یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب في قدر موضع الإزار
باب: تہ بند (لنگی) کہاں تک پہنے؟
حدیث نمبر: 4096
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ، رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ، فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ، قُلْتُ: لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الْإِزْرَةَ؟ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتَزِرُهَا".
عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں؟ تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4096]
جناب عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تہبند باندھے دیکھا کہ ان کے تہبند کا اگلا حاشیہ ان کے پاؤں کی پشت کو چھو رہا ہوتا اور پیچھے کی جانب سے اوپر کو اٹھا ہوتا تھا۔ میں نے کہا: ”آپ تہبند اس انداز سے کیوں باندھتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح باندھتے دیکھا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب اللباس /حدیث: 4096]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6215)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (9681) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4370)
مشكوة المصابيح (4370)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4096
| رأيت رسول الله يأتزرها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4096 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4096
فوائد ومسائل:
صحابہ کرام رضی اللہ کی عام عادات میں بھی آپ ؐ کی پیروی کرتے تھے اور اب اہل زمان کی حالت کیا ہے کہ صریح شرعی احکام وفرامین کی مخالفت کرکے بھی بڑے اعلی درجے کے مومن بنتے ہیں۔
صحابہ کرام رضی اللہ کی عام عادات میں بھی آپ ؐ کی پیروی کرتے تھے اور اب اہل زمان کی حالت کیا ہے کہ صریح شرعی احکام وفرامین کی مخالفت کرکے بھی بڑے اعلی درجے کے مومن بنتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4096]
Sunan Abi Dawud Hadith 4096 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي