سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب فيمن أسلم على ميراث
باب: میراث کی تقسیم سے پہلے اگر وارث مسلمان ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2914
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ قَسْمٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَهُوَ عَلَى مَا قُسِمَ لَهُ، وَكُلُّ قَسْمٍ أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ فَهُوَ عَلَى قَسْمِ الْإِسْلَامِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2914]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تقسیم (قبل از اسلام) جاہلیت میں ہو چکی سو ہو چکی (وہ اسی کے مطابق رہے گی) اور جو اسلام قبول کرنے تک نہیں ہوئی، وہ اب اسلام کے دستور کے مطابق ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2914]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الرھن 21 (2485)، (تحفة الأشراف: 5383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
وللحديث شواھد كثيرة
وللحديث شواھد كثيرة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2914
| كل قسم قسم في الجاهلية فهو على ما قسم له كل قسم أدركه الإسلام فهو على قسم الإسلام |
سنن ابن ماجه |
2485
| كل قسم قسم في الجاهلية فهو على ما قسم كل قسم أدركه الإسلام فهو على قسم الإسلام |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 2914 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2914
فوائد ومسائل:
فائدہ: اسلام نے آنے کے بعد جاہلیت کے اعمال کے کوئی معنی نہیں۔
ایسا آدمی جو جاہلیت کے اعمال پر کاربند ہو اس نے یا تو اسلام قبول ہی نہیں کیا۔
یا کیا ہے تو پھر اسلام کو دین نہیں سمجھا۔
اس لئے واجب ہے کہ عقائد وعبادات کے بعد مالی اور غیر مالی سب معاملات اصول اسلام کے مطابق عمل میں لائے جایئں۔
فائدہ: اسلام نے آنے کے بعد جاہلیت کے اعمال کے کوئی معنی نہیں۔
ایسا آدمی جو جاہلیت کے اعمال پر کاربند ہو اس نے یا تو اسلام قبول ہی نہیں کیا۔
یا کیا ہے تو پھر اسلام کو دین نہیں سمجھا۔
اس لئے واجب ہے کہ عقائد وعبادات کے بعد مالی اور غیر مالی سب معاملات اصول اسلام کے مطابق عمل میں لائے جایئں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2914]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2485
پانی کی تقسیم کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2485]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں جو تقسیم ہو چکی ہے وہ اسی طرح باقی رہے گی جیسی وہ ہوئی ہے، اور جو تقسیم زمانہ اسلام میں ہوئی ہے وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو گی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2485]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مالی معاملات میں جو لین دین کسی شخص نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کیا ہو اس کی غلطیاں معاف ہیں اور اس کی ملکیت جائز سمجھی جائے گی۔
(2)
اسلا م قبول کرنے سے پہلے مشترک چیز کوغیر اسلامی رواج کےمطابق تقسیم کیا گیا ہو تواسلام قبول کرنے کے بعد اس کی دوبارہ تقسیم نہیں کی جائے گی۔
(3)
اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمان اسلامی قوانین کا پابند ہے لہٰذا کوئی بھی تقسیم یا تجارت یا کوئی اور معاملہ جو بھی ہوا اسے اسلامی قوانین کی روشنی میں پرکھا جائے گا اورخلاف شریعت معاملات کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔
(4)
اسلام سے پہلے کسی غیر اسلامی لین دین کا معاملہ ہوا ہو لیکن ادائیگی نہ ہوئی ہوتو معاملے کو اسلامی قانون کی روشنی میں طے کیا جائے گا مثلاً اگر سود پرقرض دیا تھا پھر اسلام قبول کرلیا تواب وہ سود وصول نہیں کرسکتا صرف اصل رقم وصول کر سکتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مالی معاملات میں جو لین دین کسی شخص نے اسلام قبول کرنے سے پہلے کیا ہو اس کی غلطیاں معاف ہیں اور اس کی ملکیت جائز سمجھی جائے گی۔
(2)
اسلا م قبول کرنے سے پہلے مشترک چیز کوغیر اسلامی رواج کےمطابق تقسیم کیا گیا ہو تواسلام قبول کرنے کے بعد اس کی دوبارہ تقسیم نہیں کی جائے گی۔
(3)
اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمان اسلامی قوانین کا پابند ہے لہٰذا کوئی بھی تقسیم یا تجارت یا کوئی اور معاملہ جو بھی ہوا اسے اسلامی قوانین کی روشنی میں پرکھا جائے گا اورخلاف شریعت معاملات کو کالعدم قرار دیا جائے گا۔
(4)
اسلام سے پہلے کسی غیر اسلامی لین دین کا معاملہ ہوا ہو لیکن ادائیگی نہ ہوئی ہوتو معاملے کو اسلامی قانون کی روشنی میں طے کیا جائے گا مثلاً اگر سود پرقرض دیا تھا پھر اسلام قبول کرلیا تواب وہ سود وصول نہیں کرسکتا صرف اصل رقم وصول کر سکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2485]
Sunan Abi Dawud Hadith 2914 in Urdu
جابر بن زيد الأزدي ← عبد الله بن العباس القرشي