سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب فِي الْهَدْىِ
باب: ہدی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1749
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ الْمَعْنَى، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ، حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَهْدَى عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي هَدَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَلًا كَانَ لِأَبِي جَهْلٍ فِي رَأْسِهِ بُرَةُ فِضَّةٍ"، قَالَ ابْنُ مِنْهَالٍ:" بُرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ"، زَادَ النُّفَيْلِيُّ:" يَغِيظُ بِذَلِكَ الْمُشْرِكِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ ”سونے کا چھلا تھا“، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ”اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1749]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے سال قربانی کے جانور (ساتھ) لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان قربانیوں میں ایک اونٹ وہ بھی تھا جو ابوجہل کا تھا، اس کی ناک میں چاندی کا چھلا پڑا ہوا تھا“۔ ابن منہال نے کہا: ”سونے کا چھلا پڑا ہوا تھا“۔ نفیلی نے اضافہ کیا کہ ”آپ اسے مشرکوں کو جلانے کے لیے لے گئے تھے (کہ ان کے سردار کا اونٹ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں ہے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6406)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 98 (3100) مسند احمد (1/261، 273) (حسن) بلفظ: ’’فضة‘‘»
وضاحت: ۱؎: ”ہدی“: حج میں ذبح کے لئے لے جانے والے جانور کو کہتے ہیں۔
۲؎: یہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔
۳؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
۲؎: یہ اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں بطور غنیمت ملا تھا۔
۳؎: تاکہ یہ تأثر دیا جائے کہ مشرکین کے سردار کا اونٹ مسلمانوں کے قبضے میں ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن بلفظ فضة
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (2640)
وللحديث شواھد عند مالك (1/337) وابن ماجه (3100، 3101) وغيرھما
مشكوة المصابيح (2640)
وللحديث شواھد عند مالك (1/337) وابن ماجه (3100، 3101) وغيرھما
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1749
| أهدى عام الحديبية في هدايا رسول الله جملا كان لأبي جهل في رأسه برة فضة |
سنن ابن ماجه |
3100
| أهدى في بدنه جملا لأبي جهل برته من فضة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1749 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1749
1749. اردو حاشیہ:
➊ جانوروں کی نکیل وغیرہ میں تھوڑی بہت چاندی کا استعمال مباح ہے۔
➋ اسلام اور مسلمانوں کا اظہار وغلبہ اورکفر و کفار کو زیر کرنا اور انہیں ذلیل رکھنا دین حق کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس سے کفار جلتے اور مسلمانو ں کے سینے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کے اونٹ کو بطور خاص قربانی کے لیے لے جانا اسی مقصد سے تھا۔ اور یہ مضمون سورہ توبہ ی کی آیت 14اور 15 میں بھی آیا ہے فرمایا: <قرآن> ﴿قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُركُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ قَومٍ مُؤمِنينَ * وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم .................. ﴾ ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گااور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا۔
➊ جانوروں کی نکیل وغیرہ میں تھوڑی بہت چاندی کا استعمال مباح ہے۔
➋ اسلام اور مسلمانوں کا اظہار وغلبہ اورکفر و کفار کو زیر کرنا اور انہیں ذلیل رکھنا دین حق کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس سے کفار جلتے اور مسلمانو ں کے سینے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کے اونٹ کو بطور خاص قربانی کے لیے لے جانا اسی مقصد سے تھا۔ اور یہ مضمون سورہ توبہ ی کی آیت 14اور 15 میں بھی آیا ہے فرمایا: <قرآن> ﴿قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُركُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ قَومٍ مُؤمِنينَ * وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم .................. ﴾ ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گااور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1749]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3100
ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو (جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3100]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو (جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3100]
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل:
(1)
اونٹوں کے ریوڑ میں زیادہ تر اونٹنیاں ہوتی ہیں لہٰذا ہدی اور قربانی میں بھی زیادی تر وہی قربان ہوتی ہیں۔
اس حدیث میں نر اونٹ کا ذکر ہےلہٰذا مذکر اور مؤنث دونوں کی قربانی کا جواز ثابت ہوگیا۔
(2)
ابو جہل کا اونٹ غنیمت میں حاصل ہوا اس لیے کفر پر غلبے کے شکر کے طور پر کافروں کے سردار سے حاصل ہونے والا اونٹ ذنح کیا گیا۔
(3)
اونٹ کو چاندی کے حلقے والی نکیل غالباًابو جہل نے ڈالی ہوگی۔
جس سے فخر کا اظہار ہوتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں قربان کرکے اپنی عبودیت کا اظہار فرمایا۔
فوئاد و مسائل:
(1)
اونٹوں کے ریوڑ میں زیادہ تر اونٹنیاں ہوتی ہیں لہٰذا ہدی اور قربانی میں بھی زیادی تر وہی قربان ہوتی ہیں۔
اس حدیث میں نر اونٹ کا ذکر ہےلہٰذا مذکر اور مؤنث دونوں کی قربانی کا جواز ثابت ہوگیا۔
(2)
ابو جہل کا اونٹ غنیمت میں حاصل ہوا اس لیے کفر پر غلبے کے شکر کے طور پر کافروں کے سردار سے حاصل ہونے والا اونٹ ذنح کیا گیا۔
(3)
اونٹ کو چاندی کے حلقے والی نکیل غالباًابو جہل نے ڈالی ہوگی۔
جس سے فخر کا اظہار ہوتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں قربان کرکے اپنی عبودیت کا اظہار فرمایا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3100]
Sunan Abi Dawud Hadith 1749 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي