ان کی اپنی قوم کا سربراہ، نگران کار اور منتظم بنا دیا اور حکم دیا کہ ان سے زکوٰۃ بھی وصول کریں۔ چنانچہ میرے والد نے مجھے (مسلم کو) ایک جماعت کے پاس بھیجا، میں ایک بڑے بزرگ کے پاس پہنچا ان کا نام سعر (بن ویسم) رضی اللہ عنہ تھا۔ میں نے عرض کیا: ”میرے والد نے مجھے بھیجا ہے کہ آپ سے زکوٰۃ لے آؤں۔“ انہوں نے کہا: ”بھتیجے! تم کس قسم کا مال لیتے ہو؟“ میں نے کہا: ”ہم چن کر تھنوں کو دیکھ کر عمدہ بکریاں لیتے ہیں۔“ وہ کہنے لگے: ”بھتیجے! میں تمہیں ایک حدیث بیان کرتا ہوں۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان وادیوں میں سے ایک وادی میں اپنی بکریوں کے ساتھ تھا کہ میرے پاس دو آدمی آئے جو ایک اونٹ پر سوار تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکوٰۃ دے دیں۔“ میں نے پوچھا: ”مجھ پر ان میں سے کیا واجب ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ایک بکری۔“ تو میں نے ایک بکری کا قصد کیا جو میں جانتا تھا کہ وہ دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی۔ میں اسے ان کی طرف نکال لے آیا۔ تو وہ کہنے لگے: ”یہ تو حاملہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ جانور لینے سے منع فرمایا ہے۔“ میں نے کہا: ”آپ لوگ کس طرح کی قبول کریں گے؟“ وہ کہنے لگے: ”ایک سال کی بھیڑ یا بکری، جو دوسرے سال میں جا لگی ہو یا دو سال کی جو تیسرے سال میں شروع ہو۔“ اب میں ایک بھیڑ لے آیا جو موٹی تازی تھی اور حاملہ نہ ہوئی تھی، «الْمُعْتَاطُ» ”وہ بکری جو حاملہ تو نہ ہوئی ہو مگر اس عمر کو پہنچ چکی ہو۔“ وہ میں ان کے لیے نکال لایا تو انہوں نے کہا: ”یہ ہمیں دے دو۔“ تو انہوں نے اس کو اپنے ساتھ اونٹ پر رکھ لیا اور چل دیے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ابوعاصم نے زکریا سے روایت کرتے ہوئے راوی کا نام مسلم بن شعبہ کہا ہے، جیسے کہ روح نے بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 15 (2464)، (تحفة الأشراف:15579)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/414، 415) (ضعیف)» (اس کے راوی مسلم لین الحدیث ہیں، نیز اس میں مذکور معمر شخص مبہم ہے)
وضاحت: ۱؎: روح نے مسلم بن ثفنہ کے بجائے مسلم بن شعبہ کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2464،2465)
مسلم بن شعبة ويقال : مسلم بن ثفنة وثقه ابن حبان وحده وقال الذھبي : لا يعرف (ميزان الإعتدال 101/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
إسناده ضعيف
نسائي (2464،2465)
مسلم بن شعبة ويقال : مسلم بن ثفنة وثقه ابن حبان وحده وقال الذھبي : لا يعرف (ميزان الإعتدال 101/4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
2464
| نأخذ شافعا قال فأعمد إلى عناق معتاط والمعتاط التي لم تلد ولدا وقد حان ولادها فأخرجتها إليهما فقالا ناولناها فرفعتها إليهما فجعلاها معهما على بعيرهما ثم انطلقا |
سنن أبي داود |
1581
| أن نأخذ شافعا |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1581 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1581
1581. اردو حاشیہ: زکوۃ میں حاملہ جانور لینا مناسب نہیں، کیونکہ یہ عمدہ اور زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1581]
Sunan Abi Dawud Hadith 1581 in Urdu
سعر بن سوادة العامري ← اسم مبهم