🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب في زكاة السائمة
باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ، فَلَمَّا جَمَعَ لِي مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهِ إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا، فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ، فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ، فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ، وَهَهِيَ ذِهْ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ذَاكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ آجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ" قَالَ: فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ:" فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، میں ایک شخص کے پاس سے گزرا، جب اس نے اپنا مال اکٹھا کیا تو میں نے اس پر صرف ایک بنت مخاض کی زکاۃ واجب پائی، میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دو، یہی تمہاری زکاۃ ہے، وہ بولا: بنت مخاض میں نہ تو دودھ ہے اور نہ وہ اس قابل ہے کہ (اس پر) سواری کی جا سکے، یہ لو ایک اونٹنی جوان، بڑی اور موٹی، میں نے اس سے کہا: میں ایسی چیز کبھی نہیں لے سکتا جس کے لینے کا مجھے حکم نہیں، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تم سے قریب ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس جا کر وہی بات پیش کرو جو تم نے مجھ سے کہی ہے، اب اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرما لیتے ہیں تو میں بھی اسے لے لوں گا اور اگر آپ واپس کر دیتے ہیں تو میں بھی واپس کر دوں گا، اس نے کہا: ٹھیک ہے میں چلتا ہوں اور وہ اس اونٹنی کو جو اس نے میرے سامنے پیش کی تھی، لے کر میرے ساتھ چلا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے نبی! آپ کا قاصد میرے پاس مال کی زکاۃ لینے آیا، قسم اللہ کی! اس سے پہلے کبھی نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مال کو دیکھا اور نہ آپ کے قاصد نے، میں نے اپنا مال اکٹھا کیا تو اس نے کہا: تجھ پر ایک بنت مخاض لازم ہے اور بنت مخاض نہ دودھ دیتی ہے اور نہ ہی وہ سواری کے لائق ہوتی ہے، لہٰذا میں نے اسے ایک بڑی موٹی اور جوان اونٹنی پیش کی، لیکن اسے لینے سے اس نے انکار کر دیا اور وہ اونٹنی یہ ہے جسے لے کر میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں، اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تم پر واجب تو بنت مخاض ہی ہے، لیکن اگر تم خوشی سے اسے دے رہے ہو تو اللہ تمہیں اس کا اجر عطا کرے گا اور ہم اسے قبول کر لیں گے، وہ شخص بولا: اے اللہ کے رسول! اسے لے لیجئے، یہ وہی اونٹنی ہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے لیے اس کے مال میں برکت کی دعا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1583]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو صدقے کا عامل بنا کر بھیجا، میں ایک آدمی کے پاس پہنچا، جب اس نے میرے سامنے اپنا مال جمع کر دیا تو میں نے اس پر صرف ایک «بِنْتَ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنی) ہی واجب پائی۔ میں نے اس سے کہا: ایک بنت مخاض دے دو، تمہاری یہی زکوٰۃ ہے۔ اس نے کہا: یہ نہ دودھ والی ہے اور نہ سواری کے قابل! اس کی بجائے یہ ایک جوان اور موٹی تازی اونٹنی ہے، اسے لے جاؤ۔ میں نے اس سے کہا: جس کا مجھے حکم نہیں ہے میں وہ کیونکر لے سکتا ہوں؟ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے قریب ہی ہیں، اگر چاہو تو ان کی خدمت میں چلے جاؤ اور جو کچھ مجھے دے رہے ہو انہیں جا کر پیش کر دو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبول کر لیں تو مجھے بھی قبول ہے، اور اگر وہ نامنظور کریں تو میں بھی قبول نہیں کرتا۔ وہ کہنے لگا: میں یہی کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ چل پڑا اور وہ اونٹنی بھی ساتھ لے گیا جو وہ مجھے دے رہا تھا حتیٰ کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کا نمائندہ میرے مال کی زکوٰۃ لینے کے لیے میرے ہاں پہنچا ہے اور قسم اللہ کی! اس سے پہلے نہ تو اللہ کے رسول میرے مال میں تشریف لائے ہیں اور نہ ان کا کوئی نمائندہ ہی۔ سو میں نے اس کے لیے اپنا مال جمع کیا تو اس نے بتایا کہ میرے مال میں صرف ایک «بِنْتَ مَخَاضٍ» واجب ہے، اور اس عمر کا جانور نہ دودھ دیتا ہے اور نہ سواری کے قابل ہوتا ہے۔ سو میں نے اسے ایک شاندار جوان اونٹنی پیش کی کہ اسے قبول کر لے مگر اس نے انکار کر دیا، اور وہ یہ رہی! اے اللہ کے رسول! میں اسے آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں، تو آپ قبول فرما لیجیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تجھ پر وہی فرض ہے لیکن اگر تو خوشی سے نیکی کرنا چاہے تو اس کا اللہ تعالیٰ تجھے اجر و ثواب عطا کرے گا اور ہم تجھ سے یہ قبول کر لیتے ہیں۔ اس نے کہا: اور وہ یہ رہی اے اللہ کے رسول! میں اسے لے آیا ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے قبول فرما لیجیے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے وصول کر لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1583]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف:70)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/142) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (2277 وسنده حسن)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبي بن كعب الأنصاري، أبو المنذر، أبو الطفيلصحابي
👤←👥عمارة بن عامر الأنصاري
Newعمارة بن عامر الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن عبد الله الأنصاري
Newيحيى بن عبد الله الأنصاري ← عمارة بن عامر الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن أبي بكر الأنصاري، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي بكر الأنصاري ← يحيى بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← عبد الله بن أبي بكر الأنصاري
صدوق مدلس
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← ابن إسحاق القرشي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥محمد بن منصور الطوسي، أبو جعفر
Newمحمد بن منصور الطوسي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1583
أمر رسول الله بقبضها ودعا له في ماله بالبركة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1583 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1583
1583. اردو حاشیہ: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صاحب مال نہایت خوش دلی سے حق واجب سے زیادہ عمدہ مال دینا چاہے تو قبول کیا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1583]

Sunan Abi Dawud Hadith 1583 in Urdu