🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. باب في كراهية الحمر تنزى على الخيل
باب: گدھوں کی گھوڑیوں سے جفتی (ملاپ) مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ ابْنِ زُرَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةٌ فَرَكِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْ حَمَلْنَا الْحَمِيرَ عَلَى الْخَيْلِ فَكَانَتْ لَنَا مِثْلُ هَذِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ".
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ میں دیا گیا تو آپ اس پر سوار ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم ان گدھوں سے گھوڑیوں کی جفتی کرائیں تو اسی طرح کے خچر پیدا ہوں گے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو (شریعت کے احکام سے) واقف نہیں ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2565]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خچر ہدیہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھائیں (تو ان کے اس جنسی عمل سے) ہمیں اس طرح کے خچر حاصل ہو جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاہل لوگ یہ کام کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2565]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الخیل 8 (3610)، (تحفة الأشراف: 10184)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/98، 100، 158) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ جو لوگ گھوڑوں کی منفعت سے واقف نہیں ہیں وہی ایسا کرتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3883)
أخرجه النسائي (3610 وسنده صحيح) وله شاھد انظر الحديث السابق (808)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن زرير الغافقي
Newعبد الله بن زرير الغافقي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
ثقة رمي بالتشيع
👤←👥مرثد بن عبد الله اليزني، أبو الخير
Newمرثد بن عبد الله اليزني ← عبد الله بن زرير الغافقي
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← مرثد بن عبد الله اليزني
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
3610
لو حملنا الحمير على الخيل لكانت لنا مثل هذه قال رسول الله إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون
سنن أبي داود
2565
لو حملنا الحمير على الخيل فكانت لنا مثل هذه قال رسول الله إنما يفعل ذلك الذين لا يعلمون
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2565 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2565
فوائد ومسائل:
گدھے اور گھوڑی کے جنسی ملاپ سے پیدا ہونے والا جانور خچر کہلاتا ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے انعامات میں اس کا ذکر بھی کیا ہے۔
(وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ) (النحل۔
8) اللہ تعالیٰ نے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے۔
تاکہ تم ان پرسواری کرو اور یہ تمہارے لئے زینت کا باعث بھی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خچر پرسواری کی ہے۔
اگر خچر کا پیدا کرنا ناجائز ہوتا تو اسے انعامات الہیٰ میں شمار کیا جاتا نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سواری فرماتے۔
اس لئے علماء نے اس حدیث کو جس میں گدھے گھوڑی کے ملاپ کو ناپسندیدہ قراردیا گیا ہے۔
استحباب (بچنے کے پسندیدہ ہونے) پر محمول کیا ہے۔
یعنی یہ پسندیدہ عمل نہیں ہے۔
تاہم اس کا جواز ہے۔

[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2565]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3610
گھوڑیوں پر گدھے چڑھا کر خچر پیدا کرنا معیوب بات ہے۔
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ میں خچر دیا گیا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری کی۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر ہم گدھوں کو گھوڑیوں پر چڑھا (کر جفتی کرا) دیں تو ہمارے پاس اس جیسے (بہت سے خچر) ہو جائیں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو نادان و ناسمجھ ہوتے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الخيل/حدیث: 3610]
اردو حاشہ:
(1) گھوڑی اور گدھے کے ملاپ سے خچر پیدا ہوتا ہے لیکن اس حدیث میں اس ملاپ کو ناپسند کیا گیا ہے‘ حالانکہ قرآن مجید میں گھوڑے اور گدھے کے ساتھ خچر کا ذکر بھی بطور احسان کیا گیا ہے جس سے خچر کے وجود اور اس کے بطور نسل باقی رہنے کا جواز معلوم ہوتا ہے‘ اس لیے علماء نے اس حدیث کی ممانعت یا ناپسندیدگی کے حکم کو تنزیہی قراردیا ہے یا اسے اس صورت پر محمول قراردیا جائے گا جب اس کی وجہ سے گھوڑوں کی نسل اور اس کی افزائش متأثر ہو کیونکہ گھوڑا خچر سے زیادہ مفید اور ضروری ہے‘ اس کی نسل میں کمی نہیں آنی چاہیے۔
(2) اس کو بے علموں کا کام قرار دینے کا مطلب خچروں کی افزائش کی حوصلہ شکنی ہی ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ خود یہ کام نہ کیا جائے‘ البتہ خچروں کا استعمال جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3610]

Sunan Abi Dawud Hadith 2565 in Urdu