🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. باب موت الفجأة
باب: موت کا اچانک آ جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3110
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مَرَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً عَنْ عُبَيْدٍ، قَالَ:" مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسِفٍ".
صحابی رسول عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راوی نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً، پھر ایک بار عبید سے موقوفاً روایت کیا): اچانک موت افسوس کی پکڑ ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3110]
سیدنا عبید بن خالد سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، انہوں (مسدد) نے ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک بار عبید سے روایت کیا: اچانک موت ناراضی کی پکڑ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3110]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9743)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/424، 4/219) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کے غضب کی علامت ہے، کیونکہ اس میں بندے کو مہلت نہیں ملتی کہ وہ اپنے سفر آخرت کا سامان درست کر سکے، یعنی توبہ و استغفار، وصیت یا کوئی عمل صالح کر سکے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبيد بن خالد البهزي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥سعد بن عبيدة السلمي، أبو حمزة
Newسعد بن عبيدة السلمي ← عبيد بن خالد البهزي
ثقة
👤←👥تميم بن سلمة الخزاعي
Newتميم بن سلمة الخزاعي ← سعد بن عبيدة السلمي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← تميم بن سلمة الخزاعي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3110
موت الفجأة أخذة أسف
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3110 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3110
فوائد ومسائل:

امام ابو دائود کے شیخ مسدد نے اس روایت کوایک مرتبہ مرفوع اور ایک مرتبہ موقوف بیان کیا ہے۔


یہ اچانک موت کافر کےلئے اللہ کی ناراضی کی پکڑ ہے۔
کیونکہ ایک تو اس کی عمر اللہ کی نافرمانی میں گزری ہوتی ہے۔
دوسرے اچانک موت کی وجہ سے توبہ کا امکان جو ہوتا ہے۔
وہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔
ورنہ انسان بیما ر ہوتا ہے۔
اور آہستہ آہستہ موت کی طرف بڑھتا ہے۔
تو اس میں مرنے سے پہلے اصلاح اور توبہ کرنے کا موقع ہوتا ہے۔
جو اچانک موت سے ختم ہوجاتا ہے۔
البتہ اللہ کے اطاعت گزار مومن بندے کا معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔
وہ تو موت کےلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔
اور اس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی اطاعت میں گزرا ہوتا ہے۔
اس لئے اس کی اچانک موت اللہ کی طرف سے نارضگی نہیں۔
بلکہ اس کے رفع درجات کا باعث ہوگی۔
اس لئے امام بہیقی کی شعب الایمان میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔
(أخذها لاسف للكافرِ  و رحمةٌ للمؤمنِ) (مشکوة الجنائز، باب تمنی الموت و ذکرہ) اچانک موت کافر کےلئے ناراضی کی پکڑ ہے۔
اور مومن کے لئے رحمت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3110]

Sunan Abi Dawud Hadith 3110 in Urdu