علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. باب قيام الساعة
باب: قیامت آنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4350
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي صَفْوَانُ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَعْجِزَ أُمَّتِي عِنْدَ رَبِّهَا أَنْ يُؤَخِّرَهُمْ نِصْفُ ذَلِكَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے“۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: پانچ سو سال۔ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4350]
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ میری امت اپنے رب کے ہاں اس بات سے عاجز نہ ہو گی کہ وہ اسے آدھے دن تک مؤخر فرما دے۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ”آدھے دن کی مدت کس قدر ہے؟“ انہوں نے کہا: ”پانچ سو سال۔“ [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: 3864)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/170) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع
شريح بن عبيد لم يدرك سعدًا انظر تھذيب الكمال للمزي (3/ 380 تحقيق بشار عواد معروف)
وله شاھد ضعيف منقطع عند أحمد (170/1ح 1464)
وحديث أبي داود (4349 سنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
إسناده ضعيف
السند منقطع
شريح بن عبيد لم يدرك سعدًا انظر تھذيب الكمال للمزي (3/ 380 تحقيق بشار عواد معروف)
وله شاھد ضعيف منقطع عند أحمد (170/1ح 1464)
وحديث أبي داود (4349 سنده صحيح) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 154
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4350
| أرجو أن لا تعجز أمتي عند ربها أن يؤخرهم نصف |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4350 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4350
فوائد ومسائل:
اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ اس کا تعلق یومِ قیا مت سے ہے، یعنی اس روز اللہ تعالٰی غریبوں کو پہلے جنت میں بھیج دے گا اور مال داروں کو ان سے ملنے میں پانچ سو سال کی مدت لگ جائے گی۔
یہ بات دوسری احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔
اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ اس کا تعلق یومِ قیا مت سے ہے، یعنی اس روز اللہ تعالٰی غریبوں کو پہلے جنت میں بھیج دے گا اور مال داروں کو ان سے ملنے میں پانچ سو سال کی مدت لگ جائے گی۔
یہ بات دوسری احادیث میں بھی بیان کی گئی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4350]
Sunan Abi Dawud Hadith 4350 in Urdu
شريح بن عبيد الحضرمي ← سعد بن أبي وقاص الزهري