🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب من يعطى من الصدقة وحد الغنى
باب: زکاۃ کسے دی جائے؟ اور غنی (مالداری) کسے کہتے ہیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1630
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا، قَالَ: فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَعْطِنِي مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے بیعت کی، پھر ایک لمبی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے کہا: آپ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: مجھے صدقے میں سے دیجئیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقے کے سلسلے میں نہ پیغمبر کے اور نہ کسی اور کے حکم پر راضی ہوا بلکہ خود اس نے اس سلسلے میں حکم دیا اور اسے آٹھ حصوں میں بانٹ دیا اب اگر تم ان آٹھوں ۱؎ میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دوں گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1630]
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی اور لمبی حدیث بیان کی اور کہا: پھر ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ مجھے صدقہ میں سے کچھ دیجیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عز وجل نے صدقات کی تقسیم کا مسئلہ نبی یا کسی دوسرے کی پسند پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے بارے میں خود ہی فیصلہ فرمایا ہے اور انہیں آٹھ قسم کے افراد میں تقسیم فرما دیا ہے۔ اگر تم ان میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیے دیتا ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:3654) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں)
وضاحت: ۱؎: ان آٹھ قسموں کا ذکر اس آیت میں ہے: «إنما الصدقات للفقراء والمساكين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل الله وابن السبيل فريضة من الله والله عليم حكيم» (سورة التوبة: ۶۰)، زکاۃ صرف فقراء، مساکین اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے ہے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے ہے اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کے لئے یہ فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ علم و حکمت والاہے ۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الإفريقي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 66

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زياد بن الحارث الصدائيصحابي
👤←👥زياد بن نعيم الحضرمي
Newزياد بن نعيم الحضرمي ← زياد بن الحارث الصدائي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن زياد الإفريقي، أبو خالد، أبو أيوب
Newعبد الرحمن بن زياد الإفريقي ← زياد بن نعيم الحضرمي
ضعيف الحديث
👤←👥عبد الله بن عمر الرعيني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر الرعيني ← عبد الرحمن بن زياد الإفريقي
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← عبد الله بن عمر الرعيني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1630
لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها هو فجزأها ثمانية أجزاء فإن كنت من تلك الأجزاء أعطيتك حقك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1630 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1630
1630. اردو حاشیہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ لیکن اس میں جو بات بیان ہوئی ہے۔ وہ صحیح ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے زکواۃ کےمستحقین کا زکر سورۃ توبہ کی اس آیت میں کیا ہے۔ <قرآن> (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)(التوبہ۔60) اور اس مسئلے میں اہل علم کے دو قول معروف ہیں۔ ایک یہ کہ صدقہ کے مال کو آیت کریمہ میں مذکور آٹھواں اصناف میں تقسیم کرناواجب ہے۔ یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور چنددیگر علماء سے مروی ہے۔اور دوسرے قول کے مطابق امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان سے قبل کئی ایک صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کا کہناہے۔ کہ کسی ایک یا چند لوگوں کو دے دینا بھی کافی اور صحیح ہے۔ جیسے کہ امام المسلمین اور صاحب صدقہ کی ترجیح ہو اور یہی موقف راحج ہے۔(تفسیر شوکانی]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1630]

Sunan Abi Dawud Hadith 1630 in Urdu