سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب فيمن أفسد شيئا يغرم مثله
باب: جو شخص دوسرے کی چیز ضائع اور برباد کر دے تو ویسی ہی چیز تاوان میں دے۔
حدیث نمبر: 3568
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي فُلَيْتٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:" مَا رَأَيْتُ صَانِعًا طَعَامًا مِثْلَ صَفِيَّةَ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَبَعَثَتْ بِهِ فَأَخَذَنِي أَفْكَلٌ فَكَسَرْتُ الْإِنَاءَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْتُ؟، قَالَ: إِنَاءٌ مِثْلُ إِنَاءٍ، وَطَعَامٌ مِثْلُ طَعَامٍ".
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا (اچھا) کھانا پکاتے کسی کو نہیں دیکھا، ایک دن انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا پکا کر آپ کے پاس بھیجا (اس وقت آپ میرے یہاں تھے) میں غصہ سے کانپنے لگی (کہ آپ میرے یہاں ہوں اور کھانا کہیں اور سے پک کر آئے) تو میں نے (وہ) برتن توڑ دیا (جس میں کھانا آیا تھا)، پھر میں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے جو حرکت سرزد ہو گئی ہے اس کا کفارہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کے بدلے ویسا ہی برتن اور کھانے کے بدلے ویسا ہی دوسرا کھانا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3568]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”میں نے کوئی عورت نہیں دیکھی جو صفیہ رضی اللہ عنہا جیسا کھانا بنانے والی ہو۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (میرے گھر میں) بھیج دیا۔ مجھے اس پر طیش آ گیا، تو میں نے برتن توڑ دیا۔ پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کا کیا کفارہ ہے جو میں نے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برتن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔“” [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عشرة النساء 4 (3409)، (تحفة الأشراف: 17827)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/148، 277) (ضعیف)» اس کی روایہ جسرة لین الحدیث ہیں، صحیح یہ ہے کہ کھانا بھیجنے والی ام سلمہ رضی اللہ عنہا تھیں جیسا کہ نسائی کی ایک صحیح روایت (نمبر 3408) میں ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3409 وسنده حسن) جسرة بنت دجاجة مختلف فيھا وحديثھا حسن علي الراجح
أخرجه النسائي (3409 وسنده حسن) جسرة بنت دجاجة مختلف فيھا وحديثھا حسن علي الراجح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥جسرة بنت دجاجة العامرية جسرة بنت دجاجة العامرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | مقبول | |
👤←👥أفلت بن خليفة العامري، أبو حسان أفلت بن خليفة العامري ← جسرة بنت دجاجة العامرية | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أفلت بن خليفة العامري | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3409
| إناء كإناء وطعام كطعام |
سنن أبي داود |
3568
| إناء مثل إناء وطعام مثل طعام |
Sunan Abi Dawud Hadith 3568 in Urdu
جسرة بنت دجاجة العامرية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق