سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب : الهدي من الإناث والذكور
باب: ہدی میں نر اور مادہ دونوں کے جواز کا بیان۔
حدیث نمبر: 3100
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْدَى فِي بُدْنِهِ جَمَلًا لِأَبِي جَهْلٍ بُرَتُهُ مِنْ فِضَّةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو (جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3100]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹوں میں ہدی کے طور پر ابوجہل کا اونٹ بھی شامل کیا، اس (کی تکمیل) کا حلقہ چاندی کا تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3100]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6481)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 269) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «جمل» (اونٹ) کا لفظ ہے جو نر اونٹ کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
1749
| أهدى عام الحديبية في هدايا رسول الله جملا كان لأبي جهل في رأسه برة فضة |
سنن ابن ماجه |
3100
| أهدى في بدنه جملا لأبي جهل برته من فضة |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3100 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3100
اردو حاشہ:
فوئاد و مسائل:
(1)
اونٹوں کے ریوڑ میں زیادہ تر اونٹنیاں ہوتی ہیں لہٰذا ہدی اور قربانی میں بھی زیادی تر وہی قربان ہوتی ہیں۔
اس حدیث میں نر اونٹ کا ذکر ہےلہٰذا مذکر اور مؤنث دونوں کی قربانی کا جواز ثابت ہوگیا۔
(2)
ابو جہل کا اونٹ غنیمت میں حاصل ہوا اس لیے کفر پر غلبے کے شکر کے طور پر کافروں کے سردار سے حاصل ہونے والا اونٹ ذنح کیا گیا۔
(3)
اونٹ کو چاندی کے حلقے والی نکیل غالباًابو جہل نے ڈالی ہوگی۔
جس سے فخر کا اظہار ہوتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں قربان کرکے اپنی عبودیت کا اظہار فرمایا۔
فوئاد و مسائل:
(1)
اونٹوں کے ریوڑ میں زیادہ تر اونٹنیاں ہوتی ہیں لہٰذا ہدی اور قربانی میں بھی زیادی تر وہی قربان ہوتی ہیں۔
اس حدیث میں نر اونٹ کا ذکر ہےلہٰذا مذکر اور مؤنث دونوں کی قربانی کا جواز ثابت ہوگیا۔
(2)
ابو جہل کا اونٹ غنیمت میں حاصل ہوا اس لیے کفر پر غلبے کے شکر کے طور پر کافروں کے سردار سے حاصل ہونے والا اونٹ ذنح کیا گیا۔
(3)
اونٹ کو چاندی کے حلقے والی نکیل غالباًابو جہل نے ڈالی ہوگی۔
جس سے فخر کا اظہار ہوتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں قربان کرکے اپنی عبودیت کا اظہار فرمایا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3100]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1749
ہدی کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ ”سونے کا چھلا تھا“، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ”اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1749]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال ہدی ۱؎ کے لیے جو اونٹ بھیجا ان میں ایک اونٹ ابوجہل کا ۲؎ تھا، اس کے سر میں چاندی کا چھلا پڑا تھا، ابن منہال کی روایت میں ہے کہ ”سونے کا چھلا تھا“، نفیلی کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ”اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو غصہ دلا رہے تھے ۳؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1749]
1749. اردو حاشیہ:
➊ جانوروں کی نکیل وغیرہ میں تھوڑی بہت چاندی کا استعمال مباح ہے۔
➋ اسلام اور مسلمانوں کا اظہار وغلبہ اورکفر و کفار کو زیر کرنا اور انہیں ذلیل رکھنا دین حق کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس سے کفار جلتے اور مسلمانو ں کے سینے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کے اونٹ کو بطور خاص قربانی کے لیے لے جانا اسی مقصد سے تھا۔ اور یہ مضمون سورہ توبہ ی کی آیت 14اور 15 میں بھی آیا ہے فرمایا: <قرآن> ﴿قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُركُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ قَومٍ مُؤمِنينَ * وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم .................. ﴾ ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گااور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا۔
➊ جانوروں کی نکیل وغیرہ میں تھوڑی بہت چاندی کا استعمال مباح ہے۔
➋ اسلام اور مسلمانوں کا اظہار وغلبہ اورکفر و کفار کو زیر کرنا اور انہیں ذلیل رکھنا دین حق کا مطلوب و مقصود ہے۔ اس سے کفار جلتے اور مسلمانو ں کے سینے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کے اونٹ کو بطور خاص قربانی کے لیے لے جانا اسی مقصد سے تھا۔ اور یہ مضمون سورہ توبہ ی کی آیت 14اور 15 میں بھی آیا ہے فرمایا: <قرآن> ﴿قـٰتِلوهُم يُعَذِّبهُمُ اللَّهُ بِأَيديكُم وَيُخزِهِم وَيَنصُركُم عَلَيهِم وَيَشفِ صُدورَ قَومٍ مُؤمِنينَ * وَيُذهِب غَيظَ قُلوبِهِم .................. ﴾ ان سے تم جنگ کرو اللہ تعالیٰ انہیں تمہارے ہاتھوں عذاب دے گا، انہیں ذلیل ورسوا کرے گا، تمہیں ان پر مدد دے گا اور مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے کرے گااور ان کے دل کا غم وغصہ دور کرے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1749]
Sunan Ibn Majah Hadith 3100 in Urdu
مقسم بن بجرة ← عبد الله بن العباس القرشي