سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. باب ما جاء في حكم أرض خيبر
باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ، نِصْفًا لِنَوَائِبِهِ وَحَاجَتِهِ، وَنِصْفًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا".
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3010]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (3011)
وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (3011)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3010
| قسم رسول الله خيبر نصفين نصفا لنوائبه وحاجته نصفا بين المسلمين قسمها بينهم على ثمانية عشر سهما |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3010 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3010
فوائد ومسائل:
تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمینوں کو اس طرح دو حصو ں میں تقسیم فرمایا جس طرح وہ حاصل ہوئیں۔
جو جنگ کے نتیجے میں ملیں۔
وہ آپ نے تقسیم فرما دیں۔
اور تقریبا اتنی ہی زمینیں بغیر لڑے معاہدہ صلح کے نتیجے میں حاصل ہوئیں۔
ان کی آمدنی قرآن کے حکم کے مطابق آپ کے لئے تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمانوں کے اتفاقی اخراجات کےلئے اور تھوڑا سا حصہ ذاتی اور خاندانی ضروریات کےلئے مختص فرما دیا۔
حکومتوں اور رفاہی جمعیتوں اور انجمنوں کے پاس خاص محفوظ فنڈ ز جمع رہے تو بہت عمد ہ ہے۔
تاکہ اتفاقی اخراجات پورے کرنے میں آسانی رہے۔
تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمینوں کو اس طرح دو حصو ں میں تقسیم فرمایا جس طرح وہ حاصل ہوئیں۔
جو جنگ کے نتیجے میں ملیں۔
وہ آپ نے تقسیم فرما دیں۔
اور تقریبا اتنی ہی زمینیں بغیر لڑے معاہدہ صلح کے نتیجے میں حاصل ہوئیں۔
ان کی آمدنی قرآن کے حکم کے مطابق آپ کے لئے تھی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسلمانوں کے اتفاقی اخراجات کےلئے اور تھوڑا سا حصہ ذاتی اور خاندانی ضروریات کےلئے مختص فرما دیا۔
حکومتوں اور رفاہی جمعیتوں اور انجمنوں کے پاس خاص محفوظ فنڈ ز جمع رہے تو بہت عمد ہ ہے۔
تاکہ اتفاقی اخراجات پورے کرنے میں آسانی رہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3010]
بشير بن يسار الحارثي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري