🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الرجل يعترف بحد ولا يسميه
باب: آدمی یہ اعتراف کرے کہ وہ حد کا مستحق ہے لیکن جرم نہ بتائے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4381
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ عَفَا عَنْكَ".
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حد کا مرتکب ہو گیا ہوں تو آپ مجھ پر حد جاری کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا جس وقت تم آئے تو وضو کیا؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت ہم نے نماز پڑھی تم کیا تو نے بھی نماز پڑھی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اللہ نے تمہیں معاف کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے حد کا ارتکاب کیا ہے (جرم قابل حد ہے)، مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بھلا تو نے آتے وقت وضو کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے ہمارے ساتھ مل کر نماز پڑھی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اللہ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4381]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/التوبة 7 (2765)، (تحفة الأشراف: 4878)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/251، 262، 265) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2765)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥صدي بن عجلان الباهلي، أبو أمامةصحابي
👤←👥شداد بن عبد الله القرشي، أبو عمار
Newشداد بن عبد الله القرشي ← صدي بن عجلان الباهلي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← شداد بن عبد الله القرشي
ثقة مأمون
👤←👥عمر بن عبد الواحد السلمي، أبو حفص
Newعمر بن عبد الواحد السلمي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥محمود بن خالد السلمي، أبو علي
Newمحمود بن خالد السلمي ← عمر بن عبد الواحد السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
7007
أليس قد توضأت فأحسنت الوضوء قال بلى يا رسول الله قال ثم شهدت الصلاة معنا فقال نعم يا رسول الله قال فقال له رسول الله فإن الله قد غفر لك
سنن أبي داود
4381
توضأت حين أقبلت قال نعم قال هل صليت معنا حين صلينا قال نعم قال اذهب فإن الله قد عفا عنك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4381 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4381
فوائد ومسائل:
1) جرم کی صراحت کے بغیر کسی حد کا اقرار کرنے سے کوئی حدلاگو نہیں ہوسکتی۔

2) جب کسی کے دل میں ایمان جاگزیں ہوجاتا ہے اور اسے اپنی آخرت کی فکر ہوتی ہے تو وہ ہر طرح کی کوشش کرتا ہے کہ اس دنیا سے پاک صاف ہوکراللہ کے حضور پیش ہو۔

3) وضو نماز باجماعت اور ہرطرح کے اعمال صالحہ انسان کی چھوٹی موٹی تفصیرات کا کفارہ بنتے رہتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4381]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 7007
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فر تھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اس دوران اچانک ایک آدمی آیا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قابل حد گناہ کا مرتکب ہوا ہوں، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دینے سے خاموشی اختیار کی، اس نے اپنی بات کا پھر اعادہ کیا اور کہا، اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7007]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
روایات سے مجموعی طور پر یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہاں سے حد سے مراد گناہ ہی ہے،
جس کو اس نے اپنی ایمانی پختگی کی وجہ سے بڑا خیال کیا اور آپ نے فرمایا،
"وضو اور نماز میں،
ایک مسلمان جو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہے،
وضو کے بعد اللهم اغفرلی کہتا ہے تو یہی دعا اس کے لیے بخشش کا باعث بن جاتی ہے،
کیونکہ یہ دعائیں اگر شعور و احساس کے ساتھ،
معنی پر نظر رکھتے ہوئے پڑھی جائیں تو یہ توبہ پر مشتمل ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7007]

Sunan Abi Dawud Hadith 4381 in Urdu