🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
55. باب النهى عن لعن البهيمة
باب: جانوروں پر لعنت بھیجنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2561
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَسَمِعَ لَعْنَةً فَقَالَ:" مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: هَذِهِ فُلَانَةُ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ضَعُوا عَنْهَا فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ، فَوَضَعُوا عَنْهَا، قَالَ عِمْرَانُ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةٌ وَرْقَاءُ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، آپ نے لعنت کی آواز سنی تو پوچھا: یہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: فلاں عورت ہے جو اپنی سواری پر لعنت کر رہی ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی سے کجاوہ اتار لو کیونکہ وہ ملعون ہے ۱؎، لوگوں نے اس پر سے (کجاوہ) اتار لیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، وہ ایک سیاہی مائل اونٹنی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2561]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کسی سے) لعنت کرنے کی آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: فلاں عورت ہے جس نے اپنی سواری کو لعنت کی ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے (کجاوہ اور سامان) اتار دو۔ بلاشبہ یہ اب ملعونہ ہے۔ چنانچہ صحابہ نے اس سے (سامان وغیرہ) اتار دیا۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ سیاہی مائل اونٹنی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/البر 24 (2595)، (تحفة الأشراف: 10883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/429، 431)، سنن الدارمی/الاستئذان 45 (2719) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: علماء کا کہنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا اس لئے کیا تاکہ جانور کا مالک آئندہ کسی جانور پر لعنت نہ بھیجے، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اس مالک کے لئے بطور سرزنش تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2595)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥معاوية بن عمرو البصري، أبو المهلب
Newمعاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← معاوية بن عمرو البصري
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
6604
خذوا ما عليها ودعوها فإنها ملعونة
سنن أبي داود
2561
ضعوا عنها فإنها ملعونة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2561 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2561
فوائد ومسائل:
لعنت کے لغوی معنی ہیں۔
اللہ کی پھٹکار اور اس کی رحمت سے دوری اور انتہائی یہ بری خصلت ہے کہ انسان ایک چیز سے فائدہ بھی اٹھائے۔
اور پھر اس کے متعلق لعنت کا لفظ بھی استعمال کرے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غالبا بطور زجر وتوبیخ کے اس جانور کو اس کے سوار سے آذاد کروادیا تھا۔
تاکہ آئندہ کے لئے کوئی اس طرح سے نہ بولے لوگوں کا آپس میں یہ لفظ استعمال کرنا اور بھی قبیح ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2561]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 6604
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر پر جارہے تھے اور ایک انصاری عورت ایک اونٹنی پر سوار تھی، اس سے اکتا گئی اور اس عورت نے اس پر لعنت بھیجی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو سن لیا، چنانچہ فرمایا:"اس پر جو سازو سامان ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑدو۔ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔"حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، گویا کہ میں اسے بھی لوگوں میں چلتی پھرتی دیکھ رہا ہوں،... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6604]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
ضجرت:
عورت اس کی سست رفتاری سے اکتا گئی۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوپاؤں پر لعنت بھیجنے سے منع فرمایا تھا،
لیکن اس کے باوجود،
اس عورت نے اپنی اونٹنی پر لعنت بھیجی تو آپ نے بطور سزا اس عورت کو حکم دیا کہ جب یہ اونٹنی ملعونہ ہے تو پھر اس کو ہمارے ساتھ کیوں لا رہی ہو،
اس کو چھوڑ دو،
" کیونکہ جو چیز اللہ کی رحمت سے محروم ہو،
وہ خیر کا باعث نہیں بن سکتی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 6604]

Sunan Abi Dawud Hadith 2561 in Urdu