سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. باب العمرة
باب: عمرے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1988
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: كَانَ أَبُو مَعْقَلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَتْ أُمُّ مَعْقَلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقَلٍ بَكْرًا، قَالَ أَبُو مَعْقَلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَأَعْطَاهَا الْبَكْرَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ، فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي؟ قَالَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً".
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد (جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎، چنانچہ دونوں (ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے“، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنا (میرے ساتھ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1988]
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے اس پیغامبر نے خبر دی جس کو اس نے ام معقل رضی اللہ عنہا کے ہاں بھیجا تھا۔ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ”ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔“ جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: ”تم جانتے ہو کہ مجھ پر (بھی) حج (لازم) ہے۔“ چنانچہ وہ دونوں چلتے آئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ پس ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! بلاشبہ مجھ پر حج فرض ہے اور ابو معقل کے پاس صرف ایک اونٹ ہے۔“ ابو معقل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”یہ سچ کہتی ہے اور میں نے اس اونٹ کو «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» ”اللہ کی راہ میں“ کر دیا ہے (جہاد میں)۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ اسے دے دو، یہ اس پر حج کرے گی، یہ بھی «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» ”اللہ کی راہ میں“ ہے۔“ چنانچہ ابو معقل رضی اللہ عنہ نے یہ اونٹ اسے دے دیا۔ تو وہ کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میں عورت ذات ہوں، عمر زیادہ ہو گئی ہے اور بیمار بھی ہوں، تو کیا کوئی عمل ایسا ہے جو مجھ سے میرے حج سے کفایت کر جائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ، حج سے کفایت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18359)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 95 (939)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4227)، سنن ابن ماجہ/المناسک 45 (2993)، مسند احمد (6/405، 406) (حسن)» (اس کے راوی ابراہیم حافظہ کے کمزور ہیں مگر حدیث نمبر (1990) سے اس کو تقویت مل رہی ہے، نیز رمضان میں عمرہ کے ثواب سے متعلق جملہ کے شواہد صحیحین میں بھی ہیں، ہاں عورت کا قول «إني امرأة ... من حجتي؟» صحیح نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا لیکن میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت مقدر نہیں تھی اور میں نہیں جا سکی۔
۲؎: اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ میں حج کب کر سکوں گی۔
۳؎: یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب میرے ساتھ حج کے ثواب کے برابر ہے۔
۲؎: اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ میں حج کب کر سکوں گی۔
۳؎: یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب میرے ساتھ حج کے ثواب کے برابر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله المرأة إني امرأة ... حجتي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (4227)
رسول مروان : لم أعرفه وأصل الحديث صحيح،رواه أحمد (406/6) بسند حسن : ((عمرة في شهر رمضان تعدل حجة))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (4227)
رسول مروان : لم أعرفه وأصل الحديث صحيح،رواه أحمد (406/6) بسند حسن : ((عمرة في شهر رمضان تعدل حجة))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
939
| عمرة في رمضان تعدل حجة |
سنن أبي داود |
1988
| عمرة في رمضان تجزئ حجة |
سنن أبي داود |
1989
| اعتمري في رمضان فإنها كحجة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1988 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1988
1988. اردو حاشیہ: شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نےاے اللہ! رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں عورت ذات ہوں۔سے کفایت کرجائے۔تک کے حصے کے بغیر اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔لیکن پھر اس کے بعد والا حصہ یعنی رمضان میں عمرہ حج سے کفایت کرتا ہے۔یہ بھی غیر صحیح ہونا چاہیے۔کیونکہ اس کا تعلق اسی سوال سے ہے۔جسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں دوسری صحیح روایات میں یہ الفاظ بیان ہوئے ہیں۔رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے۔ نہ کہ حج سے کفایت کرتاہے۔واللہ اعلم۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1988]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1989
عمرے کا بیان۔
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ (حج کے لیے) نکلنے سے روک دیا؟“، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے“، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا (یا سب کے لیے ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1989]
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ (حج کے لیے) نکلنے سے روک دیا؟“، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے“، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا (یا سب کے لیے ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1989]
1989. اردو حاشیہ:
➊ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری (کتاب العمرۃ باب عمرۃ فی رمضان حدیث۔1782)میں لکھا ہے کہ یہ در اصل دو واقعات ہیں۔یہ اما معقل کا ہے اور اس سے پہلے والا حدیث (1988) میں ام طلیق کا ہے۔جیسے کہ ابو علی بن سکن نے اس کو نکالا ہے اور ابن مندہ نے کتاب الصحابہ اور دو لابی نے الکنیٰ میں نقل کیا ہے۔
➋ علامہ البانیرحمۃ اللہ علیہ نے پہلی حدیث (1988) میں عورت کا مقولہ <عربی> (قد كبرت وسكمت۔۔۔الخ) کو غیر صحیح کہا ہے۔اوردوسری حدیث میں ام معقل کامقولہ <عربی> (الحج حجة والمعرة عمرة۔۔۔الخ) کو ضعیف کہا ہے۔
➌ زوجین کو دینی ودنیاوی ہر معاملے میں ایک دوسرے کا معاون بننا چاہیے۔
➍ فی سبیل اللہ مال وقف کرنا انتہائی عزیمت کا عمل ہے۔اور حج بھی فی سبیل اللہ میں شمار ہے۔اس لئے حضرات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام احمد بن حنبل اور اسحاق راہویہ رحمۃ اللہ علیہ سفر حج میں جانے والوں کےلئے زکواۃ کی رقم س معاونت جائزسمجھتے ہیں۔ جبکہ دیگر عام علماء فی سبیل اللہ س مراد جہاد ہی لیتے ہیں۔اور اقرب یہ ہے کہ حجاج سے تعاون تبلیغی مساعی اور جہاد سبھی مواقع فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔واللہ اعلم۔
➎ رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہوتاہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرض ساقط ہوجائےگا۔
➏ جیسے حضور قلب اور اخلاص نیت کی بنا پر عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے ایسے ہی مبارک وقت کی مناسبت سے عمل کاثواب بڑھ جاتا ہے۔
➐ رمضان میں عمرہ کرنا از حد افضل اعمال میں سے ہے۔
➊ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری (کتاب العمرۃ باب عمرۃ فی رمضان حدیث۔1782)میں لکھا ہے کہ یہ در اصل دو واقعات ہیں۔یہ اما معقل کا ہے اور اس سے پہلے والا حدیث (1988) میں ام طلیق کا ہے۔جیسے کہ ابو علی بن سکن نے اس کو نکالا ہے اور ابن مندہ نے کتاب الصحابہ اور دو لابی نے الکنیٰ میں نقل کیا ہے۔
➋ علامہ البانیرحمۃ اللہ علیہ نے پہلی حدیث (1988) میں عورت کا مقولہ <عربی> (قد كبرت وسكمت۔۔۔الخ) کو غیر صحیح کہا ہے۔اوردوسری حدیث میں ام معقل کامقولہ <عربی> (الحج حجة والمعرة عمرة۔۔۔الخ) کو ضعیف کہا ہے۔
➌ زوجین کو دینی ودنیاوی ہر معاملے میں ایک دوسرے کا معاون بننا چاہیے۔
➍ فی سبیل اللہ مال وقف کرنا انتہائی عزیمت کا عمل ہے۔اور حج بھی فی سبیل اللہ میں شمار ہے۔اس لئے حضرات ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام احمد بن حنبل اور اسحاق راہویہ رحمۃ اللہ علیہ سفر حج میں جانے والوں کےلئے زکواۃ کی رقم س معاونت جائزسمجھتے ہیں۔ جبکہ دیگر عام علماء فی سبیل اللہ س مراد جہاد ہی لیتے ہیں۔اور اقرب یہ ہے کہ حجاج سے تعاون تبلیغی مساعی اور جہاد سبھی مواقع فی سبیل اللہ میں شامل ہیں۔واللہ اعلم۔
➎ رمضان میں عمرے کا ثواب حج کے برابر ہوتاہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ قرض ساقط ہوجائےگا۔
➏ جیسے حضور قلب اور اخلاص نیت کی بنا پر عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے ایسے ہی مبارک وقت کی مناسبت سے عمل کاثواب بڑھ جاتا ہے۔
➐ رمضان میں عمرہ کرنا از حد افضل اعمال میں سے ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1989]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 939
رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان۔
ام معقل رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 939]
ام معقل رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 939]
اردو حاشہ: 1؎:
یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہراعتبارسے عمرہ حج کے برابرہے،
بلکہ صرف اجروثواب میں حج کے برابرہے،
ایسانہیں کہ اس سے فریضہء حج ادا ہوجائے گا،
یانذرماناہواحج پوراہوجائے گا۔
یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ ہراعتبارسے عمرہ حج کے برابرہے،
بلکہ صرف اجروثواب میں حج کے برابرہے،
ایسانہیں کہ اس سے فریضہء حج ادا ہوجائے گا،
یانذرماناہواحج پوراہوجائے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 939]
Sunan Abi Dawud Hadith 1988 in Urdu
اسم مبهم ← أم معقل الأنصارية