سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب متى يقطع التلبية
باب: لبیک پکارنا کب بند کرے؟
حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ،عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 46 (1284)، (تحفة الأشراف: 7271)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 191 (3001)، مسند احمد (2/22)، سنن الدارمی/المناسک 48 (1918) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1284)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3095
| غدونا مع رسول الله من منى إلى عرفات منا الملبي ومنا المكبر |
صحيح مسلم |
3096
| منا المكبر ومنا المهلل فأما نحن فنكبر |
سنن أبي داود |
1816
| غدونا مع رسول الله من منى إلى عرفات منا الملبي ومنا المكبر |
سنن النسائى الصغرى |
3001
| غدونا مع رسول الله من منى إلى عرفة فمنا الملبي ومنا المكبر |
سنن النسائى الصغرى |
3002
| غدونا مع رسول الله إلى عرفات فمنا الملبي ومنا المكبر |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1816 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1816
1816. اردو حاشیہ: تلبیہ کےساتھ ساتھ تکبیر و تسبیح اور بعض مناسب دعائیں بھی مباح ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1816]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3002
منیٰ سے عرفہ کی جانب روانگی کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3002]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات کی طرف چلے، ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے، اور کچھ تکبیر کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3002]
اردو حاشہ:
منیٰ سے 9 ذوالحجہ کو طلوع شمس کے بعد عرفات کی طرف کوچ کیا جاتا ہے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جاتے ہوئے لبیک کہنا بھی جائز ہے اورتکبیریں کہنا بھی، مگر اصل لبیک ہے، یعنی لبیک کثرت سے کہی جائے۔ درمیان میں تکبیریں بھی پڑھتے رہیں۔ لبیک کا سلسلہ یوم نحر کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک جاری رہے گا۔
منیٰ سے 9 ذوالحجہ کو طلوع شمس کے بعد عرفات کی طرف کوچ کیا جاتا ہے اور یہ متفق علیہ مسئلہ ہے۔ جاتے ہوئے لبیک کہنا بھی جائز ہے اورتکبیریں کہنا بھی، مگر اصل لبیک ہے، یعنی لبیک کثرت سے کہی جائے۔ درمیان میں تکبیریں بھی پڑھتے رہیں۔ لبیک کا سلسلہ یوم نحر کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک جاری رہے گا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3002]
عبد الله بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي