🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب في تقبيل الميت
باب: میت کو بوسہ دینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3163
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ. حتَّى رَأَيْتُ الدُّمُوعَ تَسِيلُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عثمان بن مظعون ۱؎ رضی اللہ عنہ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا ہے، ان کا انتقال ہو چکا تھا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3163]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجنائز 14 (989)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 7 (1456)، (تحفة الأشراف: 17459)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 55، 206) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعی بھائی تھے، مدینہ میں مہاجرین میں سب سے پہلے انہیں کا انتقال ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (989) ابن ماجه (1456)
عاصم بن عبيداللّٰه ضعيف
وللحديث شواھد ضعيفة عند البزار (الكشف : 806) و أبي نعيم (حلية الأولياء :105/1) وغيرھما
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥عاصم بن عبيد الله القرشي
Newعاصم بن عبيد الله القرشي ← القاسم بن محمد التيمي
ضعيف الحديث
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم بن عبيد الله القرشي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← سفيان الثوري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
989
قبل عثمان بن مظعون وهو ميت وهو يبكي
سنن أبي داود
3163
يقبل عثمان بن مظعون وهو ميت حتى رأيت الدموع تسيل
سنن ابن ماجه
1456
قبل رسول الله عثمان بن مظعون وهو ميت فكأني أنظر إلى دموعه تسيل على خديه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3163 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3163
فوائد ومسائل:
مسلمان کبھی بھی نجس نہیں ہوتا۔
زندگی میں نہ موت کے بعد اور اپنی محبوب میت کو بوسہ دینا کسی طرح معیوب نہیں ہے۔
اور اس کے غم میں آنسئووں کا نکل آنا ایک فطری بات ہے۔
اس میں کوئی حرج نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3163]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1456
میت کے بوسہ لینے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ۱؎ کا بوسہ لیا، اور وہ مردہ تھے، گویا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسوؤں کو دیکھ رہی ہوں جو آپ کے رخسار مبارک پہ بہہ رہے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1456]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت عثمان بن مظعون کبار صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین میں سے ہیں۔
ان سے پہلے صرف تیرہ افراد اسلام لائے تھے۔
ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے شرف سے مشرف ہوئے۔
جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے۔
نواب وحید الزمان خاں نے لکھا ہے۔
کہ حضرت عثمان بن مظعون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دودھ شریک بھائی بھی تھے۔

(2)
غم کی وجہ سے رونا اور آنسو بہنا صبر کے منافی نہیں۔
بلکہ رحمت اور نرم دلی کی علامت ہے۔

(3)
مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میت کو بوسہ دینا ثابت نہیں البتہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے بعد بوسہ دیا تھا۔
جیسا کہ آئندہ روایت میں مذکور ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1456]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 989
میت کے بوسہ لینے کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی الله عنہ کا بوسہ لیا - وہ انتقال کر چکے تھے - آپ رو رہے تھے۔ یا (راوی نے) کہا: آپ کی دونوں آنکھیں اشک بار تھیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 989]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث اس با ت پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان میت کو بوسہ لینا اور اس پر رونا جائز ہے،
رہیں وہ احادیث جن میں رونے سے منع کیا گیا ہے تو وہ ایسے رونے پر محمول کی جائیں گی جس میں بین اور نوحہ ہو۔

نوٹ:

(ملاحظہ ہو:
تراجع الألبانی 495)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 989]