یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : عطية المرأة بغير إذن زوجها
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔
حدیث نمبر: 3790
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَقْبَلَ هَدِيَّةً إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ أَوْ أَنْصَارِيٍّ أَوْ ثَقَفِيٍّ أَوْ دَوْسِيٍّ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کر لیا ہے تھا کہ قریشی، انصاری، ثقفی، دوسی کو چھوڑ کر کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3790]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی شخص کے علاوہ سے تحفہ قبول نہیں کروں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13053)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/البیوع 82 (3537)، سنن الترمذی/المناقب 74 (93946)، مسند احمد (2/292) (حسن، صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا تھا جب ایک اعرابی نے آپ کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا اور آپ نے اسے اس کے اس ہدیہ کے بالمقابل بہت کچھ نوازا مگر اس اعرابی نے اسے بہت کم سمجھا اور اس سے زیادہ کا حریص ہوا اسی موقع پر آپ نے یہ بات کہی تھی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3790
| لقد هممت أن لا أقبل هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي |
جامع الترمذي |
3946
| إن رجالا من العرب يهدي أحدهم الهدية فأعوضه منها بقدر ما عندي ثم يتسخطه فيظل يتسخط فيه علي وايم الله لا أقبل بعد مقامي هذا من رجل من العرب هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي |
جامع الترمذي |
3945
| إن فلانا أهدى إلي ناقة فعوضته منها ست بكرات فظل ساخطا ولقد هممت أن لا أقبل هدية إلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي أو دوسي |
سنن أبي داود |
3537
| لا أقبل بعد يومي هذا من أحد هدية إلا أن يكون مهاجرا قرشيا أو أنصاريا أو دوسيا أو ثقفيا |
مسندالحميدي |
1082
| لقد هممت أن لا أتهب هبة إلا من قرشي، أو أنصاري، أو ثقفي، أو دوسي |
مسندالحميدي |
1083
| لقد هممت أن لا أتهب هبة إلا من قرشي، أو أنصاري، أو ثقفي |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 3790 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3790
اردو حاشہ:
(1) اس فرمان کا سبب یہ ہوا کہ ایک اعرابی نے آپ کو ایک اونٹ تحفے میں دیا۔ اس کا مقصد معاوضـہ لینا تھا۔ آپ نے اسے چھ اونٹ دے دیے‘ پھر بھی وہ راضی نہ ہوا‘ اس لیے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کیونکہ لوگوں نے آپ کو عام بادشاہوں کی طرح سمجھ رکھا تھا کہ جن سے حیلے بہانوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔
(2) قریشی‘ انصاری‘ ثقفی‘ دوسی چونکہ آپ کے تربیت یافتہ اور آپ کی حیثیت سے واقف تھے‘ وہ آپ کو تحفہ تبرک کی غرض سے دیتے تھے‘ اس لیے آپ نے ان قبیلوں کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔
(3) اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحفہ دینے والہ لالچی شخص ہو اور جو عوض دیا جائے اس پر راضی نہ ہوتا ہو تو تحفہ قبول کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔
(4) تحفہ دینے والے کو اس کے تحفے کے مقابل عوض دینا جائز ہے۔
(1) اس فرمان کا سبب یہ ہوا کہ ایک اعرابی نے آپ کو ایک اونٹ تحفے میں دیا۔ اس کا مقصد معاوضـہ لینا تھا۔ آپ نے اسے چھ اونٹ دے دیے‘ پھر بھی وہ راضی نہ ہوا‘ اس لیے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کیونکہ لوگوں نے آپ کو عام بادشاہوں کی طرح سمجھ رکھا تھا کہ جن سے حیلے بہانوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔
(2) قریشی‘ انصاری‘ ثقفی‘ دوسی چونکہ آپ کے تربیت یافتہ اور آپ کی حیثیت سے واقف تھے‘ وہ آپ کو تحفہ تبرک کی غرض سے دیتے تھے‘ اس لیے آپ نے ان قبیلوں کو مستثنیٰ قراردیا ہے۔
(3) اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ اگر تحفہ دینے والہ لالچی شخص ہو اور جو عوض دیا جائے اس پر راضی نہ ہوتا ہو تو تحفہ قبول کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا ہے۔
(4) تحفہ دینے والے کو اس کے تحفے کے مقابل عوض دینا جائز ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3790]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3537
ہدیہ اور تحفہ قبول کرنے کا بیان۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3537]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! میں آج کے بعد سے مہاجر، قریشی، انصاری، دوسی اور ثقفی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں گا ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3537]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
در اصل بعض لوگ بہت زیادہ بدلہ لینے کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دینے لگے تھے۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عزم ظاہر فرمایا اور مذکورہ خاندانوں کے لوگ طبعا ً غنی تھے۔
اور ان میں بالمعوم طمع نہیں ہوتی تھی۔
فائدہ۔
در اصل بعض لوگ بہت زیادہ بدلہ لینے کی غرض سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ دینے لگے تھے۔
تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عزم ظاہر فرمایا اور مذکورہ خاندانوں کے لوگ طبعا ً غنی تھے۔
اور ان میں بالمعوم طمع نہیں ہوتی تھی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3537]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3945
قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3945]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوان اونٹنی ہدیہ میں دی، اور آپ نے اس کے عوض میں اسے چھ اونٹنیاں عنایت فرمائیں، پھر بھی وہ آپ سے خفا رہا یہ خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”فلاں نے مجھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تھی، میں نے اس کے عوض میں اسے چھ جوان اونٹنیاں دیں، پھر بھی وہ ناراض رہا، میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اب سوائے قریشی، یا انصاری، یا ثقفی ۱؎ یا دوسی کے کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں“، اس حدیث میں مزید کچھ اور باتیں بھی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3945]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس سے قبیلہ ثقیف کی فضیلت بھی ثابت ہوتی ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3945]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3946
قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3946]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی فزارہ کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان اونٹوں میں سے جو اسے غابہ میں ملے تھے ایک اونٹنی ہدیہ میں دی تو آپ نے اسے اس کا کچھ عوض دیا، لیکن وہ آپ سے خفا رہا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا کہ ”عربوں میں سے کچھ لوگ مجھے ہدیہ دیتے ہیں اور اس کے بدلہ میں انہیں جس قدر میرے پاس ہوتا ہے میں دیتا ہوں، پھر بھی وہ خفا رہتا ہے اور برابر مجھ سے اپنی خفگی جتاتا رہتا ہے، قسم اللہ کی! اس کے بعد میں عربوں میں سے کسی بھی آدمی کا ہدیہ قبول نہیں کروں گا سوائے ق۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3946]
اردو حاشہ:
وضاحت:
نوٹ:
(سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں،
لیکن صاحب اوہام ہیں،
اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں،
لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اورسابقہ حدیث صحیح ہے،
ملاحظہ ہو:الصحیحة رقم: 1684)
وضاحت:
نوٹ:
(سابقہ حدیث میں ایوب بن مسکین (یا ابن ابی مسکین) صدوق ہیں،
لیکن صاحب اوہام ہیں،
اور اس سند میں محمد بن اسحاق صدوق لیکن مدلس ہیں،
لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث اورسابقہ حدیث صحیح ہے،
ملاحظہ ہو:الصحیحة رقم: 1684)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3946]
الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1082
1082- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی تحفے کے طور پر پیش کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (بدلے کے طور پر) تین اونٹنیاں دیں۔ لیکن وہ اس سے راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید تین اونٹنیاں دیں وہ پھر بھی راضی نہیں ہوا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین اونٹنیاں دیں۔ وہ نو اونٹنیاں لے کر راضی ہوگیا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ اب میں صرف کسی قریشی، انصاری، ثقفی یا دوسی شخص کا تحفہ ہی قبول کیا کروں گا۔“ سفیان کہتے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1082]
فائدہ:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیاض ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی آپ کو ہدیہ دے، اس کے بدلے میں اس سے بہتر ہدیہ دینا سنت ہے بعض لوگ ساری عمر ہدیہ لینے میں ہی رہتے ہیں اور دیتے نہیں ہیں، یہ اندا محل نظر ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیاض ہونے کا ثبوت ملتا ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو کوئی آپ کو ہدیہ دے، اس کے بدلے میں اس سے بہتر ہدیہ دینا سنت ہے بعض لوگ ساری عمر ہدیہ لینے میں ہی رہتے ہیں اور دیتے نہیں ہیں، یہ اندا محل نظر ہے۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1081]
Sunan an-Nasa'i Hadith 3790 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي