یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
145. باب في عقوبة الغال
باب: مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2713
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ النُّفَيْلِيُّ الدّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد، وَصَالِحٌ هذا أبو واقد، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ مَسْلَمَةَ أَرْضَ الرُّومِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ غَلَّ فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ فَقَالَ سَمِعْت أَبِي يُحَدِّثُ عَن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا وَجَدْتُمُ الرَّجُلَ قَدْ غَلَّ فَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ وَاضْرِبُوهُ، قَالَ: فَوَجَدْنَا فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفًا فَسَأَلَ سَالِمًا عَنْهُ، فَقَالَ: بِعْهُ وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ".
صالح بن محمد بن زائدہ کہتے ہیں کہ میں مسلمہ کے ساتھ روم کی سر زمین میں گیا تو وہاں ایک شخص لایا گیا جس نے مال غنیمت میں چوری کی تھی، انہوں نے سالم سے اس سلسلہ میں مسئلہ پوچھا تو سالم بن عبداللہ نے کہا: میں نے اپنے والد کو بیان کرتے ہوئے سنا وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کر رہے تھے آپ نے فرمایا کہ جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ کہ جس نے مال غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو، اور اسے مارو۔ راوی کہتے ہیں: ہمیں اس کے سامان میں ایک مصحف بھی ملا تو مسلمہ نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2713]
صالح بن محمد زائدہ کہتے ہیں کہ میں مسلمہ بن عبدالملک کی معیت میں رومی علاقے میں گیا تو ایک آدمی لایا گیا جس نے غنیمت میں خیانت کی تھی۔ انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: ”میں نے اپنے والد سے سنا، وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی کو پاؤ کہ اس نے غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا مال و اسباب جلا ڈالو اور اسے مارو۔““ کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اس کے سامان میں قرآن مجید کا ایک نسخہ پایا۔ مسلمہ نے اس کے بارے میں جناب سالم رحمہ اللہ سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ”اسے فروخت کرو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحدود 28 (1461)، (تحفة الأشراف: 6763)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/22)، سنن الدارمی/السیر 49 (2537) (ضعیف)» (اس سند کے راوی صالح ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1461)
صالح بن محمد بن زائدة : ضعيف (تق : 2885) و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 274) و قال أيضًا : ضعفه أكثر الناس (مجمع الزوائد 7/ 210)
والحديث ضعفه البيهقي (103/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
إسناده ضعيف
ترمذي (1461)
صالح بن محمد بن زائدة : ضعيف (تق : 2885) و قال الھيثمي : وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 6/ 274) و قال أيضًا : ضعفه أكثر الناس (مجمع الزوائد 7/ 210)
والحديث ضعفه البيهقي (103/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 99
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1461
| وجدتموه غل في سبيل الله فاحرقوا متاعه |
سنن أبي داود |
2713
| إذا وجدتم الرجل قد غل فأحرقوا متاعه واضربوه قال فوجدنا في متاعه مصحفا فسأل سالما عنه فقال بعه وتصدق بثمنه |
Sunan Abi Dawud Hadith 2713 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي