🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما يجوز من السن في الضحايا
باب: کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُقَالُ لَهُ مُجَاشِعٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَعَزَّتِ الْغَنَمُ فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ.
کلیب کہتے ہیں کہ ہم مجاشع نامی بنی سلیم کے ایک صحابی رسول کے ساتھ تھے اس وقت بکریاں مہنگی ہو گئیں تو انہوں نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فر ماتے تھے: جذع (ایک سالہ) اس چیز سے کفایت کرتا ہے جس سے «ثنی» (وہ جانور جس کے سامنے کے دانت گر گئے ہوں) کفایت کرتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2799]
جناب عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے ساتھ تھے جن کا نام مجاشع رضی اللہ عنہ تھا جو کہ قبیلہ بنی سلیم میں سے تھے۔ (قربانی کے لیے) بکریاں (تقسیم کی گئیں تو) کم ہو گئیں۔ پس انہوں نے ایک منادی کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ اعلان کر دے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: بلاشبہ «الْجَذَعُ» (ایک سالہ) «الثَّنِيُّ» (دو دانتے) کی جگہ کفایت کر جاتا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: اس (صحابی) کا نام مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الضحایا 12(4389)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 7 (3140)، (تحفة الأشراف: 11211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1467)
وله شاھد صحيح عند الحاكم (4/226 ح 7538)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مجاشع بن مسعود السلميصحابي
👤←👥كليب بن شهاب الجرمي، أبو عاصم
Newكليب بن شهاب الجرمي ← مجاشع بن مسعود السلمي
ثقة
👤←👥عاصم بن كليب الجرمي
Newعاصم بن كليب الجرمي ← كليب بن شهاب الجرمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم بن كليب الجرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2799
الجذع يوفي مما يوفي منه الثني
سنن ابن ماجه
3140
الجذع يوفي مما توفي منه الثنية
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2799 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2799
فوائد ومسائل:
صحیح احادیث کے مطابق ایک سالہ بکری (جزع) کا جواز غالباً تین صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کےلئےثابت ہوا ہے۔
ایک حضرت ابو بردہ بن نیاررضی اللہ تعالیٰ عنہ جس کا بیان درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔
اور دوسرے مذکورہ بالا حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور تیسرے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2799]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3140
قربانی کے لیے کون سا جانور کافی ہے؟
کلیب کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بنی سلیم کے مجاشع نامی ایک شخص کے ساتھ تھے، بکریوں کی قلت ہو گئی، تو انہوں نے ایک منادی کو حکم دیا، جس نے پکار کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: (قربانی کے لیے) بھیڑ کا ایک سالہ بچہ دانتی بکری کی جگہ پر کافی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كِتَابُ الْأَضَاحِي/حدیث: 3140]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ثنيه يا مسنه اس جانور کو کہتے ہیں کہ جس کے دودھ کے دانت ٹوٹ کر دو نئے دانت آجائیں۔

(2)
جذعه اس جانور کو کہتے ہیں جس کے دودھ کے دانت نہ ٹوٹے ہوں۔

(3)
مذکورہ بالا حدیث اور ام بلال ؒسے مروی حدیث:
بھیڑ کے جذعے کی قربانی کرو اس لیے کہ اس کی قربانی جائز ہے۔ (مسند احمد: 2/368)
سے معلوم ہوتا ہے کہ عام حالات میں بھی بھیڑ کا جذعه قربانی کیا جاسکتا ہے البتہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت جوکہ صحیح مسلم (1963)
میں ہے، کی رو سے مسنه (دودانتا)
جانور قربانی کرنا افضل ہے۔
جیساکہ حافظ ابن حجر ؒ اس کی بابت فتح الباری میں لکھتے ہیں:
امام نووی ؒ نے جمہور علماء سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے اس حدیث کو افضلیت پر محمول کیا ہے۔ دیکھیے: (فتح الباري: 1/ 20)
نیز راجح قول کے مطابق جذعه صرف بھیڑ میں جائز ہے یعنی دنبہ اور چھترا دیگر جانوروں کے اس عمر کے بچوں کی قربانی کرنا جائز نہیں۔
اس مسئلے کی تفصیل کے لیے اگلی حدیث کے فوائد میں بحث دیکھی جا سکتی ہے۔

(4)
شیخ زہیت شاویش لکھتے ہیں:
بھیڑ، بکری اور گائے میں مسنہ وہ ہوتا ہے جو تیسرے سال میں لگ جائےاور اونٹوں میں جو چھٹے سال میں لگ جائے۔
بھیڑ کے جذعے کے متعلق علمائے لغت اور اکثر علماءکا مشہور اور راجح قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ (بھیڑ کا بچہ)
ہے جو پورے سال کا ہوجائے۔
امام شوکانی امام نووی حافظ ابن حجر ؒ اور دیگر علماء نے یہی فرمایا ہے۔ (حاشہ ضعیف سنن ابن ماجہ)
لیکن یہ بات حتمی نہیں الگ الگ ملکوں کی الگ الگ آب وہوا کی وجہ سے اس میں فرق بھی ہوسکتا ہےاس لیے اصل اعتبار بکرے، گائے،   بیل اور اونٹ میں دو دانتا ہونا ہے اور دنبہ چھترے کا ایک سالہ ہونا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3140]

Sunan Abi Dawud Hadith 2799 in Urdu