🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب في عطية المرأة بغير إذن زوجها
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا کسی کو کچھ دے دینا ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3547
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3547]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ الدیات 3 (1390)، سنن النسائی/ الزکاة 58 (2541)، العمری 1 (3787، 3788)، (تحفة الأشراف: 8680، 8683)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/179، 180، 207، 212)، دی/ الدیات 16 (2417)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (2566) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (2541 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (3546)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥شعيب بن محمد السهمي
Newشعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥عمرو بن شعيب القرشي، أبو إبراهيم، أبو عبد الله
Newعمرو بن شعيب القرشي ← شعيب بن محمد السهمي
ثقة
👤←👥الحسين بن ذكوان المعلم
Newالحسين بن ذكوان المعلم ← عمرو بن شعيب القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن الحارث الهجيمي، أبو عثمان
Newخالد بن الحارث الهجيمي ← الحسين بن ذكوان المعلم
ثقة ثبت
👤←👥الفضيل بن الحسين الجحدري، أبو كامل
Newالفضيل بن الحسين الجحدري ← خالد بن الحارث الهجيمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
2541
لا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها
سنن النسائى الصغرى
3787
لا يجوز لامرأة هبة في مالها إذا ملك زوجها عصمتها
سنن النسائى الصغرى
3788
لا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها
سنن أبي داود
3547
لا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها
سنن أبي داود
3546
لا يجوز لامرأة أمر في مالها إذا ملك زوجها عصمتها
سنن ابن ماجه
2388
لا يجوز لامرأة في مالها إلا بإذن زوجها إذا هو ملك عصمتها
بلوغ المرام
733
لا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 3547 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3547
فوائد ومسائل:
فائدہ: یعنی شوہر کے مال میں سے کیونکہ عورت اس کی امین ہوتی ہے اور یہ ممانعت اس وقت اور موکد ہوجاتی ہے، جب عورت مالی معاملات میں نادان ہو۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3547]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 733
مفلس قرار دینے اور تصرف روکنے کا بیان
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ کسی عورت کو اپنے ذاتی مال میں کوئی معاملہ کرنے کا اختیار نہیں جب اس کا شوہر اس کی عصمت کا مالک ہو۔ اسے احمد اور اصحاب سنن نے ترمذی کے علاوہ روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 733»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، البيوع، باب في عطية المرأة بغير إذن زوجها، حديث:3547، والنسائي، الزكاة، حديث:2541، وابن ماجه، الصدقات، حديث:2388، وأحمد:2 /179، 184، 207، والحاكم:2 /47.»
تشریح:
1. اس حدیث سے بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنے ذاتی اثاثے میں اپنے شوہر کی اجازت و رضامندی کے بغیر کسی قسم کا تصرف کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
2.مشہور تابعی حضرت طاوُس رحمہ اللہ اسی حدیث کی روشنی میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ کوئی عورت اپنے ذاتی مال میں بھی شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف نہ کرے۔
3. امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورت صرف ایک تہائی میں شوہر کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتی ہے‘ مگر باقی ائمۂ ثلاثہ اور جمہور علماء عورت کے اس کے ذاتی مال میں تصرف کو جائز سمجھتے ہیں۔
اور عورت کا ذاتی مال وہ ہے جو اسے مہر کی صورت میں شوہر کی طرف سے ملتا ہے۔
اسی طرح والدین کی طرف سے ملنے والا مال اور اس کی سہیلیوں اور رشتہ داروں کے دیے ہوئے تحائف و عطیات وغیرہ‘ نیز اس کا تجارتی منافع بھی اس کا ذاتی مال ہے‘ اس پر شوہر یا کسی اور کا کوئی حق نہیں‘ اس لیے وہ اسے اپنی مرضی سے صرف کر سکتی ہے۔
قرآن مجید اور احادیث میں انفاق فی سبیل اللہ کا عمومی حکم اس کا مقتضی ہے‘ تاہم عورت اگر خاوند سے مشورہ کرے‘ یا اس سے اجازت حاصل کرے تو یہ ان کے مابین حسن سلوک اور باہمی اعتماد میں اضافے کا باعث ہوگا جس کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 733]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2541
شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کے عطیہ دینے کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا، تو تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے (منجملہ اور باتوں کے) اپنی تقریر میں فرمایا: کسی عورت کا اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا جائز نہیں، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2541]
اردو حاشہ:
اس سے مراد خاوند کے گھر سے عطیہ ہے ورنہ اگر عورت اپنے مال سے عطیہ دے تو خاوند کی اجازت ضروری نہیں۔ لیکن پھر بھی حسن معاشرت اور خاوند کو اعتماد میں لینے کے لیے اس سے صلاح مشورہ کرلینا ہی بہتر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2541]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3787
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جب اس کی عصمت کا مالک اس کا شوہر ہو گیا جائز نہیں کہ وہ اپنے مال میں سے ہبہ و بخشش کرے، اس حدیث کے الفاظ (راوی حدیث) محمد بن معمر کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3787]
اردو حاشہ:
اس حدیث سے ظاہراً یہ معلوم ہوتا ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے بھی عطیہ نہیں دے سکتی۔ اگر یہ مفہوم ہو تو پھر حکم استحبابی ہوگا تاکہ خاوند بیوی میں بدمزگی پیدا نہ ہو کیونکہ بہت سی احادیث صحیحہ میں خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ کرنے کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ نے بارہا آپ کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں تصرف فرمایا‘ جیسے حضرت میمونہؓ نے آپ کو بتائے بغیر اپنی لونڈی آزاد کی۔ حضرت عائشہؓ نے آپ کو بتائے بغیر بریرہ کو خریدنے کا پروگرام بنایا وغیرہ۔ یا اس روایت میں اپنے مال سے مراد خاوند کا مال ہوگا جو عورت کے تصرف میں ہوتا ہے۔ اس میں لازماً اجازت ہونی چاہیے۔ تمام دلائل کا لحاظ رکھنا ضروری ہے نہ کہ صرف عورت ایک روایت کا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3787]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3788
شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کا عطیہ دینا (کیسا ہے)۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اپنے خطبہ میں آپ نے فرمایا: کسی عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو عطیہ دینا جائز و درست نہیں۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب العمرى/حدیث: 3788]
اردو حاشہ:
محقق کتاب نے یہاں اس حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے۔ پیچھے حدیث: 2541 میں اس کی سند کو حسن اور سنن ابوداود (حدیث: 3547) میں مطلقاً حسن کہا ہے۔ محقق کتاب کا عمل یہاں اس حدیث کی سند کو ضعیف کہنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ دلائل کی رو سے راجح بات یہ ہے کہ حدیث اور قابل عمل ہے۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3788]

الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3546
شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا کسی کو کچھ دے دینا ناجائز ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے نکاح میں رہتے ہوئے جو اس کی عصمت کا مالک ہے اپنا مال اس کی اجازت کے بغیر خرچ کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3546]
فوائد ومسائل:
فائدہ: شوہر کے مال میں تصرف کے لئے واجب ہے کہ اس کی اجازت سے ہو۔
اورعورت کا اپنے مال میں تصرف بھی شوہر کی موافقت سے ہو تو بہت عمدہ ہے۔
ورنہ بلااجازت بھی خیر کے معاملات میں تصرف کرسکتی ہے، جیسے کہ صحابیات کو صدقات کی ترغیب دی جاتی۔
تو وہ صدقات دیتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبول فرماتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3546]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2388
شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی ہبہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا: کسی عورت کا اپنے مال میں بغیر اپنے شوہر کی اجازت کے تصرف کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ وہ اس کی عصمت (ناموس) کا مالک ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الهبات/حدیث: 2388]
اردو حاشہ:
فوائد کےلیے:
دیکھیے حدیث: 2294کےفوائد
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2388]