🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب في بيع العرايا
باب: بیع عرایا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3363
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا".
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (درخت پر پھلے) کھجور کو (سوکھے) کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے لیکن عرایا میں اس کو «تمر» (سوکھی کھجور) کے بدلے میں اندازہ کر کے بیچنے کی اجازت دی ہے تاکہ لینے والا تازہ پھل کھا سکے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3363]
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ کھجور کی خشک کھجور کے ساتھ بیع سے منع فرمایا ہے، لیکن «الْعَرَايَا» کی رخصت دی ہے کہ انسان تازہ کھجور کا اندازہ کر کے (خشک کے بدلے خرید لے) تاکہ وہ لوگ تازہ کھجور کھا سکیں۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3363]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 83 (2191)، المساقاة 17 (2384)، صحیح مسلم/البیوع 14 (1540)، سنن الترمذی/البیوع 64 (1303)، سنن النسائی/البیوع 33 (4548)، (تحفة الأشراف: 4646)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مثلاً عرایا والے کسی شخص کے پاس سوکھی کھجور تھی لیکن «رطب» یعنی تر کھجور اس کے پاس کھانے کو نہ تھی، اس کو باغ والے نے ایک درخت کی تر کھجوریں اندازہ کر کے سوکھی کھجور سے فروخت کر دیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2191) صحيح مسلم (1540)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سهل بن أبي حثمة الأنصاري، أبو محمد، أبو يحيى، أبو عبد الرحمنصحابي صغير
👤←👥بشير بن يسار الحارثي، أبو كيسان
Newبشير بن يسار الحارثي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← بشير بن يسار الحارثي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← سفيان بن عيينة الهلالي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3887
نهى عن بيع الثمر بالتمر ذلك الربا تلك المزابنة رخص في بيع العرية النخلة والنخلتين يأخذها أهل البيت بخرصها تمرا يأكلونها رطبا
صحيح مسلم
3888
رخص رسول الله في بيع العرية بخرصها تمرا
سنن أبي داود
3363
نهى عن بيع التمر بالتمر رخص في العرايا أن تباع بخرصها يأكلها أهلها رطبا
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3363 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3363
فوائد ومسائل:
عرایا عریہ کی جمع ہے۔
اس کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ عاریتا کسی کھجور کے ایک یا دو درخت دے دینا یہ حسن سلوک کا عمل ہے۔
جب اپنے باغ کے درختوں میں سے کوئی درخت عاریتاً ہمسایئوں یا دوسرے مستحقین کو دیا جائے تو ان کا بار بار آنا جانا شاق گزر سکتا ہے۔
اپنے ہی درختوں کے دیئے ہوئے تازہ پھل کا خشک کھجور سے تبادلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار دیا۔
تاکہ حسن سلوک کا عمل بار بار آنے جانے کی زحمت کے سبب منقطع نہ ہوجائے۔
غیر متعین مقدار کے تازہ پھل کی خشک پھل سےبیع کو ممنوع قرار دیا گیا۔
توعرایا کے مستحسن اقدام کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا عرایا میں تازہ کھجور کا خشک کھجور سے تبادلہ کوئی تجارتی عمل نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اجازت کو پانچ وسق کی مقدار تک محدود فرما دیا ہے۔
(صحیح البخاري، باب بیع التمر علی رؤوس النخل بالذھب أو الفضة، حدیث:2190)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3363]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3887
بشیر بن یسار اپنے محلہ کے بعض صحابہ سے بیان کرتے ہیں، ان میں حضرت سہل بن ابی حشمہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تازہ پھل کو خشک پھل کے عوض بیچنے سے منع فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سود ہے، یہ مزابنہ ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ بیچنے کی رخصت دی، یہ ایک دو کھجوریں ہیں یعنی ان کا پھل جسے کوئی گھرانہ، اندازہ کر کے خشک کھجوروں کے عوض لے لیتا ہے تاکہ تازہ کھجوریں کھا سکیں۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3887]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کی حرمت کا سبب سود قرار دیا ہے اور ظاہر بات ہے اگر تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے عوض برابر،
برابر بھی دی جائیں تو تازہ کھجوروں نے خشک ہو کر کم ہونا ہے۔
اس طرح کمی و بیشی ہو جائے گی جو سود ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3887]

Sunan Abi Dawud Hadith 3363 in Urdu