🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب صفة حجة النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا طریقہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1906
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ بِعَرَفَةَ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا وَإِقَامَتَيْنِ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا الْحَدِيثُ أَسْنَدَهُ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ فِي الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ، وَوَافَقَ حَاتِمَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ عَلَى إِسْنَادِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، إِلَّا أَنَّهُ، قَالَ:" فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَالْعَتَمَةَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ".
جعفر بن محمد اپنے والد محمد باقر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں ظہر اور عصر ایک اذان سے پڑھی، ان کے درمیان کوئی نفل نہیں پڑھی، البتہ اقامت دو تھیں، اور مغرب و عشاء جمع (مزدلفہ) میں ایک اذان اور دو اقامتوں سے پڑھی، ان کے درمیان بھی کوئی نفل نہیں پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حاتم بن اسماعیل نے ایک لمبی حدیث میں مسنداً بیان کیا ہے اور حاتم بن اسماعیل کی طرح اسے محمد بن علی الجعفی نے جعفر سے، اور جعفر نے اپنے والد محمد سے، محمد نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ نے مغرب اور عشاء ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19320) (ضعیف)» ‏‏‏‏ یہ حدیث معلق ہے، اس کی ابتدائی سند کو ابوداود نے ذکر نہیں کیا ہے، اور اس میں «اقامة» کا لفظ شاذ ہے، «اقامتین» محفوظ ہے، جیسا کہ گزرا (ملاحظہ ہو: 1905- 1906)
وضاحت: ۱؎: اور یہ روایت سنداً و واقعۃً ضعیف ہے، صحیح یہی ہے کہ دونوں نماز ایک اذان اور دو اقامتوں سے ادا کیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م عن جابر وهو الصواب وهو الذي قبله
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (1905)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥محمد الباقر، أبو جعفرثقة
👤←👥جعفر الصادق، أبو عبد الله
Newجعفر الصادق ← محمد الباقر
صدوق فقيه إمام
👤←👥عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي، أبو محمد
Newعبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي ← جعفر الصادق
ثقة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← عبد الوهاب بن عبد المجيد الثقفي
ثقة حافظ فقيه حجة
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← أحمد بن حنبل الشيباني
ثقة
👤←👥عبد الله بن مسلمة الحارثي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن مسلمة الحارثي ← سليمان بن بلال القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
1906
صلى الظهر والعصر بأذان واحد بعرفة ولم يسبح بينهما وإقامتين وصلى المغرب والعشاء بجمع بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1906 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1906
1906. اردو حاشیہ: یہ آخری مقولہ (قال ابو دائود قال لی احمد۔۔۔الخ) اس کے بارے میں صاحب عون المعبود اور بذل المجہود لکھتے ہیں۔کہ اکثر نسخے اس عبارت سے خالی ہیں۔اور بقول ان کے اس کلام کا امام ابو دائود اور امام احمد کی طرف منسوب ہونا محل نظر ہے۔کیونکہ حاتم بن اسماعیل کی روایت کو بہت سے ائمہ متقدمین و متاخرین نے صحیح کہا ہے۔کسی نے بھی اس کا وہم بیان نہیں کیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1906]

Sunan Abi Dawud Hadith 1906 in Urdu