سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ
باب: چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1567
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَهُ لِأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتِمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ،" فَإِذَا فِيهِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهِ فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَأَنْ يَجْعَلَ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ وَلَيْسَ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: مِنْ هَاهُنَا لَمْ أَضْبِطْهُ عَنْ مُوسَى كَمَا أُحِبُّ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ لَبُونٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِلَى هَاهُنَا، ثُمَّ أَتْقَنْتُهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَشَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِنْ لَمْ تَبْلُغْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ أَرْبَعِينَ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا".
حماد کہتے ہیں میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے ایک کتاب لی، وہ کہتے تھے: یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر لگی ہوئی تھی، جب آپ نے انہیں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا تو یہ کتاب انہیں لکھ کر دی تھی، اس میں یہ عبارت لکھی تھی: ”یہ فرض زکاۃ کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائی ہے اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے، لہٰذا جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے، وہ اسے ادا کرے اور جس سے اس سے زائد طلب کی جائے، وہ نہ دے: پچیس (۲۵) سے کم اونٹوں میں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے، جب پچیس اونٹ پورے ہو جائیں تو پینتیس (۳۵) تک میں ایک بنت مخاض ۱؎ ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون دیدے، اور جب چھتیس (۳۶) اونٹ ہو جائیں تو پینتالیس (۴۵) تک میں ایک بنت لبون ہے، جب چھیالیس (۴۶) اونٹ پورے ہو جائیں تو ساٹھ (۶۰) تک میں ایک حقہ واجب ہے، اور جب اکسٹھ (۶۱) اونٹ ہو جائیں تو پچہتر (۷۵) تک میں ایک جذعہ واجب ہو گی، جب چھہتر (۷۶) اونٹ ہو جائیں تو نو ے (۹۰) تک میں دو بنت لبون دینا ہوں گی، جب اکیانوے (۹۱) ہو جائیں تو ایک سو بیس (۱۲۰) تک دو حقہ اور جب ایک سو بیس (۱۲۰) سے زائد ہوں تو ہر چالیس (۴۰) میں ایک بنت لبون اور ہر پچاس (۵۰) میں ایک حقہ دینا ہو گا۔ اگر وہ اونٹ جو زکاۃ میں ادا کرنے کے لیے مطلوب ہے، نہ ہو، مثلاً کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اسے جذعہ دینا ہو لیکن اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ حقہ ہو تو حقہ ہی لے لی جائے گی، اور ساتھ ساتھ دو بکریاں، یا بیس درہم بھی دیدے۔ یا اسی طرح کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ ہو تو اس سے جذعہ ہی قبول کر لی جائے گی، البتہ اب اسے عامل (زکاۃ وصول کرنے والا) بیس درہم یا دو بکریاں لوٹائے گا، اسی طرح سے کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں حقہ دینا ہو لیکن اس کے پاس حقہ کے بجائے بنت لبون ہوں تو بنت لبون ہی اس سے قبول کر لی جائے گی“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں موسیٰ سے حسب منشاء اس عبارت سے «ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له، أو عشرين درهمًا» سے لے کر «ومن بلغت عنده صدقة بنت لبون وليس عنده إلا حقة فإنها تقبل منه» تک اچھی ضبط نہ کر سکا، پھر آگے مجھے اچھی طرح یاد ہے: یعنی اگر اسے میسر ہو تو اس سے دو بکریاں یا بیس درہم واپس لے لیں گے، اگر کسی کے پاس اتنے اونٹ ہوں، جن میں بنت لبون واجب ہوتا ہو اور بنت لبون کے بجائے اس کے پاس حقہ ہو تو حقہ ہی اس سے قبول کر لیا جائے گا اور زکاۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا، جس کے پاس اتنے اونٹ ہوں جن میں بنت لبون واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس بنت مخاض کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس سے بنت مخاض لے لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم اور لیے جائیں گے، جس کے اوپر بنت مخاض واجب ہوتا ہو اور بنت مخاض کے بجائے اس کے پاس ابن لبون مذکر ہو تو وہی اس سے قبول کر لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز واپس نہیں کرنی پڑے گی، اگر کسی کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دیدے۔ اگر چالیس (۴۰) بکریاں چرنے والی ہوں تو ان میں ایک سو بیس (۱۲۰) تک ایک بکری دینی ہو گی، جب ایک سو اکیس (۱۲۱) ہو جائیں تو دو سو تک دو بکریاں دینی ہوں گی، جب دو سو سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو (۳۰۰) تک تین بکریاں دینی ہوں گی، جب تین سو سے زیادہ ہوں تو پھر ہر سینکڑے پر ایک بکری دینی ہو گی، زکاۃ میں بوڑھی عیب دار بکری اور نر بکرا نہیں لیا جائے گا سوائے اس کے کہ مصلحتاً زکاۃ وصول کرنے والے کو نر بکرا لینا منظور ہو۔ اسی طرح زکاۃ کے خوف سے متفرق مال جمع نہیں کیا جائے گا اور نہ جمع مال متفرق کیا جائے گا اور جو نصاب دو آدمیوں میں مشترک ہو تو وہ ایک دوسرے پر برابر کا حصہ لگا کر لیں گے ۲؎۔ اگر چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں تو ان میں کچھ بھی نہیں ہے سوائے اس کے کہ مالک چا ہے تو اپنی مرضی سے کچھ دیدے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ دیا جائے گا البتہ اگر وہ صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کچھ بھی واجب نہیں سوائے اس کے کہ مالک کچھ دینا چاہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1567]
حماد بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ تحریر جناب ثمامہ بن عبداللہ بن انس سے حاصل کی ہے، وہ کہتے تھے کہ اسے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے لیے لکھا تھا جبکہ ان کو صدقہ کے لیے تحصیلدار بنا کر بھیجا تھا اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر تھی، اس میں تحریر تھا: ”یہ فریضہ زکوٰۃ کی تفصیل ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض کیا تھا، جس کا اللہ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا۔ سو جس بھی مسلمان سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، وہ ادا کرے اور جس سے اس کے علاوہ مزید مانگا جائے تو وہ نہ دے۔ پچیس سے کم اونٹوں میں (زکوٰۃ بکریوں کی صورت میں ہے) ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکری ہے۔ جب پچیس ہو جائیں تو ان میں ایک بنت مخاض (ایک برس کی مادہ اونٹنی) ہے، پینتیس تک۔ اگر ان میں کوئی ایک برس کی (بنت مخاض) نہ ہو تو دو برس کا نر اونٹ دے (جسے ابن لبون کہتے ہیں) اور جب چھتیس ہو جائیں تو ان میں دو سال کی مادہ اونٹنی (بنت لبون) ہے، پینتالیس تک۔ اور جب چھیالیس ہو جائیں تو ان میں حقہ ہے (تین سال کی مادہ اونٹنی) جو جفتی کے لائق ہو، ساٹھ تک۔ جب اکسٹھ ہو جائیں تو ان میں جذعہ (چار سال کی مادہ اونٹنی) ہے، پچھتر تک۔ اور جب چھہتر ہو جائیں تو ان میں دو عدد بنت لبون (دو دو برس کی مادہ اونٹنیاں) ہیں، نوے تک۔ اور جب اکانوے ہو جائیں تو ان میں دو عدد حقہ (تین تین سال کی مادہ اونٹنیاں) ہیں، جو جفتی کے لائق ہوں، ایک سو بیس تک۔ اور جب ایک سو بیس سے بڑھ جائیں تو ہر چالیس میں بنت لبون (دو سال کی مادہ اونٹنی) اور ہر پچاس میں حقہ (تین سال کی مادہ اونٹنی) ہے۔ اگر زکوٰۃ میں واجب ہونے والے جانوروں کی عمروں میں فرق ہو، تو جس پر جذعہ لازم ہو (چار سال کی مادہ) مگر اس کے پاس جذعہ نہ ہو بلکہ (اس سے کم عمر) حقہ (تین سال کی اونٹنی) ہو تو اس سے حقہ لے لی جائے اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں ملا دے اگر میسر ہوں یا بیس درہم (چاندی کے) اور جس پر زکوٰۃ میں حقہ (تین سال کی) واجب ہوئی ہو، مگر اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ جذعہ (چار سال کی) ہو تو اس سے جذعہ لے لی جائے اور تحصیلدار اس کو بیس درہم دے دے یا دو بکریاں۔ اور جس پر حقہ (تین سال کی اونٹنی) واجب ہوئی ہو مگر موجود نہ ہو بلکہ بنت لبون (دو سال کی مادہ) ہو تو اس سے بنت لبون لے لی جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”حدیث کے اس حصے کے بعد مجھے اپنے شیخ موسیٰ بن اسماعیل سے حقہ ضبط نہیں ہے۔“ ”اور صاحب مال اس کے ساتھ دو بکریاں دے اگر میسر ہوں، یا بیس درہم۔ اور جس پر زکوٰۃ میں بنت لبون (دو سال کی مادہ) لازم آئی ہو مگر اس کے پاس حقہ (یعنی تین سال کی مادہ) ہو تو اس سے وہ حقہ لے لی جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حصے کے بعد مجھے خوب ضبط ہے، اور تحصیلدار اسے بیس درہم دے دے یا دو بکریاں۔ اور جس پر بنت لبون (دو سالہ مادہ) لاگو ہوئی ہو مگر اس کے پاس ایک سالہ (بنت مخاض) ہو تو اس سے وہی قبول کر لی جائے اور ساتھ دو بکریاں لی جائیں یا بیس درہم۔ اور جس پر بنت مخاض (ایک سالہ مادہ) لازم آئی ہو مگر اس کے پاس دو سالہ نر (ابن لبون) موجود ہو تو اس سے وہی لے لیا جائے مگر اس کے ساتھ کچھ (واپس) نہیں ہو گا۔ اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر کوئی زکوٰۃ واجب نہیں ہے الا یہ کہ ان کا مالک چاہے۔ اور چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ (کی تفصیل) یہ ہے کہ چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک میں ایک بکری ہے۔ اگر اس سے بڑھ جائیں تو دو بکریاں ہیں دو سو تک۔ دو سو سے زیادہ میں تین بکریاں ہیں، تین سو تک۔ اگر بکریاں تین سو سے بڑھ جائیں تو ہر ہر سو میں ایک بکری ہے۔ زکوٰۃ میں کوئی بوڑھی یا عیب دار بکری نہ لی جائے اور نہ بکرا (جفتی والا نر) ہی لیا جائے الا یہ کہ تحصیلدارِ زکوٰۃ کی خواہش ہو۔ اور زکوٰۃ کے خوف سے دو علیحدہ ریوڑوں کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے مال کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے۔ اور جن دو مشترک مالکوں کا مال اکٹھا ہو اور زکوٰۃ اکٹھی ہی لی گئی ہو تو وہ آپس میں برابر برابر لین دین کر لیں۔ اگر کسی کی جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس کی گنتی کو نہ پہنچتی ہوں تو ان میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے الا یہ کہ ان کا مالک چاہے۔ چاندی میں چالیسواں حصہ ہے۔ اگر مال صرف ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکوٰۃ نہیں الا یہ کہ اس کا مالک چاہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1567]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 33 (1448)، 39 (1455)، الشرکة 2 (2487)، فرض الخمس 5 (3016)، الحیل 3 (6955)، سنن النسائی/الزکاة 5 (2449)، 10 (2457)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 10 (1800)، (تحفة الأشراف: 6582)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/11، 13) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: بنت مخاض، بنت لبون، حقہ، جذعہ وغیرہ کی تشریح آگے باب نمبر (۷) تفسیر اسنان الابل میں دیکھئے۔
۲؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں، محصل آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجئے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں اور د وسو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں، کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جس میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور (۲۵) چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر، اب اگر محصل نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپے واپس کرے گا، اور اگر محصل نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ واپس کرے گا۔
۲؎: مثلاً دو شریک ہیں ایک کی ایک ہزار بکریاں ہیں اور دوسرے کی صرف چالیس بکریاں، اس طرح کل ایک ہزار چالیس بکریاں ہوئیں، محصل آیا اور اس نے دس بکریاں زکاۃ میں لے لیں، فرض کیجئے ہر بکری کی قیمت چھبیس چھبیس روپے ہے اس طرح ان کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے ہوئی جس میں دس روپے اس شخص کے ذمہ ہوں گے جس کی چالیس بکریاں ہیں اور د وسو پچاس روپے اس پر ہوں گے جس کی ایک ہزار بکریاں ہیں، کیونکہ ایک ہزار چالیس کے چھبیس چالیسے بنتے ہیں جس میں سے ایک چالیسہ کی زکاۃ چالیس بکریوں والے پر ہو گی اور (۲۵) چالیسوں کی زکاۃ ایک ہزار بکریوں والے پر، اب اگر محصل نے چالیس بکریوں والے شخص کی بکریوں سے دس بکریاں زکاۃ میں لی ہیں جن کی مجموعی قیمت دو سو ساٹھ روپے بنتی ہے تو ہزار بکریوں والا اسے ڈھائی سو روپے واپس کرے گا، اور اگر محصل نے ایک ہزار بکریوں والے شخص کی بکریوں میں سے لی ہیں تو چالیس بکریوں والا اسے دس روپیہ واپس کرے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1448)
حدیث نمبر: 1568
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ، فَلَمْ يُخْرِجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ، فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ فَكَانَ فِيهِ" فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ، وَفِي عَشْرٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْغَنَمُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمِائَةَ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ، قَالَ: وقَالَ الزُّهْرِيُّ: إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قُسِّمَتِ الشَّاءُ أَثْلَاثًا ثُلُثًا شِرَارًا، وَثُلُثًا خِيَارًا، وَثُلُثًا وَسَطًا، فَأَخَذَ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ" وَلَمْ يَذْكُرْ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کی کتاب لکھی، لیکن اسے اپنے عمال کے پاس بھیج نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی تلوار سے لگائے رکھا پھر اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا یہاں تک کہ وہ وفات پا گئے، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات تک اس پر عمل کیا، اس کتاب میں یہ تھا: ”پا نچ (۵) اونٹ میں ایک (۱) بکری ہے، دس (۱۰) اونٹ میں دو (۲) بکریاں، پندرہ (۱۵) اونٹ میں تین (۳) بکریاں، اور بیس (۲۰) میں چار (۴) بکریاں ہیں، پھر پچیس (۲۵) سے پینتیس (۳۵) تک میں ایک بنت مخاض ہے، پینتیس (۳۵) سے زیادہ ہو جائے تو پینتالیس (۴۵) تک ایک بنت لبون ہے، جب پینتالیس (۴۵) سے زیادہ ہو جائے تو ساٹھ (۶۰) تک ایک حقہ ہے، جب ساٹھ (۶۰) سے زیادہ ہو جائے تو پچہتر (۷۵) تک ایک جذعہ ہے، جب پچہتر (۷۵) سے زیادہ ہو جائے تو نوے (۹۰) تک دو بنت لبون ہیں، جب نوے (۹۰) سے زیادہ ہو جائیں تو ایک سو بیس (۱۲۰) تک دو حقے ہیں، اور جب اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس (۵۰) پر ایک حقہ اور ہر چالیس (۴۰) پر ایک بنت لبون واجب ہے۔ بکریوں میں چالیس (۴۰) سے لے کر ایک سو بیس (۱۲۰) بکریوں تک ایک (۱) بکری واجب ہو گی، اگر اس سے زیادہ ہو جائیں تو دو سو (۲۰۰) تک دو (۲) بکریاں ہیں، اس سے زیادہ ہو جائیں تو تین سو (۳۰۰) تک تین (۳) بکریاں ہیں، اگر اس سے بھی زیادہ ہو جائیں تو ہر سو (۱۰۰) بکری پر ایک (۱) بکری ہو گی، اور جو سو (۱۰۰) سے کم ہو اس میں کچھ بھی نہیں، زکاۃ کے ڈر سے نہ جدا مال کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھا مال کو جدا کیا جائے اور جو مال دو آدمیوں کی شرکت میں ہو وہ ایک دوسرے سے لے کر اپنا اپنا حصہ برابر کر لیں، زکاۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے گا“۔ زہری کہتے ہیں: جب مصدق (زکاۃ وصول کرنے والا) آئے تو بکریوں کے تین غول کریں گے، ایک غول میں گھٹیا درجہ کی بکریاں ہوں گی دوسرے میں عمدہ اور تیسرے میں درمیانی درجہ کی تو مصدق درمیانی درجہ کی بکریاں زکاۃ میں لے گا، زہری نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1568]
سالم اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کی تفصیل لکھی تھی مگر اسے اپنے عاملوں کی طرف بھیجنے نہ پائے تھے کہ آپ کی وفات ہو گئی جب کہ آپ نے اس کو اپنی تلوار کے ساتھ (نیام) میں رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل کیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہو گئی۔ اس میں یہ تحریر تھا: ”پانچ اونٹوں میں ایک بکری، دس میں دو بکریاں، پندرہ میں تین بکریاں اور بیس میں چار بکریاں ہیں۔ پچیس اونٹوں میں «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”ایک سالہ مادہ اونٹنی“ ہے، پینتیس تک۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو اس میں «بِنْتُ لَبُونٍ» ”دو سالہ اونٹنی“ ہے، پینتالیس تک۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں «حِقَّةٌ» ”تین سالہ اونٹنی“ ہے، ساٹھ تک۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں «جَذَعَةٌ» ”چار سالہ اونٹنی“ ہے، پچھتر تک۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں دو «بِنْتُ لَبُونٍ» ”دو دو سال کی اونٹنیاں“ ہیں، نوے تک۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں دو «حِقَّةٌ» ”تین تین سال کی مادہ“ ہیں، ایک سو بیس تک۔ اگر اونٹ اس سے زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک «حِقَّةٌ» ”تین سال کی مادہ“ اور ہر چالیس میں ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”دو سالہ“ ہے، اور بکریوں میں ہر چالیس میں ایک بکری ہے، ایک سو بیس تک۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو دو بکریاں ہیں دو سو تک۔ اگر دو سو سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں تین بکریاں ہیں تین سو تک۔ اگر بکریاں اس سے زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے۔ اور سو سے کم میں کچھ نہیں حتیٰ کہ سو پوری ہو جائیں۔ اکٹھے جانوروں کو زکوٰۃ کے اندیشے سے علیحدہ علیحدہ نہ کیا جائے اور علیحدہ علیحدہ کو جمع نہ کیا جائے۔ اور جن کے جانور اکٹھے ہوں وہ دونوں آپس میں برابر برابر لین دین کر لیں۔ اور زکوٰۃ میں کوئی بوڑھا یا عیب والا جانور نہ لیا جائے۔“ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب زکوٰۃ وصول کرنے والا آئے تو بکریوں کو تین حصوں میں بانٹ لیا جائے یعنی ہلکے، عمدہ اور درمیانے درجے میں اور تحصیلدار زکوٰۃ درمیانے درجے سے لے۔ امام زہری رحمہ اللہ نے گایوں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الزکاة 4 (621)، (تحفة الأشراف: 6813)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الزکاة 9 (1798)، موطا امام مالک/الزکاة 11 (23) (وجادةً)، سنن الدارمی/الزکاة 6 (1666)، مسند احمد (2/14، 15) (صحیح)» (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین زہری سے روایت میں ثقہ نہیں ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (1570 وسنده صحيح)
انظر الحديث الآتي (1570 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1569
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، قَالَ:" فَإِنْ لَمْ تَكُنْ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ" وَلَمْ يَذْكُرْ كَلَامَ الزُّهْرِيِّ.
محمد بن یزید واسطی کہتے ہیں ہمیں سفیان بن حسین نے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے اس میں ہے: ”اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون واجب ہو گا“، اور انہوں نے زہری کے کلام کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1569]
سفیان بن حسین نے اپنی (مذکورہ بالا) سند سے اور اسی کے ہم معنی بیان کیا اور کہا: ”اگر «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ اونٹنی) نہ ہو تو «ابْنُ لَبُونٍ» (دو سالہ نر) پیش کر دے۔“ اور زہری کا کلام ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:6813) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث الآتي (1570 وسنده صحيح)
انظر الحديث الآتي (1570 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 1570
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَهُ فِي الصَّدَقَةِ، وَهِيَ عِنْدَ آلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا، وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ وَحِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَابْنَتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَيُّ السِّنَّيْنِ وُجِدَتْ أُخِذَتْ وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ"، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، وَفِيهِ:" وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ".
ابن شہاب زہری کہتے ہیں یہ نقل ہے اس کتاب کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے تعلق سے لکھی تھی اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: اسے مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے پڑھایا تو میں نے اسے اسی طرح یاد کر لیا جیسے وہ تھی، اور یہی وہ نسخہ ہے جسے عمر بن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ بن عمر سے نقل کروایا تھا، پھر آگے انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا: ”جب ایک سو اکیس (۱۲۱) اونٹ ہو جائیں تو ان میں ایک سو انتیس (۱۲۹) تک تین (۳) بنت لبون واجب ہیں، جب ایک سو تیس (۱۳۰) ہو جائیں تو ایک سو انتالیس (۱۳۹) تک میں دو (۲) بنت لبون اور ایک (۱) حقہ ہیں، جب ایک سو چالیس (۱۴۰) ہو جائیں تو ایک سو انچاس (۱۴۹) تک دو (۲) حقہ اور ایک (۱) بنت لبون ہیں، جب ایک سو پچاس (۱۵۰) ہو جائیں تو ایک سو انسٹھ (۱۵۹) تک تین (۳) حقہ ہیں، جب ایک سو ساٹھ (۱۶۰) ہو جائیں تو ایک سو انہتر (۱۶۹) تک چار (۴) بنت لبون ہیں، جب ایک سو ستر (۱۷۰) ہو جائیں تو ایک سو اناسی (۱۷۹) تک تین (۳) بنت لبون اور ایک (۱) حقہ ہیں، جب ایک سو اسی (۱۸۰) ہو جائیں تو ایک سو نو اسی (۱۸۹) تک دو (۲) حقہ اور دو (۲) بنت لبون ہیں، جب ایک سو نوے (۱۹۰) ہو جائیں تو ایک سو ننانوے (۱۹۹) تک تین (۳) حقہ اور ایک (۱) بنت لبون ہیں، جب دو سو (۲۰۰) ہو جائیں تو چار (۴) حقے یا پانچ (۵) بنت لبون، ان میں سے جو بھی پائے جائیں، لے لیے جائیں گے“۔ اور ان بکریوں کے بارے میں جو چرائی جاتی ہوں، اسی طرح بیان کیا جیسے سفیان بن حصین کی روایت میں گزرا ہے، مگر اس میں یہ بھی ہے کہ زکاۃ میں بوڑھی یا عیب دار بکری نہیں لی جائے گی، اور نہ ہی غیر خصی (نر) لیا جائے گا سوائے اس کے کہ زکاۃ وصول کرنے والا خود چاہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1570]
ابن شہاب نے کہا: ”یہ نقل ہے اس تحریر کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ (زکوٰۃ) کے بارے میں لکھی تھی اور یہ آلِ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھی۔“ ابن شہاب نے کہا: ”اسے مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ نے پڑھوایا اور میں نے اس کو اسی طرح یاد کر لیا اور یہی وہ تحریر ہے جسے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے نقل کروایا تھا اور حدیث بیان کی۔“ کہا: ”جب (اونٹوں کی تعداد) ایک سو اکیس ہو جائے تو ان میں تین «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ (دو دو سالہ مادہ) ہیں، ایک سو انتیس تک۔ جب ایک سو تیس ہو جائیں تو ان میں دو «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ (دو دو سالہ مادہ) اور ایک «حِقَّةٌ» ”حقہ“ (تین سالہ مادہ) ہو گی، ایک سو انتالیس تک۔ اور جب ایک سو چالیس ہو جائیں تو ان میں دو «حِقَّةٌ» ”حقے“ (تین تین سالہ مادہ) اور ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ (دو سالہ مادہ) ہو گی ایک سو انچاس تک۔ جب ایک سو پچاس ہو جائیں تو ان میں تین عدد «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہوں گی (تین تین سالہ مادہ) ایک سو انسٹھ تک۔ جب ایک سو ساٹھ ہو جائیں تو ان میں چار عدد «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہوں گی ایک سو انہتر تک۔ جب ایک سو ستر ہو جائیں تو ان میں تین عدد «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ اور ایک «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہو گی ایک سو اناسی تک۔ جب ایک سو اسی ہو جائیں تو اس میں دو عدد «حِقَّةٌ» ”حقے“ اور دو عدد «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہوں گی، ایک سو نواسی تک۔ جب ایک سو نوے ہو جائیں تو ان میں تین عدد «حِقَّةٌ» ”حقے“ اور ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہوں گی، ایک سو ننانوے تک۔ اور جب دو سو ہو جائیں تو ان میں چار عدد «حِقَّةٌ» ”حقے“ یا پانچ عدد «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہوں گی، جس عمر کا جانور بھی ہو لے لیا جائے۔ اور چرنے والی بکریوں میں۔“ حدیث سفیان بن حسین کی مانند ذکر کی۔ اس میں ہے: ”صدقے میں کوئی بوڑھی یا عیب دار بکری نہ لی جائے اور نہ نر بکرا الا یہ کہ تحصیلدارِ زکوٰۃ چاہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1568)، (تحفة الأشراف:6813، 18670) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
سنده صحيح إلي سالم بن عبد الله بن عمر وكان عنده كتاب عمر رضي الله عنه والرواية عن كتاب صحيحة لأنھا وجادة
سنده صحيح إلي سالم بن عبد الله بن عمر وكان عنده كتاب عمر رضي الله عنه والرواية عن كتاب صحيحة لأنھا وجادة
حدیث نمبر: 1571
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: وَقَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، هُوَ أَنْ يَكُونَ لِكُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعُونَ شَاةً، فَإِذَا أَظَلَّهُمُ الْمُصَدِّقُ جَمَعُوهَا لِئَلَّا يَكُونَ فِيهَا إِلَّا شَاةٌ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ أَنَّ الْخَلِيطَيْنِ إِذَا كَانَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةُ شَاةٍ وَشَاةٌ فَيَكُونُ عَلَيْهِمَا فِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَإِذَا أَظَلَّهُمَا الْمُصَدِّقُ فَرَّقَا غَنَمَهُمَا فَلَمْ يَكُنْ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَّا شَاةٌ، فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِكَ.
عبداللہ بن مسلمہ کہتے ہیں کہ مالک نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قول ”جدا جدا مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور نہ اکٹھے مال کو جدا کیا جائے گا“ کا مطلب یہ ہے: مثلاً ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، جب مصدق ان کے پاس زکاۃ وصول کرنے آئے تو وہ سب اپنی بکریوں کو ایک جگہ کر دیں تاکہ ایک ہی شخص کی تمام بکریاں سمجھ کر ایک بکری زکاۃ میں لے، ”اکٹھا مال جدا نہ کئے جانے“ کا مطلب یہ ہے: دو ساجھے دار ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہوں (دونوں کی ملا کر دو سو دو) تو دونوں کو ملا کر تین بکریاں زکاۃ کی ہوتی ہیں، لیکن جب زکاۃ وصول کرنے والا آتا ہے تو دونوں اپنی اپنی بکریاں الگ کر لیتے ہیں، اس طرح ہر ایک پر ایک ہی بکری لازم ہوتی ہے، یہ ہے وہ چیز جو میں نے اس سلسلے میں سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1571]
امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ”متفرق مال کو جمع یا اکٹھے مال کو جدا جدا نہ کیا جائے۔“ وہ یوں کہ مثلاً ہر شخص کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، جب تحصیلدارِ زکاۃ آئے تو وہ اپنے مال کو اکٹھا کر کے دکھائیں، تاکہ اس میں ایک بکری ہی آئے، اور اکٹھے مال کو جدا جدا نہ کیا جائے یعنی دو خلیط (شریک) ہوں اور ہر ایک کی ایک سو ایک بکری ہو (مجموعہ دو سو دو) تو اس میں تین بکریاں زکاۃ ہے، مگر تحصیلدارِ زکاۃ کی آمد پر یہ اپنے اپنے مال کو جدا جدا کر لیں تو ہر ایک پر صرف ایک ایک بکری آئے گی۔ (اس طرح ایک بکری بچا لیں) اس کی میں نے یہی تفصیل سنی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1571]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:19254)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 11 (23) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
سنده صحيح الي مالك بن انس المدني، وھو في الموطأ (رواية يحييٰ: 1/ 264) قال معاذ علي زئي: قد ثبت عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه أنه قال: ’’ولا يجمع بين متفرق، ولا يفرق بين مجتمع، خشية الصدقة‘‘ (صحيح بخاري: 145)
سنده صحيح الي مالك بن انس المدني، وھو في الموطأ (رواية يحييٰ: 1/ 264) قال معاذ علي زئي: قد ثبت عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه أنه قال: ’’ولا يجمع بين متفرق، ولا يفرق بين مجتمع، خشية الصدقة‘‘ (صحيح بخاري: 145)
حدیث نمبر: 1572
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنْ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّه قَالَ:" هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَيْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ، وَفِي الْغَنَمِ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا تِسْعٌ وَثَلَاثُونَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَيْءٌ" وَسَاقَ صَدَقَةَ الْغَنَمِ مِثْلَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ:" وَفِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الْأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ، وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَيْءٌ، وَفِي الْإِبِلِ" فَذَكَرَ صَدَقَتَهَا كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ، قَالَ:" وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسَةٌ مِنَ الْغَنَمِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَ" ثُمَّ سَاقَ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ:" فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، يَعْنِي وَاحِدَةً وَتِسْعِينَ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ وَلَا تَيْسٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَفِي النَّبَاتِ مَا سَقَتْهُ الْأَنْهَارُ أَوْ سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ، وَمَا سَقَى الْغَرْبُ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ"، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ، وَالْحَارِثِ: الصَّدَقَةُ فِي كُلِّ عَامٍ، قَالَ زُهَيْرٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مَرَّةً، وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ:" إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الْإِبِلِ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَلَا ابْنُ لَبُونٍ فَعَشَرَةُ دَرَاهِمَ أَوْ شَاتَانِ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”چالیسواں حصہ نکالو، ہر چالیس (۴۰) درہم میں ایک (۱) درہم، اور جب تک دو سو (۲۰۰) درہم پورے نہ ہوں تم پر کچھ لازم نہیں آتا، جب دو سو (۲۰۰) درہم پورے ہوں تو ان میں پانچ (۵) درہم زکاۃ کے نکالو، پھر جتنے زیادہ ہوں اسی حساب سے ان کی زکاۃ نکالو، بکریوں میں جب چالیس (۴۰) ہوں تو ایک (۱) بکری ہے، اگر انتالیس (۳۹) ہوں تو ان میں کچھ لازم نہیں“، پھر بکریوں کی زکاۃ اسی طرح تفصیل سے بیان کی جو زہری کی روایت میں ہے۔ گائے بیلوں میں یہ ہے کہ ہر تیس (۳۰) گائے یا بیل پر ایک سالہ گائے دینی ہو گی اور ہر چا لیس (۴۰) میں دو سالہ گائے دینی ہو گی، باربرداری والے گائے بیلوں میں کچھ لازم نہیں ہے، اونٹوں کے بارے میں زکاۃ کی وہی تفصیل اسی طرح بیان کی جو زہری کی روایت میں گزری ہے، البتہ اتنے فرق کے ساتھ کہ پچیس (۲۵) اونٹوں میں پانچ (۵) بکریاں ہوں گی، ایک بھی زیادہ ہونے یعنی چھبیس (۲۶) ہو جانے پر پینتیس (۳۵) تک ایک (۱) بنت مخاض ہو گی، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون نر ہو گا، اور جب چھتیس (۳۶) ہو جائیں تو پینتالیس (۴۵) تک ایک (۱) بنت لبون ہے، جب چھیالیس (۴۶) ہو جائیں تو ساٹھ (۶۰) تک ایک (۱) حقہ ہے جو نر اونٹ کے لائق ہو جاتی ہے“، اس کے بعد اسی طرح بیان کیا ہے جیسے زہری نے بیان کیا یہاں تک کہ جب اکیانوے (۹۱) ہو جائیں تو ایک سو بیس (۱۲۰) تک دو (۲) حقہ ہوں گی جو جفتی کے لائق ہوں، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس (۵۰) پر ایک (۱) حقہ دینا ہو گا، زکاۃ کے خوف سے نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے اور نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے، اسی طرح نہ کوئی بوڑھا جانور قابل قبول ہو گا اور نہ عیب دار اور نہ ہی نر، سوائے اس کے کہ مصدق کی چاہت ہو۔ (زمین سے ہونے والی)، پیداوار کے سلسلے میں کہا کہ نہر یا بارش کے پانی کی سینچائی سے جو پیداوار ہوئی ہو، اس میں دسواں حصہ لازم ہے اور جو پیداوار رہٹ سے پانی کھینچ کر کی گئی ہو، اس میں بیسواں حصہ لیا جائے گا“۔ عاصم اور حارث کی ایک روایت میں ہے کہ زکاۃ ہر سال لی جائے گی۔ زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر سال ایک بار کہا۔ عاصم کی روایت میں ہے: ”جب بنت مخاض اور ابن لبون بھی نہ ہو تو دس درہم یا دو بکریاں دینی ہوں گی“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1572]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے (راویِ حدیث) زہیر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیسواں حصہ ادا کرو، ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم۔ اور جب تک دو سو درہم پورے نہ ہو جائیں، تم پر کچھ لازم نہیں۔ جب دو سو درہم ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم (زکوٰۃ) ہے۔ اور جو اس سے زیادہ ہو وہ اسی حساب سے ہے (اس کی چالیسواں حصہ زکوٰۃ دی جائے) اور بکریوں میں ہر چالیس میں ایک بکری ہے۔ یہ اگر انتالیس ہوں تو تم پر ان میں کچھ نہیں۔“ اور ان کی تفصیل اسی طرح بیان کی جیسے کہ زہری کی روایت میں بیان ہو چکی ہے۔ اور گایوں بیلوں کی زکوٰۃ میں فرمایا: ”ہر تیس جانوروں میں ایک سالہ بچھڑا ہے اور ہر چالیس میں دو سالہ۔ اور ایسے جانور جن سے کام لیا جاتا ہے ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔“ اور اونٹوں کی زکوٰۃ سابقہ حدیث زہری کی مانند بیان کی۔ کہا: ”پچیس اونٹوں میں پانچ بکریاں ہیں۔ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ مادہ) ہے۔ اگر «بِنْتُ مَخَاضٍ» نہ ہو تو «ابْنُ لَبُونٍ» مذکر (دو سالہ اونٹ) پینتیس تک۔“ اگر ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ہے (دو سالہ مادہ) پینتالیس تک۔ جب ایک بھی بڑھ جائے تو ان میں ایک «حِقَّةٌ» ہے (تین سالہ مادہ) جو جفتی کے قابل ہو، ساٹھ تک۔ پھر حدیث زہری کی مانند بیان کیا۔ اور کہا: ”اگر ایک بھی بڑھ جائے یعنی اکانوے ہو جائیں تو ان میں دو «حِقَّتَانِ» ہیں جو کہ جفتی کے قابل ہوں۔ ایک سو بیس تک۔ جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہو جائے تو ہر پچاس میں ایک «حِقَّةٌ» (تین سالہ مادہ) ہے۔ زکوٰۃ کے خوف سے اکٹھے جانوروں کو جدا جدا نہ کیا جائے اور نہ علیحدہ علیحدہ کو جمع کیا جائے۔ اور زکوٰۃ میں کوئی بوڑھا یا عیب دار یا نر (جفتی والا) جانور نہ لیا جائے، الا یہ کہ تحصیلدار چاہے (نر لے سکتا ہے) اور زرعی اجناس میں جو زمینیں دریا یا بارش سے سیراب ہوتی ہوں ان میں دسواں حصہ ہے اور جو ڈول (رہٹ، ٹیوب ویل وغیرہ) سے سیراب ہوتی ہوں ان میں بیسواں حصہ ہے۔“ عاصم اور حارث کی روایت میں ہے ”زکوٰۃ ہر سال ہے۔“ زہیر نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا: ”(ہر سال) ایک بار ہے۔“ عاصم کی روایت میں ہے: ”اگر اونٹوں میں «بِنْتُ مَخَاضٍ» (ایک سالہ مادہ) یا «ابْنُ لَبُونٍ» (دو سالہ نر) نہ ہو تو دس درہم یا دو بکریاں دے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الزکاة 4 (1790)، سنن الدارمی/الزکاة 7 (1669)، (تحفة الأشراف:10039)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 3 (620)، سنن النسائی/الزکاة 18 (2479)، مسند احمد (1/121، 132، 146) (صحیح) (شواہد کی بنا پر صحیح ہے، ملاحظہ ہو:صحیح ابی داود5/291)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1790)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1790)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
حدیث نمبر: 1573
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَسَمَّى آخَرَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ أَوَّلِ هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ، يَعْنِي فِي الذَّهَبِ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا كَانَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ فَمَا زَادَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي، أَعَلِيٌّ يَقُولُ: فَبِحِسَابِ ذَلِكَ؟ أَوْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ"، إِلَّا أَنَّ جَرِيرًا، قَالَ: ابْنُ وَهْبٍ يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ".
علی رضی اللہ عنہ اس حدیث کے ابتدائی کچھ حصہ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو سو (۲۰۰) درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان میں پانچ (۵) درہم زکاۃ ہو گی، اور سونا جب تک بیس (۲۰) دینار نہ ہو اس میں تم پر زکاۃ نہیں، جب بیس (۲۰) دینار ہو جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں آدھا دینار زکاۃ ہے، پھر جتنا زیادہ ہو اس میں اسی حساب سے زکاۃ ہو گی (یعنی چالیسواں حصہ)“۔ راوی نے کہا: مجھے یاد نہیں کہ «فبحساب ذلك» علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے یا اسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع کیا ہے؟ اور کسی بھی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک کہ اس پر سال نہ گزر جائے، مگر جریر نے کہا ہے کہ ابن وہب اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا اضافہ کرتے ہیں: ”کسی مال میں زکاۃ نہیں ہے جب تک اس پر سال نہ گزر جائے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1573]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، اس کا کچھ ابتدائی حصہ وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا، کہا: ”جب تمہارے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر پانچ درہم (زکوٰۃ) ہے، اور سونے میں تم پر کچھ نہیں حتیٰ کہ تمہارے پاس بیس دینار ہوں، پس جب تمہارے پاس بیس دینار ہوں اور ان پر ایک سال گزر جائے تو ان پر آدھا دینار (زکوٰۃ) ہے اور جو زیادہ ہو تو وہ اسی حساب سے ہو گا۔“ (ابواسحاق نے) کہا: ”مجھے نہیں معلوم کہ ”اسی حساب سے“ والی بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود کہی ہے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے۔“ ”اور کسی مال پر زکوٰۃ نہیں حتیٰ کہ اس پر سال گزر جائے۔“ (راویِ حدیث) جریر کا بیان ہے کہ ابن وہب حدیث میں یہ اضافہ کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”کسی مال پر زکوٰۃ نہیں حتیٰ کہ اس پر سال گزر جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف:10039) (صحیح) (شواہد کی بناپر صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود5/294)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1572)
وروي الإمام مالك عن ابن عمر قال: ’’ لا تجب في مال زكوة حتي يحول عليه الحول ‘‘ (الموطأ رواية يحيي 246/1 ح 584) وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1572)
وروي الإمام مالك عن ابن عمر قال: ’’ لا تجب في مال زكوة حتي يحول عليه الحول ‘‘ (الموطأ رواية يحيي 246/1 ح 584) وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
حدیث نمبر: 1574
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ عَفَوْتُ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ فَهَاتُوا صَدَقَةَ الرِّقَةِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمًا، وَلَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، كَمَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَى حَدِيثَ النُّفَيْلِيِّ شُعْبَةُ، وَسُفْيَانُ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَلِيٍّ، لَمْ يَرْفَعُوهُ أَوْقَفُوهُ عَلَى عَلِيٍّ" 10.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے گھوڑا، غلام اور لونڈی کی زکاۃ معاف کر دی ہے لہٰذا تم چاندی کی زکاۃ دو، ہر چالیس (۴۰) درہم پہ ایک (۱) درہم، ایک سو نوے (۱۹۰) درہم میں کوئی زکاۃ نہیں، جب دو سو (۲۰۰) درہم پورے ہو جائیں تو ان میں پانچ (۵) درہم ہے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش نے ابواسحاق سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے ابوعوانہ نے کی ہے اور اسے شیبان ابومعاویہ اور ابراہیم بن طہمان نے ابواسحاق سے، ابواسحاق، حارث سے حارث نے علی رضی اللہ عنہ سے اور علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نفیلی کی حدیث شعبہ و سفیان اور ان کے علاوہ لوگوں نے ابواسحاق سے ابواسحاق نے عاصم سے عاصم نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوعاً کے بجائے علی رضی اللہ عنہ پر موقوفاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1574]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (تم سے) گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ معاف کر دی ہے۔ سو تم چاندی کی زکوٰۃ لاؤ، ہر چالیس درہم میں ایک درہم اور ایک سو نوے درہم میں کوئی زکوٰۃ نہیں۔ جب دو سو ہو جائیں تو ان میں پانچ درہم ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اس حدیث کو اعمش نے ابواسحاق سے روایت کیا ہے جیسے کہ ابوعوانہ نے کہا ہے، نیز شیبان، ابومعاویہ اور ابراہیم بن طہمان نے ابواسحاق سے، انہوں نے حارث سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”عبداللہ بن محمد نفیلی کی حدیث شعبہ اور سفیان وغیرہ نے ابواسحاق سے، انہوں نے عاصم سے، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے مگر مرفوع نہیں کیا ہے بلکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر موقوف کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/ الزکاة 3 (620)، سنن النسائی/الزکاة 18 (2479)، (تحفة الأشراف:10136)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/92، 113) (صحیح) (شواہد کی بناپر صحیح ہے،ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 5/295)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (620) نسائي (2479) ابن ماجه (1790)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
إسناده ضعيف
ترمذي (620) نسائي (2479) ابن ماجه (1790)
أبو إسحاق مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
حدیث نمبر: 1575
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي كُلِّ سَائِمَةِ إِبِلٍ فِي أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَلَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا، قَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا، وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ".
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چرنے والے اونٹوں میں چالیس (۴۰) میں ایک (۱) بنت لبون ہے، (زکاۃ بچانے کے خیال سے) اونٹ اپنی جگہ سے اِدھر اُدھر نہ کئے جائیں، جو شخص ثواب کی نیت سے زکاۃ دے گا اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو اسے روکے گا ہم اس سے اسے وصول کر لیں گے، اور (زکاۃ روکنے کی سزا میں) اس کا آدھا مال لے لیں گے، یہ ہمارے رب عزوجل کے تاکیدی حکموں میں سے ایک تاکیدی حکم ہے، آل محمد کا اس میں کوئی حصہ نہیں“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1575]
بہز بن حکیم اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چالیس اونٹوں میں جو کہ جنگل میں چرتے ہوں، ایک بنت لبون (دو سالہ مادہ) ہے اور انہیں ان کے حساب سے جدا جدا نہ کیا جائے۔ جو شخص اجر و ثواب کی نیت سے دے گا، ابن العلاء نے «مُؤْتَجِرًا بِهَا» کے الفاظ کہے، تو اس کے لیے اس کا اجر و ثواب ہے اور جو (زکوٰۃ کو) روکے گا تو ہم اس سے وصول کریں گے اور آدھا مال (مزید بھی)؛ یہ ہمارے رب تعالیٰ عزوجل کے واجبات میں سے ایک واجب ہے، اس میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 4 (2446)، 7 (2451)، (تحفة الأشراف:11384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/2، 4)، سنن الدارمی/الزکاة 36 (1719) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: جرمانے کا یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا، بعد میں منسوخ ہو گیا، اکثر علماء کے قول کے مطابق یہی راجح مسلک ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (2446 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2266 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (2446 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2266 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 1576
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ" أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمًا دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِ ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيَمَنِ".
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف روانہ کیا تو یہ حکم دیا کہ وہ گائے بیلوں میں ہر تیس (۳۰) پر ایک سالہ بیل یا گائے لیں، اور چالیس (۴۰) پر دو سالہ گائے، اور ہر بالغ مرد سے (جو کافر ہو) ایک دینار یا ایک دینار کے بدلے اسی قیمت کے کپڑے جو یمن کے معافر نامی مقام میں تیار کئے جاتے ہیں (بطور جزیہ) لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1576]
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تھا: ”گائیوں میں ہر تیس میں ایک سالہ بچھڑا یا بچھڑی لینا اور ہر چالیس میں سے دو سالہ۔ اور ہر (غیر مسلم) بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر معافری کپڑا جو کہ یمن میں ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1576]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 8 (2455)، (تحفة الأشراف:11312)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة 12(24)، مسند احمد (5/230، 233، 247)، سنن الدارمی/الزکاة 5 (1663) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (2455) الحديث الآتي (3038)
الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63
إسناده ضعيف
نسائي (2455) الحديث الآتي (3038)
الأعمش مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 63