Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. باب العمرة
باب: عمرے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1990
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلِكَ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، قَالَ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَأَلَتْنِي الْحَجَّ مَعَكَ، قَالَتْ: أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ، فَقُلْتُ: ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقْرِئْهَا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي يَعْنِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، وہ کہنے لگی: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ، تو انہوں نے کہا: وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے، اور کہا ہے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں، اس نے کہا: مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں، میں نے اس سے کہا: وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا۔ اس نے کہا: اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1990]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 5374)، وقد أخرجہ: (صحیح البخاری/العمرة 4(1782)، صحیح مسلم/الحج 36 (221) بدون ذکر: ’’أن الحج في سبیل اللہ‘‘۔ (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
صححه ابن خزيمة (3077) والحاكم (1/183، 184) وذكر البيھقي له علة (6/164) ولم أقف عليھا فھي غير قادحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥بكر بن عبد الله المزني، أبو عبد الله، أبو المليح
Newبكر بن عبد الله المزني ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة ثبت
👤←👥عامر الأحول
Newعامر الأحول ← بكر بن عبد الله المزني
صدوق حسن الحديث
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← عامر الأحول
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1782
إذا كان رمضان اعتمري فيه فإن عمرة في رمضان حجة
صحيح مسلم
3039
عمرة في رمضان تقضي حجة معي
صحيح مسلم
3038
إذا جاء رمضان فاعتمري فإن عمرة فيه تعدل حجة
سنن أبي داود
1990
تعدل حجة معي يعني عمرة في رمضان
سنن ابن ماجه
2994
عمرة في رمضان تعدل حجة
سنن النسائى الصغرى
2112
إذا كان رمضان فاعتمري فيه فإن عمرة فيه تعدل حجة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1990 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1990
1990. اردو حاشیہ: اس حدیث سے بھی واضح ہے کہ حج کرنا بھی فی سبیل اللہ میں داخل ہے جو زکواۃ کا ایک مصرف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1990]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2112
ماہ رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
عطا کہتے ہیں میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو سنا، وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے کہا: جب رمضان آئے تو اس میں عمرہ کر لو، کیونکہ (ماہ رمضان میں) ایک عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2112]
اردو حاشہ:
(1) حج کے برابر ہے۔ یعنی حج کے ثواب کے نہ کہ حاجی کے ثواب کے کیونکہ حاجی کے ثواب میں تو اس کے خلوص، مشقت اور نفقہ وغیرہ کا ثواب بھی شامل ہے جو ہر حاجی کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے، نیز اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسا عمرہ فرض حج سے کفایت نہیں کر سکتا، بلکہ فرض حج کرنے کے ساتھ ہی ساقط ہوگا۔
(2) اجنبی عورت سے مخاطب ہونا جائز ہے کیونکہ عورت کی آواز کا پردہ نہیں۔ لیکن گفتگو ضرورت کے تحت اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر ہونی چاہیے۔ نرم ونازک انداز سے اجتناب ضروری ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2112]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3039
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت جسے ام سنان کہا جاتا تھا، پوچھا: تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے سے کس چیز نے روکا؟ اس نے جواب دیا، ابو فلاں (یعنی اس کا خاوند) کے پاس دو ہی پانی لانے والے اونٹ تھے، ان میں سے ایک پر اس نے اور اس کے بیٹے نے حج کا ارادہ کیا، دوسرے پر ہمارا غلام (باغ کو) پانی پلاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماہ رمضان میں عمرہ کرنا، حج کے یا میرے ساتھ حج... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:3039]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عمرہ سال کے تمام مہینوں میں ہو سکتا ہے لیکن اگررمضان میں عمرہ کیا جائے تو رمضان کی برکات ورحمتوں کے نتیجہ میں اس کا اجروثواب حج کے برابر ہوتا ہے یعنی حج کے فوائد وبرکات میسر آتے ہیں اگرچہ اس کے حج کا فریضہ ادا نہیں ہوتا حج اپنے وقت پر کرنا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3039]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1782
1782. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے فرمایا۔۔۔ (راوی حدیث حضرت عطاء نے کہا:)حضرت ابن عباس ؓ نے اس عورت کا نام ذکر کیا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔ ہمارے ساتھ حج کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ اس عورت نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک آب کش اونٹ تھا جس پر ابو فلاں اور اس کا بیٹا سوار ہوکر چلے گئے ہیں۔ اس نے اپنے شوہر اور بیٹے کی طرف اشارہ کیا۔ ایک دو سرا اونٹ چھوڑ گئے ہیں جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان المبارک کا مہینہ آئے تو اس میں عمرہ کرنا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ارشاد فرمائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1782]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ کی دوسری روایات میں اس عورت کا نام ام سنان ؓ مذکور ہے، بعض نے کہا وہ ام سلیم ؓ تھیں جیسے ابن حبان کی روایت میں ہے اور نسائی نے نکالا ہے کہ بنی اسعد کی ایک عورت معقل نے کہا میں نے حج کا قصد کیا لیکن میرا اونٹ بیمار ہو گیا، میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو رمضان میں عمرہ کر لے رمضان کا عمرہ حج کے برابر ہے۔
حافظ نے کہا اگر یہ عورت ام سنان تھی تو اس کے بیٹے کا نام سنان ہوگا اور اگر ام سلیم تھی تو اس کا بیٹا ہی کوئی ایسا نہیں تھا جو حج کے قابل ہوتا۔
ایک انس تھے وہ چھوٹی عمر میں تھے اور شاید ان کے خاوند ابوطلحہ کا بیٹا مراد ہو وہ بھی گویا ام سلیم کا بیٹا ہوا کیوں کہ ابوطلحہ ام سلیم کے خاوند تھے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1782]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1782
1782. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری عورت سے فرمایا۔۔۔ (راوی حدیث حضرت عطاء نے کہا:)حضرت ابن عباس ؓ نے اس عورت کا نام ذکر کیا تھا لیکن میں بھول گیا ہوں۔۔۔ ہمارے ساتھ حج کرنے سے تجھے کس چیز نے روکا؟ اس عورت نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک آب کش اونٹ تھا جس پر ابو فلاں اور اس کا بیٹا سوار ہوکر چلے گئے ہیں۔ اس نے اپنے شوہر اور بیٹے کی طرف اشارہ کیا۔ ایک دو سرا اونٹ چھوڑ گئے ہیں جس پر ہم پانی لاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان المبارک کا مہینہ آئے تو اس میں عمرہ کرنا کیونکہ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ یا اس سے ملتے جلتے الفاظ ارشاد فرمائے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1782]
حدیث حاشیہ:
(1)
رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے ثواب کے برابر ہے۔
(2)
اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ عمرہ کسی صورت میں حج کے قائم مقام نہیں ہو سکتا، چنانچہ امام ابن خزیمہ ؒ لکھتے ہیں:
ایک چیز کی کسی دوسری چیز سے بعض وجوہ میں مشابہت پائی جاتی ہے اس اعتبار سے اسے دوسری چیز کے مثل کہا جاتا ہے، لہذا رمضان کا عمرہ فرضی حج اور حج نذر سے کافی نہیں ہو گا۔
(صحیح ابن خزیمة: 360/4۔
361)
امام ترمذی نے امام اسحاق بن راہویہ سے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے معنی ایسے ہی ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے:
﴿قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ﴾ تہائی قرآن کے برابر ہے۔
(جامع الترمذي، الحج، بعدالحدیث: 939)
ابن عربی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی برکت سے عمرہ حج کا مقام پاتا ہے، یہ محض اللہ کا فضل و کرم اور اس کی خاص عنایت ہے۔
ابن جوزی نے کہا ہے کہ حضور قلب سے جس طرح کسی عمل کا ثواب زیادہ ہو جاتا ہے، اسی طرح وقت کی شرافت سے بھی عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔
(3)
یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔
رمضان میں عمرہ کرنے سے حج کا ثواب ملنا اس عورت کی خصوصیت نہیں اگرچہ سعید بن جبیر نے اسے اس عورت کی خصوصیت قرار دیا ہے جیسا کہ ام معقل ؓ نے فرمایا:
حج سے حج کا ثواب اور عمرہ کرنے سے عمرے کا ثواب ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے یہ ارشاد فرمایا۔
مجھے معلوم نہیں کہ ثواب کی بشارت میرے لیے خاص ہے یا تمام لوگوں کے لیے عام ہے۔
(سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1989) (4)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں عمرہ نہیں کیا، حالانکہ آپ نے اس کی فضیلت بیان کی ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے رمضان میں عمرہ کرنا باعث فضیلت ہے، البتہ آپ کے لیے وہی افضل ہے جس پر آپ خود عمل پیرا ہوئے ہیں۔
(فتح الباري: 763/3) (5)
امام بخاری ؒ نے ایک دوسرے مقام پر صراحت فرمائی ہے کہ اس عورت کا نام ام سنان ؓ ہے۔
(صحیح البخاري، جزاءالصید، حدیث: 1863)
اس قسم کا واقعہ حضرت ام معقل، ام سلیم، ام طلیق اور ام ہیثم ؓ کے ساتھ بھی پیش آیا جیسا کہ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
(عمدةالقاري: 415/7) (6)
اس سے معلوم ہوا جس شخص کو حج کی استطاعت نہ ہو اور سچی نیت رکھتا ہو تو رمضان میں عمرہ کرنے سے وہ حج کا مکمل ثواب حاصل کر سکتا ہے۔
واللہ أعلم
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1782]