سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
45. باب في وطء السبايا
باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2156
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا، فَقَالَ:" لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا"، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2156]
سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوے میں ایک عورت دیکھی جس کا حمل تقریباً پورے دنوں کا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید اس کے مالک نے اس سے مباشرت کی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ اسے لعنت کروں ایسی لعنت جو اس کی قبر تک اس کے ساتھ جائے۔ یہ اس بچے کو کس طرح اپنا وارث بنا سکے گا جبکہ اس کے لیے یہ حلال نہیں (کہ غیر کے نطفے اور غیر کے بچے کو اپنا بچہ بنائے) اور کیونکر اس سے (غلاموں کی طرح) خدمت لے سکے گا جبکہ یہ اس کے لیے حلال نہیں۔“ (اگر بالفرض اس کا اپنا نطفہ ہوا اور اپنے بیٹے کے نسب کا انکار کیا تو یہ حرام ہے۔ اور پھر بیٹے کو غلام اور خادم کے درجے پر اتارنا کیونکر جائز ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 23 (1441)، (تحفة الأشراف: 10924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/195، 6/446)، سنن الدارمی/السیر 38 (2521) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1441)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3562
| لقد هممت أن ألعنه لعنا يدخل معه قبره كيف يورثه وهو لا يحل له كيف يستخدمه وهو لا يحل له |
سنن أبي داود |
2156
| لقد هممت أن ألعنه لعنة تدخل معه في قبره كيف يورثه وهو لا يحل له وكيف يستخدمه وهو لا يحل له |
Sunan Abi Dawud Hadith 2156 in Urdu
جبير بن نفير الحضرمي ← عويمر بن مالك الأنصاري