🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

80. باب الْعُمْرَةِ
باب: عمرے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:"اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1986]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العمرة 2 (1774)، (تحفة الأشراف: 7345) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1774)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1987
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهْلِ الشِّرْكِ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: إِذَا عَفَا الْوَبَرْ وَبَرَأَ الدَّبَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ، فَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے، کہتے تھے: جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم (اشہر حرم) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1987]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذوالحجہ میں صرف اس لیے عمرہ کرایا تھا کہ اس سے اہل شرک کا عمل باطل کریں۔ بلاشبہ قبیلہ قریش اور ان کے اہل دین کہا کرتے تھے کہ جب اونٹوں کے بال بڑھ جائیں، ان کے زخم ٹھیک ہو جائیں اور ماہ صفر شروع ہو جائے تو عمرہ کرنے والے کے لیے عمرہ کرنا حلال ہو گیا۔ یہ لوگ ان دنوں میں عمرہ کرنے کو حرام کہتے تھے حتیٰ کہ ذوالحجہ اور محرم گزر جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1987]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5722)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 34 (1564)، ومناقب الأنصار 26 (3832)، صحیح مسلم/الحج 31 (1240)، سنن النسائی/الحج 77 (2816)، 108 (2870)، مسند احمد (1/252، 261) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن ق نحوه دون قول ابن عباس في أوله والله أهل الشرك
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (1/261)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1988
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ: كَانَ أَبُو مَعْقَلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَتْ أُمُّ مَعْقَلٍ: قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقَلٍ بَكْرًا، قَالَ أَبُو مَعْقَلٍ: صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَأَعْطَاهَا الْبَكْرَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ، فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي؟ قَالَ:" عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً".
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے قاصد (جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎، چنانچہ دونوں (ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ام معقل نے کہا: اللہ کے رسول! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے؟ ابو معقل نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا، پھر وہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا (میرے ساتھ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1988]
ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے مروان کے اس پیغامبر نے خبر دی جس کو اس نے ام معقل رضی اللہ عنہا کے ہاں بھیجا تھا۔ ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: تم جانتے ہو کہ مجھ پر (بھی) حج (لازم) ہے۔ چنانچہ وہ دونوں چلتے آئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ پس ام معقل رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ مجھ پر حج فرض ہے اور ابو معقل کے پاس صرف ایک اونٹ ہے۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ سچ کہتی ہے اور میں نے اس اونٹ کو «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں کر دیا ہے (جہاد میں)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ اسے دے دو، یہ اس پر حج کرے گی، یہ بھی «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں ہے۔ چنانچہ ابو معقل رضی اللہ عنہ نے یہ اونٹ اسے دے دیا۔ تو وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں عورت ذات ہوں، عمر زیادہ ہو گئی ہے اور بیمار بھی ہوں، تو کیا کوئی عمل ایسا ہے جو مجھ سے میرے حج سے کفایت کر جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان میں عمرہ، حج سے کفایت کرتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1988]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18359)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 95 (939)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4227)، سنن ابن ماجہ/المناسک 45 (2993)، مسند احمد (6/405، 406) (حسن)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابراہیم حافظہ کے کمزور ہیں مگر حدیث نمبر (1990) سے اس کو تقویت مل رہی ہے، نیز رمضان میں عمرہ کے ثواب سے متعلق جملہ کے شواہد صحیحین میں بھی ہیں، ہاں عورت کا قول «إني امرأة ... من حجتي؟» صحیح نہیں ہے)
وضاحت: ۱؎: کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا لیکن میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت مقدر نہیں تھی اور میں نہیں جا سکی۔
۲؎: اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ میں حج کب کر سکوں گی۔
۳؎: یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب میرے ساتھ حج کے ثواب کے برابر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله المرأة إني امرأة ... حجتي
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (4227)
رسول مروان : لم أعرفه وأصل الحديث صحيح،رواه أحمد (406/6) بسند حسن : ((عمرة في شهر رمضان تعدل حجة))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1989
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقَلِ بْنِ أُمِّ مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ، قَالَتْ:" لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ فَجَعَلَهُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَصَابَنَا مَرَضٌ وَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ جِئْتُهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ مَعْقِلٍ، مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا؟ قَالَتْ: لَقَدْ تَهَيَّأْنَا فَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ هُوَ الَّذِي نَحُجُّ عَلَيْهِ فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ، فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَمَّا إِذْ فَاتَتْكِ هَذِهِ الْحَجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّهَا كَحَجَّةٍ، فَكَانَتْ تَقُولُ: الْحَجُّ حَجَّةٌ وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ، وَقَدْ قَالَ هَذَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَدْرِي أَلِيَ خَاصَّةً".
ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام معقل! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ (حج کے لیے) نکلنے سے روک دیا؟، وہ بولیں: ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا (یا سب کے لیے ہے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1989]
سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اس کو «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ہمیں بیماری نے آ لیا اور ابو معقل رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حج سے فارغ ہو کر آئے تو میں حاضرِ خدمت ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام معقل! کیا مانع تھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کے لیے نہیں گئی؟ اس نے کہا: ہم تو تیار تھے مگر ابو معقل رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، ہمارا ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہمیں حج کرنا تھا، تو ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں وصیت کر دی کہ یہ «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ کے لیے وقف ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی پر کیوں نہ چل دی؟ بلاشبہ حج «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ خیر جب تم سے ہمارے ساتھ یہ حج کرنا فوت ہو گیا ہے تو رمضان میں عمرہ کرنا، بلاشبہ یہ حج کی مانند ہے۔ چنانچہ وہ کہا کرتی تھیں کہ حج، حج ہے اور عمرہ، عمرہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ فرمایا تھا، معلوم نہیں یہ بات میرے لیے خاص تھی (یا امت کے لیے عام)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11857، 18361) (صحیح لغیرہ)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے، نیز عیسیٰ لین الحدیث ہیں، لیکن ”رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے“ کے ٹکڑے کے شواہد صحیحین اور دیگر مصادر میں ہیں، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ہاں: آخری ٹکڑا: «فكانت تقول إلخ» کا شاہد نہیں ہے، اس لئے ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 230)
وضاحت: ۱؎: یعنی دونوں ایک مرتبہ میں نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فكانت تقول
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
وأصل الحديث صحيح،رواه الترمذي (935) بلفظ : ((عمرة في رمضان تعدل حجة))
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1990
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلِكَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَأَلَتْنِي الْحَجَّ مَعَكَ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، فَقُلْتُ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقْرِئْهَا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي يَعْنِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا۔ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1990]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا تو ایک عورت نے اپنے شوہر سے کہا: مجھے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے اونٹ پر حج کراؤ۔ اس نے کہا: میرے پاس کوئی ایسی سواری نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں۔ عورت نے کہا: اپنے فلاں اونٹ پر؟ اس نے جواب دیا کہ وہ تو فی سبیل اللہ (جہاد کے لیے) وقف ہے۔ پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو کہا ہے، اور وہ مجھے کہتی ہے کہ میں اس کو آپ کے ساتھ حج کراؤں۔ وہ کہتی ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں حج کراؤ۔ تو میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر میں تجھے حج کراؤں۔ اس نے کہا: اپنے فلاں اونٹ پر۔ تو میں نے کہا: وہ تو فی سبیل اللہ وقف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اسے اس پر حج کرا دو تو یہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہے۔ اس نے کہا کہ اس (عورت) نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کروں کہ کون سا عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے برابر ہو سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے (میری طرف سے) «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» تم پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں کہنا اور اسے بتانا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 5374)، وقد أخرجہ: (صحیح البخاری/العمرة 4(1782)، صحیح مسلم/الحج 36 (221) بدون ذکر: ’’أن الحج في سبیل اللہ‘‘۔ (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (3077) والحاكم (1/183، 184) وذكر البيھقي له علة (6/164) ولم أقف عليھا فھي غير قادحة

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ: عُمْرَةً فِي ذِي الْقِعْدَةِ، وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1991]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کیے تھے ایک ذوالقعدہ میں اور ایک شوال میں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16889) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کی مجموعی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک سال کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک سال کے اندر دو عمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کیا ہے، اور حج کے ساتھ والے عمرے کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا «عمرۃ فی شوّال» کہنا ان کا وہم ہے، اور اگر اسے محفوظ مان لیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوگی اس عمرہ سے مراد عمرہ جعرانہ ہے جو اگرچہ ذی قعدہ ہی میں ہوا ہے، لیکن مکہ سے حنین کے لئے آپ شوال ہی میں نکلے تھے، اور واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کیا تھا تو نکلنے کا لحاظ کرکے انہوں نے اس کی نسبت شوال کی طرف کر دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله في شوال يعني ابتداء وإلا فهي كانت في ذي القعدة أيضا
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه البيھقي في دلائل النبوة (5/455) وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (1058)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ:" سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَرَّتَيْنِ"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ:" لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ".
مجاہد کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے؟ انہوں نے جواب دیا: دو بار ۱؎، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1992]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے کہا: دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہ کو تو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین عمرے کیے تھے، سوائے اس کے جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملا کر کیا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1992]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 7384، 17574) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، مگر اس میں مذکور عمروں کی تعداد صحیح ہے)
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرہ حدیبیہ کو اور اسی طرح حج کے ساتھ والے عمرہ کو شمار نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو إسحاق عنعن
وأصل الحديث متفق عليه (خ 1775 م 1255) بغير ھذا اللفظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَالثَّانِيَةَ حِينَ تَوَاطَئُوا عَلَى عُمْرَةٍ مَنْ قَابِلٍ، وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي قَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے: ایک عمرہ حدیبیہ کا، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ۱؎، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1993]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے۔ عمرہ حدیبیہ (جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس جانا پڑا تھا) دوسرا وہ جو حسبِ اتفاقِ معاہدہ اگلے سال کیا۔ تیسرا جعرانہ سے اور چوتھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملا کر کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحج 7 (816)، سنن ابن ماجہ/المناسک 50 (3003)، (تحفة الأشراف: 6168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/246، 321)، سنن الدارمی/المناسک 39 (1900) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جعرانة: طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد یہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه الترمذي (816 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1994
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ: كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقِعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: أَتْقَنْتُ مِنْ هَا هُنَا مِنْ هُدْبَةَ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ، وَلَمْ أَضْبِطْهُ عُمْرَةً زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ: ایک حدیبیہ کے زمانے کا، یا حدیبیہ کا عمرہ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1994]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے تھے اور سبھی ذوالقعدہ میں کیے سوائے اس کے جو حج کے ساتھ تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہاں تک مجھے ہدبہ بن خالد سے خوب یاد ہے۔ اور ابوالولید سے بھی میں نے سنا ہے مگر اچھی طرح ضبط نہیں۔ یعنی عمرہ حدیبیہ کے زمانے میں، عمرہ القضاء ذوالقعدہ میں، عمرہ جعرانہ جب آپ نے ذوالقعدہ میں حنین کی غنیمتیں تقسیم کی تھیں اور حج کے ساتھ والا عمرہ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العمرة 3 (1778)، صحیح مسلم/الحج 35 (1253)، سنن الترمذی/الحج 6 (815)، (تحفة الأشراف: 1393)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/256)، سنن الدارمی/المناسک 3 (1828) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1778) صحيح مسلم (1253)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں