🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في اللعان
باب: لعان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2256
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ، فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عَشِيًّا، فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَرَأَى بِعَيْنِهِ وَسَمِعَ بِأُذُنِهِ، فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهُمْ رَجُلًا، فَرَأَيْتُ بِعَيْنَيَّ وَسَمِعْتُ بِأُذُنَيَّ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ، فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ سورة النور آية 6، الْآيَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَبْشِرْ يَا هِلَالُ، قَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا"، قَالَ هِلَالٌ: قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَلِكَ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرْسِلُوا إِلَيْهَا"، فَجَاءَتْ، فَتَلَاهَا عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الْآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا، فَقَالَ هِلَالٌ: وَاللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: قَدْ كَذَبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَاعِنُوا بَيْنَهُمَا"، فَقِيلَ لِهِلَالٍ: اشْهَدْ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهُ: يَا هِلَالُ اتَّقِ اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يُجَلِّدْنِي عَلَيْهَا، فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ قِيلَ لَهَا: اشْهَدِي، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ، فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ، قِيلَ لَهَا: اتَّقِي اللَّهَ، فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ، فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي، فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَضَى أَنْ لَا يُدْعَى وَلَدُهَا لِأَبٍ وَلَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَقَضَى أَنْ لَا بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ، وَلَا قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفَّى عَنْهَا، وَقَالَ:" إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْصِحَ أُثُيْبِجَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِهِلَالٍ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ"، فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جَمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلَا الْأَيْمَانُ، لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ". قَالَ عِكْرِمَةُ: فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مُضَرَ، وَمَا يُدْعَى لِأَبٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے (ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے (سب کچھ) دیکھا، اور کانوں سے (سب) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم» اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو (سورۃ النور: ۷، ۶) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے، ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلواؤ، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ: آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے، وہ کہنے لگی: یہ جھوٹے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان لعان کراؤ، چنانچہ ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں، پانچویں کے وقت کہا گیا: ہلال! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی، وہ بولے: اللہ کی قسم! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا، چنانچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی: اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، چنانچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ بھورے بالوں والا، پتلی سرین والا، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا (نطفہ) ہے، اور اگر مٹیالے رنگ والا، گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے، چنانچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا۔ عکرمہ کہتے ہیں: یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2256]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ (اپنے گھر میں) آئے اور یہ ان افراد میں سے ایک ہیں (جو جنگ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے اور) جن کی توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی تھی۔ یہ اپنی زمین پر سے رات کو گھر آئے تو اپنی اہلیہ کے پاس ایک آدمی کو پایا۔ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا مگر اس کو دوڑایا نہیں حتیٰ کہ صبح ہو گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عشاء کے وقت اپنے گھر والوں کے پاس آیا تو میں نے ان کے پاس ایک آدمی کو پایا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے کانوں سے سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خبر کو ناپسند کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بہت گراں گزری۔ پھر یہ آیتیں نازل ہوئیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ﴾ [سورة النور: 6] آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہلال خوش ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے آسانی فرما دی ہے اور اس الجھن سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تحقیق مجھے اپنے رب سے اسی کی امید تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کو بلواؤ۔ وہ آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو نصیحت فرمائی اور انہیں بتایا کہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب کے مقابلے میں انتہائی سخت ہے۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اس کے بارے میں سچ کہا ہے۔ وہ کہنے لگی: یقیناً جھوٹ کہتا ہے۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے مابین لعان کراؤ۔ تو ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: شہادت دو تو اس نے چار دفعہ کہا: اللہ کی قسم! میں البتہ سچا ہوں۔ جب پانچویں قسم کی باری آئی تو اسے کہا گیا: اے ہلال! اللہ سے ڈر، بلاشبہ دنیا کی سزا آخرت کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ اور یہ (پانچویں) قسم تجھ پر اللہ کے عذاب کو واجب کر دینے والی ہے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ مجھے اس پر عذاب نہیں دے گا جیسے کہ اس نے مجھے اس پر (جھٹلایا نہیں اور) کوئی سزا نہیں دی ہے۔ چنانچہ اس نے پانچویں قسم اٹھائی اور کہا: مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں جھوٹا ہوں۔ پھر عورت سے کہا گیا کہ قسمیں اٹھاؤ تو اس نے چار قسمیں اٹھائیں کہ اللہ کی قسم! یہ آدمی یقیناً جھوٹا ہے۔ جب پانچویں کی باری آئی تو اسے کہا گیا: اللہ سے ڈر جا، بلاشبہ دنیا کی سزا آخرت کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ اور یہ (پانچویں) قسم واجب کرنے والی ہے جو تجھ پر عذاب کو لازم کر دے گی۔ تو وہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹکی اور توقف کیا، پھر بولی: اللہ کی قسم! میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کر سکتی اور پانچویں قسم بھی اٹھا گئی کہ اللہ کا غضب ہو مجھ پر اگر یہ شخص سچا ہو۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان تفریق کرا دی اور فیصلہ فرما دیا کہ بچہ باپ کی طرف منسوب نہیں ہو گا، نہ اس عورت کو تہمت لگائی جائے اور نہ اس کے بچے کو کوئی طعنہ دیا جائے۔ جس کسی نے اس عورت کو تہمت لگائی یا بچے کو طعنہ دیا تو اس پر حد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اس عورت کے لیے خاوند پر نہ سکنی (رہائش) لازم ہے نہ نفقہ (خرچہ) کیونکہ یہ دونوں طلاق کے بغیر علیحدہ ہو رہے تھے اور نہ خاوند فوت ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کا بچہ قدرے سرخ بالوں والا، ہلکے سرینوں والا، ابھری کمر والا اور باریک پنڈلیوں والا ہوا تو یہ ہلال کا ہو گا اور اگر وہ گندم گوں، گھونگھریالے بالوں والا، کھلے اور بڑے اعضاء والا، بھاری پنڈلیوں اور سرینوں والا ہوا تو یہ اس کا ہو گا جس کے ساتھ اس پر الزام لگایا گیا ہے۔ چنانچہ اس نے بچہ جنا تو وہ گندمی رنگ، گھونگھریالے بالوں والا، کھلے اور بڑے اعضاء والا اور بھاری پنڈلیوں اور سرینوں والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قسمیں نہ اٹھائی گئی ہوتیں تو میں اسے حد لگاتا (یا نشانِ عبرت بنا دیتا)۔ عکرمہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ بچہ بعد میں قبیلہ مضر کا سردار بنا تھا مگر باپ کی طرف نسبت نہ کیا جاتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2256]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏وانظر حدیث رقم (2254)، (تحفة الأشراف: 6139)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/238، 245) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عباد بن منصور کی اکثر ائمہ نے تضعیف کی ہے اس لئے ان کی اس روایت کے جن بیانات کی متابعت سابقہ حدیث سے ہو جاتی ہے انہیں کو لیا جائیگا اور باقی منفرد بیانات سے قطع نظر کیا جائے گا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عباد بن منصور ضعيف مختلط مدلس و عنعن
وتفرد بھذا اللفظ و أصل الحديث صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥عباد بن منصور الناجي، أبو سلمة
Newعباد بن منصور الناجي ← عكرمة مولى ابن عباس
ضعيف الحديث
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← عباد بن منصور الناجي
ثقة متقن
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2254
لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شأن
سنن أبي داود
2256
لولا الأيمان لكان لي ولها شأن
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2256 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2256
فوائد ومسائل:

یہ روایت ضعیف ہے۔
مضر (جو ہمارے نسخے میں ہے) صاحب عون اور صاحب بذل نے اسے مضر مراد لیا ہے۔
ترجمے میں اس مفہوم کو اختیار کیا گیا ہے۔
لیکن ابوداؤد کے بعض نسکون میں یہ مصر  ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بچہ برا ہوکر کسی شہر کا حاکم بنا۔
دیکھے: (سنن ابی داود بتحقیق محمد عوامہ:1003 دارالقبلہ لثقافۃ الاسالامیہ جدہ)

آیت لعان کی بابت اختلاف ہے کہ یہ آیت ہلال بن امیہ کے لیے اترییا عویمر عجلانی کے لیے جمہور علماء کے نزدیک یہ ایت ہلال بن امیہ کے لیےنازک ہوئی کیونکہ ہلال بن امیہ کا لعان اسلام میں سب سےپہلے ہوا جبکہ علماء نے کہا کہ شاید دونوں ہی اس مسئلہ کو پوچھ چکے ہوں پھر یہ آیت نازل ہوئی ہو۔
والله اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2256]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2254
لعان کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2254]
فوائد ومسائل:
انسان کتنا ظاہر بین ہے کہ آخرت کے معاملے کو بعید اور پوشیدہ سمجھتا ہے لیکن نور ایمان ہی سے یہ فاصلے پاٹے جاتے ہیں۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2254]

Sunan Abi Dawud Hadith 2256 in Urdu