🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب فِي الْبَوْلِ فِي الْمُسْتَحَمِّ
باب: غسل خانہ (حمام) میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ، وَقَالَ الْحَسَنُ،عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي مُسْتَحَمِّهِ ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ"، قَالَ أَحْمَدُ: ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فِيهِ، فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ایسا نہ کرے کہ اپنے غسل خانے (حمام) میں پیشاب کرے پھر اسی میں نہائے“۔ احمد کی روایت میں ہے: پھر اسی میں وضو کرے، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 27]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص غسل خانے میں ہرگز پیشاب نہ کرے کہ بعد میں وہ وہیں نہائے گا۔“ احمد رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں: ”پھر وہ وہیں وضو کرے گا، کیونکہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 27]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 17 (21)، سنن النسائی/الطھارة 32 (36)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 12 (304)، (تحفة الأشراف: 9648)، وقد أخرجہ:حم (5/56) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (21)،نسائي (36)،ابن ماجه (304)
الحسن البصري عنعن (تقدم: 17)
والحديث الآتي (الأصل: 28 وسنده صحيح) يغني عنه
ولبعض الحديث شاهد صحيح موقوف عند البيهقي (1/ 98)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 14


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زيادصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥أشعث بن جابر الحداني، أبو عبد الله
Newأشعث بن جابر الحداني ← الحسن البصري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← أشعث بن جابر الحداني
ثقة حافظ له تصانيف
👤←👥أشعث بن جابر الحداني، أبو عبد الله
Newأشعث بن جابر الحداني ← الحسن بن علي الهذلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← أشعث بن جابر الحداني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ فقيه حجة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← أحمد بن حنبل الشيباني
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← الحسن بن علي الهذلي
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
21
نهى أن يبول الرجل في مستحمه عامة الوسواس منه
سنن أبي داود
27
لا يبولن أحدكم في مستحمه ثم يغتسل فيه
سنن ابن ماجه
304
لا يبولن أحدكم في مستحمه عامة الوسواس منه
سنن النسائى الصغرى
36
لا يبولن أحدكم في مستحمه عامة الوسواس منه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 27 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 27
فوائد و مسائل:
  یہ روایت ضعیف ہے، البتہ اگلی حدیث سنن ابی داود حدیث [28] صحیح ہے جو اسی کے ہم معنیٰ ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 27]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث304
غسل خانہ میں پیشاب کرنے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 304]
اردو حاشہ:
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے اور مزید کہا ہے کہ اس روایت سے سنن ابوداؤد کی حدیث نمبر: 27 کفایت کرتی ہے جوکہ صحیح الاسناد ہے۔
علاوہ ازیں شیخ البانی ؒ نے بھی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے، بہرحال احتیاط اور احترام سنت کا تقاضہ یہی ہے کہ غسل خانے میں پیشاب کرنے سےاجتناب ہی کیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 304]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 36
غسل خانے میں پیشاب کرنے کی ممانعت کا بیان۔
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ [سنن نسائي/ذكر الفطرة/حدیث: 36]
36۔ اردو حاشیہ:
➊ غسل والی جگہ میں پیشاب کرنا منع ہے کیونکہ بعد میں غسل کا پانی وہاں گرے گا اور چھینٹے اڑیں گے، نیز پانی ملنے سے نجاست پھیل جائے گی۔ ویسے بھی عقل سلیم تقاضا کرتی ہے کہ نجاست والی جگہ پر طہارت اور طہارت والی جگہ پر نجاست نہ کی جائے۔ اس سے طبع انسانی کو گھن آتی ہے چاہے نجاست لگنے کا احتمال نہ بھی ہو، جیسے کوئی عقل مند شخص نجاست کے قریب بیٹھ کر کھانا پینا گوارا نہیں کرتا، اسی طرح کا یہ مسئلہ ہے۔ بعض فقہاء کا خیال ہے کہ اگر وہاں پیشاب جمع نہ ہوتا ہو، تو پیشاب کرنے میں کوئی حرج نہیں، مگر یہ فطرت سلیمہ کے خلاف ہے اور اسلام دین فطرت ہے، نیز یہ نص کے ظاہر الفاظ کے عموم کے بھی مخالف لگتا ہے۔
➋ شیخ البانی رحمہ اللہ نے «فَإِنَّ عَامَّةَ الْوَسْوَاسِ مِنْهُ» کے الفاظ کے سوا باقی پوری حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اور انھی کی رائے مضبوط لگتی ہے کیونکہ اس جملے کی تائید دیگر شواہد سے نہیں ہوتی۔ واللہ أعلم۔ دیکھیے: [صحیح سنن النسائي، حدیث: 36]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 36]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 21
غسل خانے میں پیشاب کرنے کی کراہت​۔
عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے غسل خانہ میں پیشاب کرے ۱؎ اور فرمایا: ”زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ ممانعت ایسے غسل خانوں کے سلسلے میں ہے جن میں پیشاب زمین میں جذب ہو جاتا ہے،
یا رک جاتا ہے،
پختہ غسل خانے جن میں پیشاب پانی پڑتے ہی بہہ جاتا ہے ان میں یہ ممانعت نہیں (ملاحظہ ہوسنن ابن ماجہ رقم: 304)

2؎:
امام ترمذی کسی حدیث کے بارے میں جب لفظ ”غریب“ کہتے ہیں تو ایسی حدیثیں اکثر ضعیف ہوتی ہیں،
ایسی ساری احادیث پر نظر ڈالنے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے،
یہ حدیث بھی ضعیف ہے (ضعیف ابی داودرقم6) البتہ ”غسل خانہ میں پیشاب کی ممانعت“ سے متعلق پہلا ٹکڑا شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔

3؎:
مطلب یہ ہے جو بھی وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے،
غسل خانوں کے پیشاب کا اس میں کوئی دخل نہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 21]

Sunan Abi Dawud Hadith 27 in Urdu