Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. باب كراهية الذبح عند القبر
باب: قبر کے پاس ذبح کرنا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3222
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا عَقْرَ فِي الْإِسْلَامِ"، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَانُوا يَعْقِرُونَ عِنْدَ الْقَبْرِ بَقَرَةً أَوْ شَاةً.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں «عقر» نہیں ہے۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: لوگ زمانہ جاہلیت میں قبر کے پاس جا کر گائے بکری وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3222]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 475)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/197) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قبرکے پاس گائے بکری وغیرہ ذبح کرنا یہی «عقر» ہے، اسلام میں اس سے ممانعت ہو گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← ثابت بن أسلم البناني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥يحيى بن موسى الحداني، أبو زكريا
Newيحيى بن موسى الحداني ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3222
لا عقر في الإسلام
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3222 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3222
فوائد ومسائل:
یہ ایک جاہلی رسم تھی کہ گویا صاحب قبر اپنی زندگی میں بڑا سخی تھا۔
تو اس کے اقارب موت کے بعد اس کی قبر کے پاس جانور ذبح کرکے چھوڑ دیتے تھے کہ جانور کھا جایئں اسلام نے اس کام سے روک دیاہے۔
اور اب کسی بھی نیت سے قبر جانور ذبح کرنا۔
چڑھاوا چڑھانا یا دیگیں پکا کر تقسیم کرنا حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3222]