یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ولیمہ کا بیان
حدیث نمبر: 899
وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: إذا اجتمع داعيان فأجب أقربهما بابا فإن سبق أحدهما فأجب الذي سبق. رواه أبو داود وسنده ضعيف.
اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب دو آدمیوں نے دعوت طَعام دی ہو تو جس کا دروازہ متصل و قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو اور ان میں سے جو پہلے دعوت دے اس کی دعوت قبول کر لو۔“ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اس کی سند ضعیف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 899]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق، حديث:3756.* أبو خالد الدارلاني عنعن.»
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
3756
| إذا اجتمع الداعيان فأجب أقربهما بابا فإن أقربهما بابا أقربهما جوارا وإن سبق أحدهما فأجب الذي سبق |
بلوغ المرام |
899
| إذا اجتمع داعيان فاجب اقربهما بابا فإن سبق احدهما فاجب الذي سبق |
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 899 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 899
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق، حديث:3756.* أبو خالد الدارلاني عنعن.» تشریح:
1. مصنف رحمہ اللہ نے یہ روایت موقوفًا بیان کی ہے جبکہ سنن ابی داود میں مرفوعاً مذکور ہے۔
2.مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے‘ نیز مسند احمد کے محققین نے اسے سنداً حسن قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ /۴۵۲)
«أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب إذا اجتمع داعيان أيهما أحق، حديث:3756.* أبو خالد الدارلاني عنعن.»
1. مصنف رحمہ اللہ نے یہ روایت موقوفًا بیان کی ہے جبکہ سنن ابی داود میں مرفوعاً مذکور ہے۔
2.مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے‘ نیز مسند احمد کے محققین نے اسے سنداً حسن قرار دیا ہے۔
بنابریں مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۳۸ /۴۵۲)
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 899]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3756
جب دو آدمی ایک ساتھ دعوت دیں تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی دعوت قبول کی جائے۔
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3756]
ایک صحابی رسول سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو دعوت دینے والے ایک ساتھ دعوت دیں تو ان میں سے جس کا مکان قریب ہو اس کی دعوت قبول کرو، کیونکہ جس کا مکان زیادہ قریب ہو گا وہ ہمسائیگی میں قریب تر ہو گا، اور اگر ان میں سے کوئی پہل کر جائے تو اس کی قبول کرو جس نے پہل کی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأطعمة /حدیث: 3756]
فوائد ومسائل:
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے۔
اور اکثر علماء کا عمل بھی اسی پر ہے۔
فائدہ: یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم دیگر صحیح احادیث سے بھی یہ ترتیب ثابت ہے۔
اور اکثر علماء کا عمل بھی اسی پر ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3756]
Bulughul Maram Hadith 899 in Urdu