سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
174. باب في سجود الشكر
باب: سجدہ شکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2775
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ ابْنِ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ،عَنْ الأَشْعَثِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَا نَزَلَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا، قَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا شُكْرًا لِرَبِّي، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي، فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاق، أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ. حينَ حَدَّثَنَا بِهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ.
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا ۱؎ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے، اور فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا، پھر سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2775]
سیدنا عامر بن سعد اپنے والد (سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مکہ سے روانہ ہوئے، ہمارا ارادہ مدینہ جانے کا تھا۔ جب ہم مقامِ عزورا کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اتر پڑے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ایک گھڑی اللہ سے دعا کرتے رہے۔ پھر سجدے میں گر گئے اور دیر تک سجدے میں پڑے رہے۔ پھر اٹھے، اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور ایک گھڑی اللہ سے دعا کرتے رہے، پھر سجدے میں گر گئے اور بڑی دیر تک سجدے میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور ایک گھڑی تک بلند کیے رکھے، پھر سجدے میں گر گئے۔“ احمد بن صالح نے یہ عمل تین بار کا بیان کیا، فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے سوال کیا ہے اور اپنی امت کے لیے شفاعت کی ہے۔ پس اللہ نے مجھے میری امت کا تہائی حصہ دے دیا (اسے بخش دوں گا)، تو میں اپنے رب کا شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گیا۔ پھر میں نے اپنا سر اٹھایا، اپنے رب سے اپنی امت کے لیے دعا کی تو اس نے مجھے میری امت کا (مزید) تہائی حصہ عنایت فرما دیا تو میں اپنے رب کا شکر کرتے ہوئے سجدے میں گر گیا۔ پھر میں نے سر اٹھایا، اپنے رب سے اپنی امت کے لیے سوال کیا تو اس نے مجھے میری امت کا مزید تہائی حصہ بھی دے دیا تو میں اپنے رب کے لیے سجدے میں گر گیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میرے شیخ احمد بن صالح نے جب یہ سند بیان کی تو اس میں سے اشعث بن اسحاق کا انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ اس کا ذکر موسیٰ بن سہل رملی نے کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2775]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3870) (اس کے راوی ابن عثمان مجہول اور اشعث لین الحدیث ہیں) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: جحفہ کے پاس ایک گھاٹی کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يحيي بن الحسن بن عثمان مجهول الحال (تق : 7531)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
إسناده ضعيف
يحيي بن الحسن بن عثمان مجهول الحال (تق : 7531)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2775
| سألت ربي وشفعت لأمتي فأعطاني ثلث أمتي فخررت ساجدا شكرا لربي ثم رفعت رأسي فسألت ربي لأمتي فأعطاني ثلث أمتي فخررت ساجدا لربي شكرا ثم رفعت رأسي فسألت ربي لأمتي فأعطاني الثلث الآخر فخررت ساجدا لربي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2775 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2775
فوائد ومسائل:
یہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم سجدہ شکر والی بات صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ حدیث سے وہ ثابت ہے۔
یہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم سجدہ شکر والی بات صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ حدیث سے وہ ثابت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2775]
Sunan Abi Dawud Hadith 2775 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري