Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب من قال لا يبالي من أى الشهر
باب: مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ:" مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ".
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصیام 36 (1160)، سنن الترمذی/الصوم 54 (763)، سنن ابن ماجہ/الصیام 29 (1709)، (تحفة الأشراف: 17966)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/145) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1160)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥معاذة بنت عبد الله العدوية، أم الصهباء
Newمعاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي يزيد البصري، أبو الأزهر
Newيزيد بن أبي يزيد البصري ← معاذة بنت عبد الله العدوية
ثقة
👤←👥عبد الوارث بن سعيد العنبري، أبو عبيدة
Newعبد الوارث بن سعيد العنبري ← يزيد بن أبي يزيد البصري
ثقة ثبت
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← عبد الوارث بن سعيد العنبري
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2453
ما كان يبالي من أي أيام الشهر كان يصوم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2453 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2453
فوائد ومسائل:
گزشتہ ابواب میں اکیلے جمعے یا ہفتے کے دن کی تخصیص کی ممانعت کا بیان گزر چکا ہے، لہذا ان کا خیال رکھنا ہو گا۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2453]