الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب ما جاء متى ينقطع اليتم
باب: یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ: حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2873]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:10160) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عبادت کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاموشی کا روزہ رکھتے اور دوران خاموشی کسی سے بات نہیں کرتے تھے، اسلام نے اس طریقہ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خالد بن سعيد لم يوثقه غير ابن حبان وباقي السند حسن
وللحديث شواھد ضعيفة
وروي الطبراني في الكبير (3502) عن حنظلة بن حذيم قال قال رسول اللّٰه ﷺ : ((لا يتم بعد احتلام ولا يتم علي جارية إذا ھي حاضت)) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
إسناده ضعيف
خالد بن سعيد لم يوثقه غير ابن حبان وباقي السند حسن
وللحديث شواھد ضعيفة
وروي الطبراني في الكبير (3502) عن حنظلة بن حذيم قال قال رسول اللّٰه ﷺ : ((لا يتم بعد احتلام ولا يتم علي جارية إذا ھي حاضت)) وسنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2873
| لا يتم بعد احتلام ولا صمات يوم إلى الليل |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2873 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2873
فوائد ومسائل:
یتیم بچہ بالغ ہونے کے بعد اپنے امور کا خود ذمہ داار ہوجاتاہے۔
اور اس سے یتیمی کے احکام اٹھ جاتے ہیں۔
اگر وہ فی الواقع دانا اور سمجھ دار ہو تو خریدوفروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات میں اس کا اپنا فیصلہ راحج ہوگا۔
لیکن اگر ثابت نہ ہو کہ ان معاملات میں وہ دانا نہیں ہے تو ولی ہی اس کا نگران رہے گا۔
جیسے کہ سورۃ النساء میں ہے۔
(وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ)(النساء۔
6/4) اور یتیموں کو آذماتے رہو۔
پھر تم اگر ان میں ہوشیاری اور حسن تدبیر پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور دوسرا مسئلہ چپ کا روزہ قبل ازاسلام لوگوں کامعمول تھا۔
اسلام میں اس س منع کردیا گیا ہے۔
اور اللہ کا ذکر کرنے اور خیر کے ساتھ بولنے کا حکم دیاگیاہے۔
یتیم بچہ بالغ ہونے کے بعد اپنے امور کا خود ذمہ داار ہوجاتاہے۔
اور اس سے یتیمی کے احکام اٹھ جاتے ہیں۔
اگر وہ فی الواقع دانا اور سمجھ دار ہو تو خریدوفروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات میں اس کا اپنا فیصلہ راحج ہوگا۔
لیکن اگر ثابت نہ ہو کہ ان معاملات میں وہ دانا نہیں ہے تو ولی ہی اس کا نگران رہے گا۔
جیسے کہ سورۃ النساء میں ہے۔
(وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ)(النساء۔
6/4) اور یتیموں کو آذماتے رہو۔
پھر تم اگر ان میں ہوشیاری اور حسن تدبیر پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور دوسرا مسئلہ چپ کا روزہ قبل ازاسلام لوگوں کامعمول تھا۔
اسلام میں اس س منع کردیا گیا ہے۔
اور اللہ کا ذکر کرنے اور خیر کے ساتھ بولنے کا حکم دیاگیاہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2873]
عبد الله بن أبي أحمد الأسدي ← علي بن أبي طالب الهاشمي