سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب من قال لا يبالي من أى الشهر
باب: مہینے میں کسی بھی دن روزہ رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2453
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ، عَنْ مُعَاذَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قُلْتُ: مِنْ أَيِّ شَهْرٍ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ:" مَا كَانَ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ".
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے پوچھا: مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 36 (1160)، سنن الترمذی/الصوم 54 (763)، سنن ابن ماجہ/الصیام 29 (1709)، (تحفة الأشراف: 17966)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/145) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1160)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2453
| ما كان يبالي من أي أيام الشهر كان يصوم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2453 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2453
فوائد ومسائل:
گزشتہ ابواب میں اکیلے جمعے یا ہفتے کے دن کی تخصیص کی ممانعت کا بیان گزر چکا ہے، لہذا ان کا خیال رکھنا ہو گا۔
گزشتہ ابواب میں اکیلے جمعے یا ہفتے کے دن کی تخصیص کی ممانعت کا بیان گزر چکا ہے، لہذا ان کا خیال رکھنا ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2453]
معاذة بنت عبد الله العدوية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق