سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب العفو عن الحدود، ما لم تبلغ السلطان
باب: حاکم تک پہنچنے سے پہلے حد کو نظر انداز کرنا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 4376
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَعَافُّوا الْحُدُودَ فِيمَا بَيْنَكُمْ فَمَا بَلَغَنِي مِنْ حَدٍّ فَقَدْ وَجَبَ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کو آپس میں نظر انداز کرو، جب حد میں سے کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی“ (اسے معاف نہیں کیا جا سکتا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4376]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/قطع السارق 5 (4889)، (تحفة الأشراف: 8747) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (4890)
ابن جريج عنعن
والحديث الآتي (الأصل : 4394) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
إسناده ضعيف
نسائي (4890)
ابن جريج عنعن
والحديث الآتي (الأصل : 4394) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 155
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4376
| تعافوا الحدود فيما بينكم فما بلغني من حد فقد وجب |
سنن النسائى الصغرى |
4890
| تعافوا الحدود قبل أن تأتوني به فما أتاني من حد فقد وجب |
سنن النسائى الصغرى |
4890
| تعافوا الحدود فيما بينكم فما بلغني من حد فقد وجب |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4376 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4376
فوائد ومسائل:
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے، تاہم یہ حدیث معنوی شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق میں اس بات کا اظہار کیا ہے۔
دیکھیے حدیث ھٰذا کی تخریج وتحقیق۔
2۔
قاضی اور حاکم کو قطعا روا نہیں کہ حدود شرعیہ کی تنفیذ میں ٹال مٹول سے کام لے۔
3۔
خود مجرم یا اس کو دیکھنے والے گواہوں پرواجب نہیں کہ یہ معاملہ قاضی تک پہنچائیں۔
اگر معاملہ قابل ستر اور قابل معافی ہو تو اس اعتماد پرکہ مرتکب جرم آئندہ محتاط رہے گا، اس سے درگزر کیا جا سکتا ہے۔
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے، تاہم یہ حدیث معنوی شواہد کی بنا پر حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق میں اس بات کا اظہار کیا ہے۔
دیکھیے حدیث ھٰذا کی تخریج وتحقیق۔
2۔
قاضی اور حاکم کو قطعا روا نہیں کہ حدود شرعیہ کی تنفیذ میں ٹال مٹول سے کام لے۔
3۔
خود مجرم یا اس کو دیکھنے والے گواہوں پرواجب نہیں کہ یہ معاملہ قاضی تک پہنچائیں۔
اگر معاملہ قابل ستر اور قابل معافی ہو تو اس اعتماد پرکہ مرتکب جرم آئندہ محتاط رہے گا، اس سے درگزر کیا جا سکتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4376]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4890
کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4890]
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4890]
اردو حاشہ:
مذکورہ بالا دونوں روایات کو محقق کتاب نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے کہا کہ یہ روایات شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ سلسلہ صحیحہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود ؓ کی روایت ذکر کی ہے جو اسی مفہوم کی ہے۔ دیکھیے: (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1638) اس لیے راجح بات یہی ہے کہ یہ روایات قابل استدلال ہیں۔ واللہ أعلم
مذکورہ بالا دونوں روایات کو محقق کتاب نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے کہا کہ یہ روایات شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ سلسلہ صحیحہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود ؓ کی روایت ذکر کی ہے جو اسی مفہوم کی ہے۔ دیکھیے: (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1638) اس لیے راجح بات یہی ہے کہ یہ روایات قابل استدلال ہیں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4890]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4890
کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4890]
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حدود کو آپس ہی میں معاف کر دو، جب حد کی کوئی چیز میرے پاس پہنچ گئی تو وہ واجب ہو گئی“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4890]
اردو حاشہ:
مذکورہ بالا دونوں روایات کو محقق کتاب نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے کہا کہ یہ روایات شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ سلسلہ صحیحہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود ؓ کی روایت ذکر کی ہے جو اسی مفہوم کی ہے۔ دیکھیے: (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1638) اس لیے راجح بات یہی ہے کہ یہ روایات قابل استدلال ہیں۔ واللہ أعلم
مذکورہ بالا دونوں روایات کو محقق کتاب نے ابن جریج کی تدلیس کی وجہ سے سندا ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے کہا کہ یہ روایات شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔ سلسلہ صحیحہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود ؓ کی روایت ذکر کی ہے جو اسی مفہوم کی ہے۔ دیکھیے: (سلسلة الأحادیث الصحیحة، حدیث: 1638) اس لیے راجح بات یہی ہے کہ یہ روایات قابل استدلال ہیں۔ واللہ أعلم
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4890]
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي