🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب في العيادة
باب: عیادت (بیمار پرسی) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3094
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ عَرَفَ فِيهِ الْمَوْتَ، قَالَ:" قَدْ كُنْتُ أَنْهَاكَ عَنْ حُبِّ يَهُودَ"، قَالَ: فَقَدْ أَبْغَضَهُمْ أسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ فَمَهْ، فَلَمَّا مَاتَ أَتَاهُ ابْنُهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُبَيٍّ قَدْ مَاتَ، فَأَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ، فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی کے مرض الموت میں اس کی عیادت کے لیے نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس پہنچے تو اس کی موت کو بھانپ لیا، فرمایا: میں تجھے یہود کی دوستی سے منع کرتا تھا، اس نے کہا: عبداللہ بن زرارہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا پایا، جب عبداللہ بن ابی مر گیا تو اس کے لڑکے (عبداللہ) آپ کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! عبداللہ بن ابی مر گیا، آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ اس میں میں اسے کفنا دوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص اتار کر دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3094]
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی (منافق) کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، اس بیماری میں جس میں کہ وہ مر گیا تھا۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر موت کے اثرات محسوس کیے (اور) فرمایا: میں تجھے منع کیا کرتا تھا کہ یہود سے محبت نہ رکھ۔ اس نے کہا: اسعد بن زرادہ نے ان سے بغض رکھا تو کیا ہوا؟ پھر جب وہ مر گیا تو اس کا بیٹا (عبداللہ رضی اللہ عنہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! بے شک عبداللہ بن ابی مر گیا ہے، تو آپ مجھے اپنی قمیص عنایت فرما دیں کہ میں اسے اس میں کفن دوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر اسے دے دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3094]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 108)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/201) (حسن)» ‏‏‏‏ (بیہقی نے دلائل النبوة (5؍ 285) میں ابن اسحاق کی زہری سے تحدیث نقل کی ہے، نیز قمیص کا جملہ صحیحین میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 8؍ 410)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد لكن قصة القميص صحيحة ق
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 114

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيدصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← أسامة بن زيد الكلبي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← محمد بن شهاب الزهري
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن يحيى البكائي، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن يحيى البكائي ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3094
كنت أنهاك عن حب يهود
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3094 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3094
فوائد ومسائل:

اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
تاہم قمیص کا قصہ صحیح ثابت ہے۔
(علامہ البانی)

مسلمان کی عیادت کےلئے جانا ایک شرعی حق ہے۔
اسی طرح کسی غلط کردارشخص کی عیادت کے لئے بھی جایا جا سکتا ہے۔
اور یہ یقینا اسلامی اخلاق ومروت کا حصہ ہے۔


اس منافق کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک خالص مومن صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاید اپنے اس محب مخلص کی دلداری کےلئے اپنی قیمص عنایت فرما دی تھی۔
اور یہ عمل ایک بیٹے کا اپنے باپ کے کئے ایک ادنیٰ سا حیلہ تھا کہ شاید اس کی برکت سے اسے کچھ فائدہ ہوجائے۔
اور یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے اس منافق کے ایک احسان کا بدلہ چکایا تھا۔
کہ بدر کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ قید کرلئے گئے۔
تو ان کے پاس قمیص نہ تھی۔
تو عبداللہ بن ابی نے اپنی قمیص دی تھی۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی چیز مانگی جاتی تو آپ اس سے انکار نہ فرمایا کرتے تھے۔
اور یوں بھی کہا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ عمل اس وقت کا ہو جب کہ یہ حکم نازل نہ ہوا تھا۔
 (وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ) (التوبہ۔
84/9) ان منافقوں میں سے جب کوئی مر جائے تو آپ اس کا جنازہ مت پڑھیں۔
اوراس کی قبر پر بھی مت کھڑے ہوں۔
 (عون المعبود)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3094]

Sunan Abi Dawud Hadith 3094 in Urdu