🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب في الشاة يضحى بها عن جماعة
باب: ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں کی طرف سے کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَضْحَى بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ۱؎ کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2810]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک عید الاضحی کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں حاضر تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خطبہ مکمل کر لیا اور منبر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مینڈھا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور یہ دعا پڑھی: «بِسْمِ اللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي» اللہ کے نام سے، اور اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جو قربانی نہیں کر سکے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2810]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأضاحي 22 (1521)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 1 (3121)، (تحفة الأشراف: 3099)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1989)، مسند احمد (3/356، 362) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ا س جملے سے ثابت ہوا کہ مسلم کی جس روایت میں اجمال ہے (یعنی: یہ میری امت کی طرف سے ہے) اس سے مراد امت کے وہ زندہ لوگ ہیں جو عدم استطاعت کے سبب اس سال قربانی نہیں کر سکے تھے نہ کہ مردہ لوگ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1521)
المطلب بن عبداللّٰه بن حنطب مدلس وصرح بالسماع عند الطحاوي(معاني الآثار 177/4178) في أصل الحديث ولكنه لم يصرح بالسماع في قوله :’’نزل من منبره ‘‘ فھذا ضعيف
ولأصل الحديث شواھد عند الحاكم (229/4) وغيره دون قوله:’’نزل من منبره‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥المطلب بن عبد الله المخزومي، أبو الحكم
Newالمطلب بن عبد الله المخزومي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق كثير التدليس والإرسال
👤←👥عمرو بن أبي عمرو القرشي، أبو عثمان
Newعمرو بن أبي عمرو القرشي ← المطلب بن عبد الله المخزومي
صدوق يهم
👤←👥يعقوب بن عبد الرحمن القاري
Newيعقوب بن عبد الرحمن القاري ← عمرو بن أبي عمرو القرشي
ثقة
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← يعقوب بن عبد الرحمن القاري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2810
بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2810 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2810
فوائد ومسائل:

ایک بکری کا اپنے تمام گھر کے افراد کی طرف سے کفایت کرنا تو بالکل صحیح بات ہے۔
مگر لوگوں کی ایک جماعت کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔


عید گاہ میں بعض اوقات منبر استعمال کرلیا جائے۔
تو جائز ہے۔
جیسے کہ اس حدیث میں بیان ہے۔
علاوہ ازیں صحیح بخاری۔
اورصحیح مسلم میں بھی اس بات کا تزکرہ موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبے سے فارغ ہوئے تو نیچے اترے اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 961۔
و صحیح مسلم، العیدین، حدیث: 884)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2810]

Sunan Abi Dawud Hadith 2810 in Urdu