🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. باب التيمم
باب: تیمم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأَوَّلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ، فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ، فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ، وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ، فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ، وَمِنْ بِطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ"، زَادَ ابْنُ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فِي حَدِيثِهِ: وَلَا يَعْتَبِرُ بِهَذَا النَّاسُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ فِيهِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَذَكَرَ ضَرْبَتَيْنِ، كَمَا ذَكَرَ يُونُسُ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، ضَرْبَتَيْنِ، وقَالَ مَالِكٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارٍ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَشَكَّ فِيهِ ابْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ مَرَّةً: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَمَرَّةً قَالَ: عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، اضْطَرَبَ ابْنُ عُيَيْنَةَ فِيهِ وَفِي سَمَاعِهِ مِنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الضَّرْبَتَيْنِ، إِلَّا مَنْ سَمَّيْتُ.
عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش ۱؎ میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ہار جو ظفار کے مونگوں سے بنا تھا ٹوٹ کر گر گیا، چنانچہ ہار کی تلاش کے سبب لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی موجود نہیں تھا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہو گئے اور کہا: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی، مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اپنے ہاتھ زمین پر مار کر اسے اس طرح اٹھا لیا کہ مٹی بالکل نہیں لگی، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مونڈھوں تک اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا۔ ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں کہا: لوگوں کے نزدیک اس فعل کا اعتبار نہیں ہے ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسی طرح ابن اسحاق نے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے دو ضربہ ۳؎ کا ذکر کیا ہے جس طرح یونس نے ذکر کیا ہے، نیز معمر نے بھی زہری سے دو ضربہ کی روایت کی ہے۔ مالک نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے اپنے والد عبداللہ سے، عبداللہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اس میں شک کیا ہے: کبھی انہوں نے «عن عبيد الله عن أبيه» کہا، اور کبھی «عن عبيد الله عن ابن عباس» یعنی کبھی «عن أبيه» اور کبھی «عن ابن عباس» ذکر کیا۔ ابن عیینہ اس میں ۴؎ اور زہری سے اپنے سماع میں ۵؎ مضطرب ہیں نیز زہری کے رواۃ میں سے کسی نے دو ضربہ کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا میں نے نام لیا ہے ۶؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 320]
جناب عبیداللہ بن عبداللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام اولات الجیش میں آخر رات میں پڑاؤ ڈالا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ تو ان کا ہار جو کہ ظفار کے گھونگوں کا تھا، ٹوٹ کر گر گیا۔ اس ہار کی تلاش نے لوگوں کو (آگے چلنے سے) روک لیا، حتیٰ کہ صبح روشن ہو گئی اور ان کے پاس پانی بھی نہ تھا، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور کہا: تو نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور ان کے پاس پانی بھی نہیں ہے۔ تو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر پاک مٹی سے طہارت کرنے کی رخصت نازل فرمائی۔ چنانچہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھے اور اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور اٹھا لیے، ہاتھوں میں کوئی مٹی نہ اٹھائی اور پھر انہیں اپنے چہروں اور بازؤوں پر کندھوں تک اور اندر کی طرف سے بغلوں تک پھیر لیا، ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں مزید کہا کہ ابن شہاب نے اپنی حدیث میں کہا کہ مگر لوگ اس حدیث کا اعتبار نہیں کرتے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ابن اسحٰق نے ایسے ہی روایت کیا ہے، اس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے اور دو دفعہ ہاتھ مارنا بیان کیا، جیسے کہ یونس نے ذکر کیا ہے۔ اور اس روایت کو معمر نے زہری سے روایت کیا تو اس میں بھی دو دفعہ مارنا ہے۔ امام مالک کی سند یوں ہے: «عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارٍ» اور ایسے ہی ابواویس نے زہری سے روایت کیا۔ اور ابن عیینہ کو اس سند میں شک ہوا تو ایک بار یوں بیان کی: «عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ» یا «عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» اور ایک بار «عَنْ أَبِيهِ» کہا اور ایک بار «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» کہا۔ ابن عیینہ کو اس میں زہری سے سماع میں اضطراب ہوا ہے مگر ان میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث میں دو دفعہ ہاتھ مارنے کا ذکر نہیں کیا، سوائے ان کے جن کا میں نے نام لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 320]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الطہارة 197 (315)، (تحفة الأشراف: 10357)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/263) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، اسے ذات الجیش بھی کہا جاتا ہے۔ وضاحت: کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم سے پہلے اپنی رائے وقیاس سے انہوں نے ایساکیا تھا۔
۲؎: ابن حجر کے قول کے مطابق صفت تیمم کے سلسلہ میں ابوجہیم اور عمار رضی اللہ عنہما کی حدیث کو چھوڑ کر باقی ساری روایات یا تو ضعیف ہیں یا ان کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے، یہی وجہ ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں «التيمم للوجه والكفين» کے ساتھ باب باندھا ہے (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔
۳؎ علامہ البانی دو ضربہ والی روایات کو واہی اور معلول کہتے ہیں، اس لئے دو ضربہ کی ضرورت ہی نہیں صرف ایک ضربہ کافی ہے (ارواء الغلیل)۔
۴؎: یعنی کبھی تو انہوں نے «عن أبيه» کہا اور کبھی اسے ساقط کرکے اس کی جگہ «عن ابن عباس» کہا۔
۵؎: کبھی انہوں نے اسے زہری سے بلاواسطہ روایت کیا ہے اور کبھی اپنے اور زہری کے درمیان عمرو بن دینار کا واسطہ بڑھا دیا۔
۶؎: وہ نام یہ ہیں: یونس، ابن اسحاق اور معمر، زہری کے رواۃ میں صرف انہیں تینوں نے ضربتین کے لفظ کا ذکر کیا ہے، رہے زہری سے روایت کرنے والے باقی لوگ جیسے صالح بن کیسان، لیث بن سعد، عمرو بن دینار، مالک، ابن ابی ذئب وغیرہم تو ان میں سے کسی نے ضربتین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظانصحابي
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس
Newعبد الله بن العباس القرشي ← عمار بن ياسر العنسي
صحابي
👤←👥عبيد الله بن عبد الله الهذلي، أبو عبد الله
Newعبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة فقيه ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عبيد الله بن عبد الله الهذلي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ جليل
👤←👥محمد بن أبي خلف السلمي، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي خلف السلمي ← محمد بن يحيى الذهلي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
320
عرس بأولات الجيش ومعه عائشة فانقطع عقد لها من جزع ظفار فحبس الناس ابتغاء عقدها ذلك حتى أضاء الفجر وليس مع الناس ماء
سنن النسائى الصغرى
315
عرس رسول الله صلى الله عليه وسلم باولات الجيش ومعه عائشة زوجته فانقطع عقدها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 320 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 320
320۔ اردو حاشیہ:
علامہ منذری رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حدیث عمار میں دو باتیں ہیں کہ صحابہ کا عمل تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں تھا یا ان کا اپنا اجتہاد تھا۔ اگر ان کا یہ فعل اپنے اجتہاد سے تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل ان کے برخلاف ثابت ہوا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں کسی کا قول و فعل کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ حق ہی اس لائق ہوتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے۔ اگر بالفرض ان حضرات کا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے تحت تھا تو ثابت ہوتا ہے کہ اسے منسوخ کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے ناسخ بھی۔ انہی حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی ایک اور حدیث ہے۔ الخ
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 320]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 315
سفر میں تیمم کا بیان۔
عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے (کے حصہ پر) بغل تک مل لیا ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 315]
315۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ روایت پیچھے گزر چیک ہے (دیکھیے، روایت: 311]
مٹی وغیرہ نہیں جھاڑی مٹی جھاڑنا ضرورت کی بنا پر ہے، یعنی اگر مٹی زیادہ لگ جائے تو پھونک مار کر یا دونوں ہاتھوں کو آپس میں ٹکرا کر زائد مٹی گرا دی جائے اور اگر مٹی مناسب لگی ہے تو پھونک مارنا یا مٹی جھاڑنا بے فائدہ ہے۔ بہر صورت مٹی جھاڑنا تیمم کا حصہ نہیں۔
➋ کندھوں اور بغلوں تک تیمم کرنا باقی روایات کے خلاف ہے، اس لیے بعض محققین نے مسح میں کندھوں، بغلوں اور کہنیوں تک مسح کرنے کو صحیح نہیں کہا: بلکہ ان الفاظ کو شاذ قرار دیا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [صحیح سنن أبی داود للألبانی، رقم: 344، 345، و صحیح سنن النسائي، رقم: 315]
بعض لوگوں نے اپنے طور پر ایسا کر لیا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا منقول نہیں اور یہ کام بھی نزول حکم کے بعد پہلی بار تیمم کرتے ہوئے کیا گیا تھا جب کہ بعد میں اس کا طریقہ سنت نبوی سے متعین ہو گیا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 315]

Sunan Abi Dawud Hadith 320 in Urdu