سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. باب في لبس الدروع
باب: زرہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2590
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَسِبْتُ أَنِّي سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ خُصَيْفَةَ يَذْكُرُ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ظَاهَرَ يَوْمَ أُحُدٍ بَيْنَ دِرْعَيْنِ أَوْ لَبِسَ دِرْعَيْنِ".
سائب بن یزید رضی اللہ عنہ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2590]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الجہاد 18 (2806)، (تحفة الأشراف: 15577)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/449) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3886)
وللحديث شاھد عند الترمذي (3738)
مشكوة المصابيح (3886)
وللحديث شاھد عند الترمذي (3738)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2590
| ظاهر يوم أحد بين درعين |
سنن ابن ماجه |
2806
| أخذ درعين كأنه ظاهر بينهما |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2590 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2590
فوائد ومسائل:
زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مگر حفاظت کی غرض سے ہتھیار لینا اور زرہ وغیرہ پہننا مشروع ہے۔
اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
مگر حفاظت کی غرض سے ہتھیار لینا اور زرہ وغیرہ پہننا مشروع ہے۔
اور یہ توکل کے خلاف نہیں ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2590]
السائب بن يزيد الكندي ← اسم مبهم